أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ عُرِضَ عَلَيۡهِ بِالۡعَشِىِّ الصّٰفِنٰتُ الۡجِيَادُ ۞

ترجمہ:

جب اس کے سامنے پچھلے پہر سدھے ہوئے تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے

تفسیر:

ص ٓ: ٣١ میں ” العشی “ کا لفظ ہے۔ زوال آفتاب کے بعد سے لے کر دن کے آخر وقت تک کو العشی کہتے ہیں۔ اس آیت میں ” الصفنات “ کا لفظ ہے، یہ صافنۃ کی جمع ہے اور اس کا مادہ صفون ہے اور اس کا معنی ہے : قیام کرنا اور کھڑا ہونا اور اس کا دوسرا معنی ہے : گھوڑے کا اگلا ایک پیر اٹھا کر پچھلے تین پیروں پر کھڑا ہونا اور اس سے مقصود یہ ہے کہ وہ سدھے ہوئے گھوڑے تھے، چپ چاپ کھڑے رہتے تھے۔ بلاوجہ اچھل کود نہیں کرتے تھے اور جیساد کا معنی ہے تیز رو اور تیز رفتار گھوڑے۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑوں کی تعداد کے متعلق مختلف اقوال

مقاتل نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد حضرت دائود (علیہ السلام) کی طرف سے ایک ہزار گھوڑوں کے وارث ہوئے تھے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) تو کسی کو اپنے مال کا وارث نہیں بناتے، اس کا جواب یہ ہے کہ وارثت سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک ہزار گھوڑوں کے انتظام کے متولی تھے۔ حسن بصری، ضحاک، ابن زید اور حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پروں والے ایک سو گھوڑے تھے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٥ ص ١٧٤)

پروں والے گھوڑوں کی تاید میں یہ حدیث ہے :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک یا غزوہ خیبر سے واپس آئے اور ان کے طاق (الماری) پر پردہ پڑا ہوا تھا، ہوا کے جھونکے سے طاق پر پڑے ہوئے پردہ کی ایک جانب کھل گئی اور حضرت عائشہ (رض) کی الماری میں رکھی ہوئی گڑیاں نظر آئیں، آپ نے پوچھا : اے عائشہ ! یہ کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ میری بیٹیاں ہیں اور آپ نے گڑیوں کے درمیان کپڑے کی دھجیوں سے بنائے ہوئے گھوڑے کو دیکھا جس کے دو پر بھی بنائے ہوئے تھے، آپ نے پوچھا : میں ان گڑیوں کے وسط میں کیا چیز دیکھ رہا ہوں ؟ حضرت عائشہ نے کہا : یہ گھوڑا ہے، آپ نے پوچھا : اس کے اوپر کیا چیز بنی ہوئی ہے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : یہ اس کے دو پر ہیں، آپ نے پوچھا : گھوڑے کے پر ہیں ؟ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑوں کے پر تھے، حضرت عائشہ (رض) نے کہا : یہ سن کر آپ اس قدر ہنسے کہ میں نے آپ کی ڈاڑھیں دیکھیں۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٩٣٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 38 ص آیت نمبر 31