أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ۞

ترجمہ:

یہ اسی جگہ کفار کا شکست خوردہ حقیر لشکر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

یہ اسی جگہ کفار کا شکست خوردہ حقیر لشکر ہے ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والے فرعون کی قوم تکذیب کرچکی ہے اور ثمود اور لوط کی قوم اور اصحاب ایکہ یہ کفار کے گروہ ہیں ان میں سے ہر گروہ نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب ثابت ہوگیا (ص ٓ: ١٤۔ ١١)

ص ٓ: ١١ میں ” جند “ کا لفظ ہے، جند اس جماعت کو کہتے ہیں جو کسی سے جنگ کے لئے تیار ہوتی ہے، اس کے بعد ” ما “ کا لفظ ہے، یہ تحقیر اور تقلیل کے لئے ہے، یعنی یہ بہت چھوٹی اور حقیر جماعت تھی، اس کے بعد ” ھنالک “ کا لفظ ہے، اس سے اس جنگ کرنے والی حقیر جماعت کی جگہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد ” مھزوم “ کا لفظ ہے، ھزم کا معنی ہے کسی چیز کو توڑنا، ھزم العدوکا معنی ہے دشمن کو شکست دینا اور مھزوم کا معنی ہے شکست خوردہ اور حزب کا معنی ہے بڑی بھاری جماعت۔ اس آیت کا معنی ہے کہ جس جگہ کفار کی یہ جماعتیں مل کر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر زبان طعن دراز کررہی تھیں اسی جگہ ان کی لڑنے والی ایک قلیل اور حقیر جماعت شکست کھائے گی۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا تھا کہ اگر بالفرض یہ آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کے مالک ہیں تو پھر یہ رسیاں باندھ کر آسمانوں پر چڑھ جائیں اور عرش پر قبضہ کرکے دنیا کے نظم ونسق کو چلائیں، پھر جس کو چاہیں اپنی مرضی سے نبی بنائیں اور اس پر وحی نازل کریں، اب اس آیت میں حقیقت حال بیان فرمائی ہے کہ یہ لوگ آسمانوں اور زمینوں کے کیا مالک ہوں گے یہ تو ایک کم تعداد کی حقیر جماعت ہے جو عنقریب اسی جگہ شکست کھاجائے گی، جس جگہ یہ ہمارے نبی (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر اعتراض کررہی ہے اور یہ لوگ مکہ میں آپ کی نبوت پر اعتراض کررہے تھے تو فتح مکہ کے دن معمولی سی جنگ کے بعد کفار کی تمام جماعتیں شکست کھاگئیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی نبوت پر اعتراض کرنے والی جماعت سابقہ رسولوں کی نبوت پر اعتراض کرنے والی جماعتوں کی طرح ہے سو آپ ان کے اعتراضات کی پرواہ نہ کریں اور ان کے طعن اور ملامت سے افسردہ اور غمگین نہ ہوں، سابقہ زمانوں میں کافروں کی وہ جماعتیں بھی شکست کھا چکی تھیں، سو کافروں کی یہ جماعت بھی ایک دن اسی جگہ آپ سے مقابلہ میں شکست کھاجائے گی اور فتح مکہ کے دن اسی طرح ہوا، اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ یہ کفار بھی عاجز ہیں اور ان کے خود ساختہ معبود بھی عاجز ہیں۔ ان کے پاس اپنے معبودوں کے حق ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ان کے معبودان سے کسی ضرر کو دور کرسکتے ہیں اور نہ کسی نفع کو پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں۔

سابقہ امتوں پر ان کی تکذیب کی وجہ سے عذاب کا نازل ہونا

اس کے بعد فرمایا : ” ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والے فرعون کی قوم تکذیب کرچکی ہے “ (ص ٓ: ١٢) اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کفار کے شبہ کے جواب میں یہ فرمایا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل میں غور و فکر سے کام نہیں لیا اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت پر جو معجزات تھے ان کو کھلی آنکھوں اور کھلے دل و دماغ سے نہیں پرکھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان پر عذاب نازل نہیں کیا گیا تھا۔ اب ان آیات میں یہ بیان فرمایا کہ تمام انبیاء سابقین کی قوموں کا یہی حال رہا ہے، وہ اپنے نبیوں کی نبوت کا کفر اور انکار کرتے رہے اور ان کے پیغام کا انکار کرتے رہے تاآنکہ ان پر عذاب نازل ہوگیا اور اس سے مقصود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے کافروں کو ڈرانا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور آپ کے پیغام کا مسلسل انکار کررہے تھے، اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے چھ کافر قوموں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں اپنے نبیوں کی نبوت کا انکار کیا تھا، ان میں سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا، جب انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیغام کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے طوفان بھیج کر ان کو غرض کردیا اور دوسری حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد تھی، جب انہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے آندھیوں کا عذاب بھیج کر ان کو ہلاک کردیا اور تیسری فرعون کی قوم تھی، جب اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کی قوم کو سمندر میں غرق کردیا اور چوتھی حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود تھی، جب اس نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ایک دہشت ناک چیخ بھیج کر اس قوم کو ہلاک کردیا اور پانچویں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم تھی، جب اس نے حضرت لوط کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے اوپر اس کی زمین کو پلٹ دیا اور چھٹی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی جس کو اصحاب ایکہ فرمایا ہے۔ ایکہ کا معنی ہے گھنا جنگل، یہ قوم گھنے جنگل میں رہتی تھی، جب اس نے تکذیب کی تو اس پر وہیں بادلوں سے عذاب نازل کردیا گیا۔ بعض روایات کے مطابق سات دن تک ان پر سخت گرمی اور دھوپ مسلط کردی گئی، اس کے بعد بادلوں کا سایہ آیا اور وہ سب گرمی اور دھوپ کی شدت سے بچنے کے لئے اس کے سائے تلے جمع ہوگئے لیکن چند لمحے بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنا شروع ہوگئے، زمین زلزلہ سے لرزنے لگی اور ایک سخت چنگھاڑ نے انہیں ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سلا دیا، یہ عذاب ان پر اس دن آیا تھا جب ان پر بادل سایہ فگن تھا، اس لئے اس کو ” یوم الظلۃ “ کا عذاب فرمایا ہے، یعنی سائبان والے دن کا عذاب۔

فرعون کو میخوں والے کہنے کی وجہ تسمیہ

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ میخوں والا تھا، اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں۔

(١) جب کسی چیز میں کیلیں ٹھونک دی جاتیں ہیں تو وہ چیز پختہ اور مضبوط ہوجاتی ہے، فرعون نے بھی اپنی سلطنت کو مضبوط اسلحہ اور بہت بڑے لشکر سے بہت مضبوط اور مستحکم بنایا ہوا تھا، اس لیے اس کو میخوں والا فرمایا۔

(٢) اس نے فضا میں چار لکڑیاں نصب کردیں تھی، اس نے جب کسی مجرم کو سزادینی ہوتی تو اس کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں کو کیلوں سے ان چار لکڑیوں میں ٹھونک کر اس مجرم کو فضا میں معلق کردیتا، پھر اس کو یوں ہی چھوڑ دیتا حتیٰ کہ وہ مرجاتا۔

(٣) جس کو اس نے سزا دینی ہوتی اس کو زمین میں لٹا کر اس کے ہاتھوں اور پیروں میں کیلیں ٹھونک دیتا، پھر اس کے اوپر سانپ، بچھو اور حشرات الارض چھوڑ دیتا۔

(٤) اس کے لشکر کی بہت بڑی تعداد تھی اور اس کی فوجیں بڑی تعداد میں خیمے میں نصب کرتی تھیں جن کو کیلوں سے ٹھونکا جاتا تھا۔

(٥) اس کے کارندے اس کے احکام پر اس قدر پختگی اور مضبوطی سے عمل کرتے تھے جس طرح کسی چیز کو کیلوں سے ٹھونک کر مضبوط کیا جاتا ہے۔

سابقہ امتوں کے عذاب کو بیان کرکے اہل مکہ کو نزول عذاب سے ڈرانا

اس کے بعد فرمایا : ” اور ثمود اور لوط کی قوم اور اصحاب ایکہ یہ کفار کے گروہ ہیں ان میں سے ہر گروہ نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب ثابت ہوگیا “ (ص ٓ : ١٤۔ ١٣) ثمود، قوم لوط اور اصحاب ایکہ کے عذاب کی تفصیل اس سے پہلے عنوان کے تحت ذکر کی جاچکی ہے، ص ٓ: ١٣ کے آخر میں فرمایا : ” اولٰئک الاحزاب “ اس کی تفسیر میں دو قول ہیں :

(١) ہم نے جن لوگوں کا ذکر کیا ہے انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف محاذ بنا لیا تھا، ہم ان کی تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب نازل کرچکے ہیں، سو اسی طرح اہل مکہ آپ کی مخالفت سے باز نہ آئے تو وہ اس خطرے میں ہیں کہ ان پر عذاب نازل کردیا جائے اور چونکہ آپ کے رحمۃ للعٰلمین ہونے کی وجہ سے ان پر اب آسمانی عذاب نہیں آئے گا تاہم کسی جنگ میں ان پر شکست مسلط کرکے ان کو ضرور عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، جیسے جنگ بدر، جنگ خندق میں اور بالآخر فتح مکہ کے موقع پر ان کی کمر بالکل توڑ دی گئی۔

(٢) ” اولٰئک الاحزاب “ کا معنی ہے : یہ بہت بڑی اور بہت کثیر جماعتیں ہیں اور جب سابقہ زمانہ میں اتنی بڑی بڑی اور اتنی کثیر جماعتیں عذاب سے ہلاک کردی گئیں تو اہل مکہ تو ان کے مقابلے میں بہت کمزور اور مسکین ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سامنے کب ٹھہر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ قوموں مثلاً حضرت نوح ( علیہ السلام) ، حضرت ہود ( علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوموں کو عذاب سے ہلاک کرنے کی خبر دی ہے، اگر کفار مکہ اس خبر کی تصدیق کرتے ہیں تو یہ ان کو نصیحت اور زجر وتوبیخ کرنے کے لئے کافی ہے اور اگر وہ اس خبر کی تصدیق نہیں کرتے پھر بھی اس خبر کے ساتھ ان کو ڈرانا اور نصیحت کرنا صحیح ہے، کیونکہ ان قوموں پر نزول عذاب کے آثار اب بھی موجود ہیں اور جب کفار مکہ، مکہ سے شام کی طرف سفر کرتے ہیں تو ان وادیوں کے پاس سے ان کا گزر ہوتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تھا، تبوک کے ارد گرد پہاڑوں میں ان کے بنائے ہوئے گھروں کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں اور دیکھنے والوں کے لئے عبرت کا نشان بنے ہوئے ہیں۔ اس لئے فرمایا : ” ان میں سے ہر گروہ نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب ثابت ہوگیا “ (ص ٓ: ١٤)

انبیاء (علیہم السلام) جب عذاب سے ڈراتے تھے یا ثواب کی ترغیب دیتے تھے تو یہ ان کی تکذیب کرتے تھے تو پھر ضروری ہوگیا کہ ان پر عذاب نازل کیا جائے، ہرچند کہ ان کو کافی ڈھیل دی گئی اور ان کو ایمان لانے کے لئے کافی وقت دیا گیا لیکن جب بالآخر یہ ایمان نہیں لائے تو پھر ان پر عذاب نازل کردیا گیا اور اس سے مقصود سننے والوں کو ڈرانا اور دھمکانا ہے کہ اگر انہوں نے بھی سابقہ امتوں کی روش قائم رکھی تو ان پر بھی عذاب کا نزول ناگزیر ہوجائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 38 ص آیت نمبر 11