أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ‌ ؕ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡخُلَـطَآءِ لَيَبۡغِىۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ‌ ؕ وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ وَخَرَّ رَاكِعًا وَّاَنَابَ ۩ ۞

ترجمہ:

دائود نے کہا : اس نے تجھ سے دنبی کا سوال کرکے تجھ پر ظلم کیا تاکہ اس کو اپنی دنبیوں کے ساتھ ملائے اور بیشک اکثر شرکاء ایک دو سے پر ضرور زیادتی کرتے ہیں، سوا ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور دائود نے یہ گمان کیا کہ ہم نے ان کو آزمائش میں ڈالا ہے، سو انہوں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور سجدہ میں گرگئے اور اللہ کی طرف رجوع کیا ۞

تفسیر:

حضرت دائود (علیہ السلام) نے صرف ایک فریق کے بیان پر کیوں فیصلہ کیا ؟

ص ٓ: ٢٤ میں فرمایا : ” دائود نے کہا : اس نے تجھ سے دنبی کا سوال کرکے تجھ پر ظلم کیا ہے تاکہ اس کو اپنی دنبیوں سے ملائے۔ “ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ محض ایک فریق کا بیان اور الزام سن کر حضرت دائود (علیہ السلام) کے لئے یہ کس طرح جائز ہوگیا کہ انہوں نے دوسرے فریق کو قصور وار اور ظالم قرار دیا، اس کے حسب ذیل جوابات دیئے گئے ہیں :

(١) امام محمد بن اسحاق نے کہا : جب فریق اول اپنے دعویٰ اور الزام سے فارغ ہوگیا تو حضرت دائود (علیہ السلام) نے فریق ثانی کی طرف دیکھا کہ وہ اپنی صفائی میں کیا کہتا اور جب وہ بالکل خاموش رہا تو حضرت دائود (علیہ السلام) نے جان لیا کہ فریق اوّل کا دعویٰ اور الزام برحق ہے اور فریق ثانی واقعی ظالم ہے۔

(٢) علامہ ابن الانباری نے کہا : جب فریق اوّل نے فریق ثانی کے خلاف دعویٰ کیا تو فریق ثانی نے اعتراف کرلیا کہ واقعی اس نے ظلم کیا ہے اور اس کے اعتراف کی بناء پر حضرت دائود (علیہ السلام) نے اس کو ظالم قرار دیا اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کیا عتراف کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ کلام کے سیاق وسباق سے اس کا اعتراف بالکل ظاہر ہے۔

(٣) حضرت دائود (علیہ السلام) کے کلام کی توجیہ یہ ہے کہ اگر واقعی فریق ثانی نے فریق اوّل سے اس کی دنبی کا مطالبہ کیا ہے تو پھر وہ یقینا ظالم ہے۔ اس کے بعد حضرت دائود (علیہ السلام) نے کہا : اور بیشک اکثر شرکاء ایک دوسرے پر ضرور زیادتی کرتے ہیں۔ “

اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ زیادتی کرنے میں شرکاء کی کیا تخصیص ہے، غیر شرکاء بھی ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شرکت کے معاملہ میں زیادتی اور عدوان کا داعیہ بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس انسان اپنے شریک کے پاس عمدہ اور نفیس چیزیں دیکھتا ہے اور شریک ہونے کی وجہ سے اس کو اپنے شریک کے مال میں تصرف کرنے کے بھی مواقع حاصل ہوتے ہیں، اس وجہ سیحضرت دائود (علیہ السلام) نے خصوصیت کے ساتھ شرکاء کے متعلق فرمایا : ” اور بیشک اکثر شرکاء ایک دوسرے پر ضرور زیادتی کرتے ہیں۔ “ پھر مؤمنین صالحین کو اس قاعدہ سے مستثنیٰ فرمایا اور کہا : ” سو ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں “ یہ اس طرح ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وقلیل من عبادی الشکور (سباء : ١٣) اور شکر ادا کرنے والے میرے بندے بہت کم ہیں۔

حضرت دائود (علیہ السلام) کے استغفار کی توجہیات

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور دائود نے یہ گمان کیا کہ ہم نے ان کو آزمائش میں ڈالا ہے، سو انہوں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور سجدہ میں گرگئے اور اللہ کی طرف رجوع کیا تو ہم نے ان کی اس بات کو معاف کردیا اور بیشک ان کے لئے ہماری بارگاہ میں تقرب ہے اور بہترین ٹھکانا ہے (ص ٓ: ٢٥۔ ٢٤) حضرت دائود (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے جو استغفار کیا تھا اس کے حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) دو انسان دیوار پھاند کر آپ کے حجرے میں آپ کو قتل کرنے کے قصد سے داخل ہوئے، آپ بہت قوی بادشاہ تھے اور ان دونوں کو سزا دینے پر پوری طرح قادر تھے، اس کے باوجود آپ نے درگزر فرمایا تو ہوسکتا ہے کہ آپ کے دل میں اپنی اس نیکی پر عجب اور فخر کا احساس پیدا ہوجاتا، تو آپ نے اس کیفیت سے استغفار کیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور یہ اعتراف کیا کہ ان کو یہ نیکی محض اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حاصل ہوئی ہے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا اور ان کے دل میں جو خیال آیا تھا اس سے در گزر فرمایا۔

(٢) ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ ان آنے والے انسانوں کو سخت سزا دیں، پھر خیال آیا کہ ان کے سامنے کوئی ایسی قطعی دلیل قائم نہیں ہوئی جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ آپ قتل کرنے کے ارادہ سے آئے تھے یا کسی اور شر کے ارادہ سے آئے تھے تو آپ نے ان کو معاف کردیا اور ان کو بلا دلیل جو سزا دینے کا خیال آیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہی۔

(٣) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان دو انسانوں نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کی ہو اور حضرت دائود (علیہ السلام) سے یہ درخواست کی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی مغفرت کے لئے شفاعت کریں، پس حضرت دائود (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے استغفار کیا اور گڑگڑا کر دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کی شفاعت کی وجہ سے ان کو معاف فرما دیا۔

امام فخرالدین محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں : یہ تمام وجوہ یہاں مراد ہوسکتی ہیں اور قرآن مجید میں اس کی بہت مثالیں ہیں اور جب ان آیات کو صحیح معانی پر محمول کیا جاسکتا ہے اور ان اسرائیلی روایات کے حق میں کوئی دلیل قائم نہیں ہے جن میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی طرف اور یا کو قتل کرانے اور اس کی بیوی کے ساتھ آپ کے زنا کی نسبت کی گئی ہے تو بلادلیل ایسی فحش اور منکر روایات کی اللہ کے برگزیدہ نبی کی طرف نسبت کرنا اور یہ کہنا کہ آپ نے ان فحش کاموں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا تھا کب جائز اور درست ہوسکتا ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٣٨٥، مطبوعہ دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابولحیان اندلسی نے کہا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے ان دو انسانوں کے متعلق جو شر کا گمان کیا تھا انہوں نے اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا۔

سورة ص ٓ کے سجدہ کے وجوب میں اختلاف فقہاء

ص ٓ: ٢٤ میں ہے : ” اور (دائود) سجدہ میں گرگئے اور اللہ کی طرف رجوع کیا “۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے : ” اور دائود گرگئے رکوع کرتے ہوئے اور انہوں نے رجوع کیا “۔ مفسرین اور فقہاء نے کہا ہے کہ اس آیت میں رکوع بہ معنی سجدہ ہے۔ فقہاء احناف کے نزدیک یہ دسواں سجدہ تلاوت ہے۔

علامہ علاء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی الحنفی المتوفی ٥٨٧ ھ لکھتے ہیں :

سورة ص ٓ کا سجدہ ہمارے نزدیک سجدہ تلاوت ہے اور امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک یہ سجدہ شکر ہے، ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے نماز میں سورة ص ٓ پڑھی اور سجدہ تلاوت کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ تلاوت کیا، صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ یہ سجدہ ہوا اور اس پر کسی نے انکار نہیں کیا، اگر یہ سجدہ واجب نہ ہوتا تو اس کو نماز میں داخل کرنا جائز نہ ہوتا۔ نیز روایت ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں سورة ص ٓ لکھ رہا ہوں، جب میں سجدہ کی جگہ پر پہنچا تو دوات اور قلم نے سجدہ کیا، تو روسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم دوات اور قلم کی بہ نسبت سجدہ کرنے کے زیادہ حق دار ہیں، پھر آپ نے اس مجلس میں سورة ص ٓ کو پڑھنے کا حکم دیا، پھر آپ نے اور آپ کے اصحاب نے اس آیت پر سجدہ کیا، اس حدیث کو امام ترمذی اور امام حاکم نے روایت کیا ہے اور اس حدیث میں دوات اور قلم کی جگہ درخت کا ذکر ہے اور اس میں درخت کی اس دعا کا ذکر ہے : اے اللہ ! مجھ سے اس سجدہ کو اس طرح قبول فرما جس طرح تو نے اس سجدہ کو اپنے بندہ دائود سے قبول کیا۔ (سنن الترمذی الحدیث : ٥٧٩، المستدرک ج ١ ص ٢٢٠۔ ٢١٩)

علامہ محمود بن احمد بن عبدالعزیز البخاری الحنفی المتوفی ٦١٦ ھ لکھتے ہیں :

سورة ص ٓ کا سجدہ، سجدہ تلاوت ہے اور امام شافعی (رح) نے کہا کہ یہ سجدہ شکر ہے، کیونکہ روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں سورة ص ٓ کی تلاوت کی تو لوگ سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے، پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں سجدہ کے لئے تیار ہوگئے، یہ تو ایک نبی کی توبہ ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص ٤٣٢، سنن دار قطنی ج ١ ص ٤٠٨، السنن الکبریٰ ج ٢ ص ٤٥١) اور روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ ص ٓ کے متعلق فرمایا : حضرت دائود صلوٰت اللہ علیہ نے توبہ کرنے کے لیے یہ سجدہ کیا اور زمین پر گرگئے اور ہم شکر کرنے کے لیے یہ سجدہ کرتے ہیں۔ (السنن الکبریٰ ج ٦ ص ٤٤٢، سنن دار قطنی ج ١ ص ٤٠٧)

ہماری دلیل یہ ہے کہ ایک صحابی نے کہا : یارسول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ میں سورة ص ٓ کو لکھ رہا ہوں، جب میں سجدہ کی جگہ پر پہنچا تو دوات اور قلم نے سجدہ کیا، تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم دوات اور قلم کی بہ نسبت سجدہ کرنے کے زیادہ حق دار ہیں، حتیٰ کہ آپ کی مجلس میں اس کی تلاوت کی گئی اور آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ اس پر سجدہ کیا۔ (المستدرک ج ٢ ص ٤٣٢، السنن الکبریٰ ج ٢ ص ٤٥٣) اور وہ جو اس سے پہلے المستدرک اور سنن دار قطنی کی روایت سے گزرا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں سورة ص ٓ کی تلاوت کی اور اس پر سجدہ نہیں کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ یہ بیان کرنا چاہتے تھے کہ سجدہ تلاوت کرنا فوراً واجب نہیں ہوتا اور اس کو تاخیر سے ادا کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ سورة صٓ کی خطبہ میں تلاوت کی اور اس پر سجدہ کیا (یہ روایت عنقریب آرہی ہے) اور یہ سجدہ تلاوت کے وجوب کی دلیل ہے، کیونکہ آپ نے خطبہ کو منقطع کرکے سجدہ کیا۔ (المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی ج ٢ ص ١٠٣، داراحیاء التراث العربی، ١٤٢٤ ھ؍٢٠٠٣ ء)

فائدہ :

المحیط البرہانی ١٤٢٤ ھ میں دنیا میں پہلی بار طبع ہوئی، اس سے پہلے ہم نے متعدد کتب فقہ میں اس کے حوالہ جات پڑھے تھے جو اس کے مخطوطات سے فراہم کیے گئے تھے ٣١ مئی ٢٠٠٣ ء کو مکتبہ عثمانیہ سے میرے پاس فون آیا کہ گیارہ جلدوں پر مشتمل یہ کتاب آگئی ہے اور اسکی قیمت ٩ ہزار روپے ہے، میں نے اسی وقت رقم بھیج کر یہ کتاب منگوالی اور آج ٤ جون ٢٠٠٣ ء کو اس کا حوالہ بھی درج کردیا، فالحمد للہ علی ذالک۔

سورة ص ٓ کے سجدہ تلاوت کے متعلق احادیث اور آثار

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة ص ٓ کا سجدہ کیا تھا۔ (سنن دار قطنی ١ ص ٤٠٦، رقم الحدیث : ١٤٩٨)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا، آپ نے سورة ص ٓ کی تلاوت کی، جب آپ آیت سجدہ پر پہنچے تو آپ نے منبر پر سے اتر کر سجدہ کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر آپ نے ایک مرتبہ اور اس کی تلاوت کی، جب آپ آیت سجدہ پر پہنچے تو ہم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوئے، جب آپ نے ہم کو دیکھا تو فرمایا : یہ ایک نبی کی توبہ ہے، لیکن میں نے دیکھا کہ تم سجدہ کے لئے تیار ہوئے، پھر آپ منبر سے اترے، پس آپ نے سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٤١٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٩٩٨، المستدرک ج ١ ص ٢٨٤، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ١٤٥٥، سنن دار قطنی رقم الحدیث : ١٥٠٤، جامع المسانید والسنن مسند ابی سعید الخضری رقم : ٨٥٣ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمر (رض) نے منبر پر سورة ص ٓ کی تلاوت کی، پھر انہوں نے منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور پھر منبر پر چڑھ گئے۔ (سنن دار قطنی ج ١ ص ٤٠٦، رقم الحدیث : ١٥٠٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت ١٤١٧ ھ)

سائب بن یزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے منبر پر سورة ص ٓ کی تلاوت کی، پھر منبر سے نیچے اتر کر سجدہ تلاوت ادا کیا۔ (سنن دار قطنی ج ١ ص ٤٠٧، رقم الحدیث : ١٥٠٣) ان احادیث اور آثار میں یہ تصریح کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے خطبہ منقطع کرکے سورة ص ٓ کا سجدہ کیا اور یہ اس سجدہ تلاوت کے وجوب کی دلیل ہے۔

نماز اور خارج از نماز رکوع سے سجدہ تلاوت کا ادا ہونا

ص ٓ: ٢٤ میں ہے :” اور دائود رکوع کرتے ہوئے گرگئے۔ “ اس آیت میں سجدہ کو رکوہ سے تعبیر فرمایا ہے، اس سے فقہاء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ رکوع کرنے سے بھی سجدہ تلاوت ادا ہوجاتا ہے۔ صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

” اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں رکوع کرنا سجدہ تلاوت کے قائم مقام ہوجاتا ہے جب کہ نیت کی جائے۔ “ علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں مجازاً سجدہ پر رکوع کا اطلاق کیا گیا، کیونکہ رکوع کا معنی ہے جھکنا اور جھکنا سجدہ کا سبب ہے، یا یہ مجاز بالا استعارہ ہے کیونکہ سجدہ میں خضوع اور خشوع ہوتا ہے اور جھکنا بھی خضوع اور خشوع کے مشابہ ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے اصحاب نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ سجدہ تلاوت میں رکوع سجدہ کے قائم مقام ہے اور فتاویٰ بزازیہ میں لکھا ہوا ہے کہ اس میں نماز اور غیر نماز میں کوئی فرق نہیں ہے یعنی نماز میں آیت سجدہ پڑھی ہو یا غیر نماز میں دونوں کا سجدہ تلاوت رکوع کرنے سے ادا ہوجاتا ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کا سجدہ شکر تھا اور کلام سجدہ تلاوت میں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ہم حضرت دائود (علیہ السلام) کے فعل سے استدلال نہیں کررہے بلکہ ہم اس سے استدلال کررہے ہیں کہ شارع (علیہ السلام) نے اس رکوع کو سجدہ سے کفایت کرنے والا قرار دیا ہے۔ اور یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ سجدہ تلاوت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معروف یہ ہے کہ آپ سجدہ تلاوت ادا کرنے کے لئے سجدہ کرتے تھے اور کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ آپ نے سجدہ تلاوت ادا کرنے کے لئے سجدہ کے بجائے رکوع کرلیا ہو، خواہ ایک مرتبہ ہی کیا ہو، اسی طرح آپ کے اصحاب (رض) نے بھی کبھیسجدہ تلاوت ادا کرنے کے لئے رکوع نہیں کیا اور استدلال میں جو قیاس ذکر کیا گیا ہے وہ اتنا قوی نہیں ہے، اس لیے زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ سجدہ تلاوت کو سجدہ سے ہی ادا کیا جائے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) سے ایک ایسا فعل صادر ہوگیا تھا جو خلاف اولیٰ تھا اور ان کی شان کے لائق نہ تھا، انہوں نے اس پر توبہ کی، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور ہم اس قبول توبہ کے شکر میں سجدہ کرتے ہیں۔ (روح المعانی جز ٢٣ ص ٢٧٠۔ ٢٦٩، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

علامہ محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی المتوفی ١٠٨٨ ھ اور علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز ابن عابدین، شامی، حنفی، متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

سجدہ تلاوت نماز کے رکوع اور سجود کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے (علامہ شامی فرماتے ہیں : سجدہ تلاوت کے ادا کرنے میں اصل سجدہ کرنا ہے اور وہی افضل ہے، اگر اس نے آیت سجدہ پڑھنے کے بعد علی الفور رکوع کرلیا تو رکوع میں سجدہ ادا ہوجائے گا ورنہ نہیں اور اگر اس نے علی الفور رکوع نہیں کیا تو پھر خصوصیت کے ساتھ سجدہ ادا کرنا ہوگا) اسی طرح اگر اس نے نماز کے باہر آیت سجدہ تلاوت کی ہے، تب بھی رکوع کرنے سے سجدہ تلاوت ادا ہوجائے گا۔ (بزازیہ) (علامہ شامی فرماتے ہیں کہ بدائع الصنائع میں لکھا ہے کہ یہ قول ضعیف ہے، یہ قیاسا صحیح ہے نہ استحسانا) ۔ (الدرالمختاروردالمحتارج ٢ ص ٥١٢ دارحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ) صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی حنفی متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں : نماز کا سجدہ تلاوت سجدہ سے بھی ادا ہوجاتا ہے اور رکوع سے بھی، مگر رکوع سے جب ادا ہوگا کہ فوراً کرے، فوراً نہ کیا تو سجدہ کرنا ضروری ہے اور جس رکوع سے سجدہ تلاوت ادا کیا خواہ وہ رکوع، رکوع نماز ہو یا اس کے علاوہ، اگر رکوع نماز ہے تو اس میں اور سجدہ کی نیت کرے اور اگر خاص سجدہ ہی کے لیے یہ رکوع کیا تو اس رکوع سے اٹھنے کے بعد مستحب یہ ہے کہ دو تین آیتیں یا زیادہ پڑھ کر رکوع کرے اور اگر آیت سجدہ پر سورت ختم ہے

حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنے جس فعل پر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کی تھی اس کے متعلق تورات کا بیان

ص ٓ: ٢٥۔ ٢٤ میں حضرت دائود (علیہ السلام) کے استغفار اور توبہ کرنے کا ذکر ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) سے کوئی ایسا فعل سرزد ہوگیا تھا جس پر انہیں توبہ کرنے کی ضرورت پیش آئی، ان کے اس فعل کا بیان تورات میں بھی ہے اور بعض قدیم مفسرین کی عبارات میں بھی ہے اور بعض محتاط مفسرین کی عبادات میں بھی اور بعض محققین کی عبارات میں بھی ہے ہم ترتیب دار ان سب کی عبارات پیش کریں گے، پہلے ہم تورات کی عبارت پیش کررہے ہیں :”

باب ١١ : اور ایسا ہوا کہ دوسرے سال جس وقت بادشاہ جنگ کے لئے نکلتے ہیں دائود نے یو آب اور اس کے ساتھ اپنے خادموں اور سب اسرائیلیوں کو بھیجا اور انہوں نے بنی عمون کو قتل کیا اور ربہ کو جاگھیرا پر دائود یروشلیم ہی میں رہا اور شام کے وقت دائود اپنے پلنگ پر سے اٹھ کر بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلنے لگا اور چھت پر سے اس نے ایک عورت کو دیکھا جو نہارہی تھی اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی تب دائودنے لوگ بھیج کر اس عورت کا حال دریافت کیا اور کسی نے کا : کیا وہ العام کی بیٹی بت سبع نہیں جو حتی اور ریاہ کی بیوی ہے ؟ اور دائود نے لوگ بھیج کر اسے بلالیا۔ وہ اس کے پاس آئی اور اس نے اس سے صحبت کی (کیونکہ وہ اپنی ناپاکی سے پاک ہوچکی تھی) ۔ پھر وہ اپنے گھر کو چلی گئی اور وہ عورت حاملہ ہوگئی، سو اس نے دائود کے پاس خبر بھیجی کہ میں حاملہ ہوں اور دائود نے یو آب کو کہلا بھیجا کہ حتی اور ریاہ کو میرے پاس بھیج دے۔ سو یوآب نے اور یاہ کو دائود کے پاس بھیج دیا اور جب اور یاہ آیا تو دائود نے بوچھا کہ یو آب کیسا ہے اور لوگوں کا کیا حال ہے اور جنگ کیسی ہورہی ہے ؟ پھر دائود نے اور یاہ سے کہا کہ اپنے گھر جا اور اپنے پائوں دھو اور ریاہ بادشاہ کے محل سے نکلا اور بادشاہ کی طرف سے اس کے پیچھے پیچھے ایک خوان بھیجا گیا پر اور یاہ بادشاہ کے گھر کے آستانہ پر اپنے مالک کے اور سب خادموں کے ساتھ سویا اور اپنے گھر نہ گیا اور جب انہوں نے دائود کو یہ بتایا کہ اور یاہ اپنے گھر نہیں گیا تو دائود نے اور یاہ سے کہا : کیا تو سفر سے نہیں آیا ؟ پس تو اپنے گھر کیوں نہ گیا ؟ اور یاہ نے دائود سے کہا کہ صندوق اور اسرائیل اور یہوداہ جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور میرا مالک یوآب اور میرے مالک کے خادم کھلے میدان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں تو کیا میں اپنے گھر جائوں اور کھائوں پیوں اور اپنی بیوں کے ساتھ سوئوں ؟ تیری حیات اور تیری جان کی قسم ! مجھ سے یہ بات نہ ہوگی پھر دائود نے اور یاہ سے کہا کہ آج بھی تو یہیں رہ جا۔ کل میں تجھے روانہ کردوں گا۔ سو اور یاہ اس دن اور دوسرے دن بھی یروشلم میں رہا اور جب دائود نے اسے بلایا تو اس نے اس کے حضور کھایا پیا اور اس نے اسے پلاکر متوالا کیا اور شام کو وہ باہر جاکر اپنے مالک کے اور خادموں کے ساتھ اپنے بستر پر سو رہا پر اپنے گھر کو نہ گیا صبح کو دائود نے یوآب کے لئے ایک خط لکھا اور اسے اور یاہ کے ہاتھ بھیجا اور اس نے خط میں یہ لکھا کہ اور یاہ کو گھمسان میں سب سے آگے رکھنا اور تم اس کے پاس سے ہٹ جانا تاکہ وہ مارا جائے اور جان بحق ہو اور یوں ہوا کہ جب یو آب نے اس شہر کا ملاحظہ کرلیا تو اس نے اور یاہ کو ایسی جگہ رکھاجہاں وہ جانتا تھا کہ بہادر مرد ہیں تب یوآب نے آدمی بھیج کر جنگ کا سب حال دائود کو بتایا اور اس نے قاصد کو تاکید کردی کہ جب تو بادشاہ سے جنگ کا سب حال عرض کرچکے تب اگر ایسا ہو کہ بادشاہ کو غصہ آجائے اور وہ تجھ سے کہنے لگے کہ تم لڑنے کو شہر کے ایسے نزدیک کیوں چلے گئے ؟ کیا تم نہیں جانتے تھے کہ وہ دیوار پر سے تیر ماریں گے ؟ یُربسّت کے بیٹے ابیملک کو کس نے مارا ؟ کیا ایک عورت نے چکی کا پاٹ دیوار پر سے اس کے اوپر ایسا نہیں پھینکا کہ وہ تیہض میں مرگیا ؟ سو تم شہر کی دیوار کے نزدیک کیوں گئے ؟ تو پھر تو کہنا کہ تیرا خادم حتی اور یاہ بھی مرگیا ہے سو وہ قاصد چلا اور آکر جس کام کے لیے یوآب نے اسے بھیجا تھا وہ سب دائود کو بتایا اور اس قاصد نے دائود سے کہا کہ وہ لوگ ہم پر غالب ہوئے اور نکل کر میدان میں ہمارے پاس آگئے، پھر ہم ان کو رگیدتے ہوئے پھاٹک کے مدخل تک چلے گئے تب تیراندازوں نے دیوار پر سے تیرے خادموں پر تیر چھوڑے۔ سو بادشاہ کے تھوڑے سے خادم بھی مرے اور تیرا خادم حتی اور یاہ بھی مرگیا تب دائود نے قاصد سے کہا کہ تو یوآب سے یوں کہنا کہ تجھے اس بات سے ناخوشی نہ ہو اس لئے کہ تلوار جیسا ایک کو اڑاتی ہے ویسا ہی دوسرے کو۔ سو تو شہر سے اور سخت جنگ کرکے اسے ڈھادے اور تو اسے دم دلاسا دینا جب اور یاہ کی بیوی نے سنا کہ اس کا شوہر اور یاہ مرگیا تو وہ اپنے سو ہر کے لئے ماتم کرنے لگی اور جب سوگ کے دن گزر گئے تو دائود نے اسے بلوا کر اس کو اپنے محل میں رکھ لیا اور وہ اس کی بیوی ہوگئی اور اس سے اس کا ایک لڑکا ہوا، پر اس کام سے جسے دائود نے کیا تھا خداوند ناراض ہوا

باب ١٢ : اور خداوند نے ناتن کو دائود کے پاس بھیجا۔ اس نے اس کے پاس آکر اس سے کہا : کسی شہر میں دو شخص تھے۔ ایک امیر دوسرا غریب اس امیر کے پاس بہت سے ریوڑ اور گلے تھے پر اس غریب کے پاس بھیڑ کی ایک پٹھیا کے سوا کچھ نہ تھا جسے اس نے خرید کر پالا تھا اور وہ اس کے اور اس کے بال بچوں کے ساتھ بڑھی تھی۔ وہ اسی کے نوالہ میں سے کھاتی اور اس کے پیالہ سے پیتی اور اس کی گود میں سوتی تھی اور اس کے لئے بطور بیٹی کے تھی اور اس امیر کے ہاں کوئی مسافر آیا۔ سو اس نے اس مسافر کے لئے جو اس کے ہاں آیا تھا پکانے کو اپنے ریوڑ اور گلہ میں سے کچھ نہ لیا بلکہ اس غریب کی بھیڑ لے لی اور اس شخص کے لیے جو اس کے ہاں آیا تھا پکائی تب دائود کا غضب اس شخص پر بشدت بھڑکا اور اس نے ناتن سے کہا کہ خداوند کی حیات کی قسم کہ وہ شخص جس نے یہ کام واجب القتل ہے سو اس شخص کو اس بھیڑ کا چوگنا بھرنا پڑے گا کیونکہ اس نے ایسا کام کیا اور اسے ترس نہ آیا تب ناتن نے دائود سے کہا کہ وہ شخص تو ہی ہے۔ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے تجھے مسح کرکے اسرائیل کا بادشاہ بنایا اور میں نے تجھے سائول کے ہاتھ سے چھڑایا اور میں نے تیرے آقا کا گھر تجھے دیا اور تیرے آقا کی بیویاں تیری گود میں کردیں اور اسرائیل اور یہوداہ کا گھرانا تجھ کو دیا اور اگر یہ سب کچھ تھوڑا تھا تو میں تجھ کو اور اور چیزیں بھی دیتا سو تم نے کیوں خداوند کی بات کی تحقیر کرکے اس کے حضور بدی کی ؟ تو نے متی اور یاہ کو تلوار سے مارا اور اس کی بیوی لے لی تاکہ وہ تیری بیوی بنے اور اس کو بنی عمون کی تلوار سے قتل کروایا سو خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں شر کو تیرے ہی گھر سے تیرے خلاف اٹھائوں گا اور میں تیری بیویوں کو لے کر تیری آنکھوں کے سامنے تیرے ہمسایہ کو دوں گا اور وہ دن دہاڑے تیری بیویوں سے صحبت کرے گا کیونکہ تو نے چھپ کر یہ کیا، پر میں سارے اسرائیل کے روبرو دن دہاڑے یہ کروں گا تب دائود نے ناتن سے کہا : میں نے خداوند کا گناہ کیا۔ ناتن نے دائود سے کہا کہ خداوند نے بھی تیرا گناہ بخشا، تو مرے گا نہیں تو بھی چونکہ تو نے اس کام سے خداوند کے دشمنوں کو کفر بکنے کا بڑا موقع دیا ہے اس لئے وہ لڑکا بھی جو تجھ سے پیدا ہوگا مرجائے گا پھر ناتن اپنے گھر چلا گیا اور خداوند نے اس لڑکے کو جو اور یاہ کی بیوی کے دائود سے پیدا ہوا تھا مارا اور وہ بہت بیمار ہوگیا اس لئے دائود نے اس لڑکے کی خاطر خدا سے منت کی اور دائود نے روزہ رکھا اور اندر جاکر ساری رات زمین پر پڑا رہا اور اس کے گھرانے کے بزرگ اٹھ کر اس کے پاس آئے کہ اسے زمین پر سے اٹھائیں پر وہ نہ اٹھا اور نہ اس نے ان کے ساتھ کھانا کھایا اور ساتویں دن وہ لڑکا مرگیا اور دائود کے ملازم اسے ڈر کے مارے یہ نہ بتاسکے کہ لڑکا مرگیا کیونکہ انہوں نے کہا کہ جب وہ لڑکا ہنوز زندہ تھا اور ہم نے اس سے گفتگو کی تو اس نے ہماری بات نہ مانی، پس اگر ہم اسے بتائیں کہ لڑکا مرگیا تو وہ بہت ہی کڑھے گا پر جب دائود نے اپنے ملازموں کو آپس میں پھسپھساتے دیکھا تو دائود سمجھ گیا کہ لڑکا مرگیا۔ سو دائود نے اپنے ملازموں سے پوچھا : کیا لڑکا مرگیا ؟ انہوں نے جواب دیا : مرگیا تب دائود زمین پر سے اٹھا اور غسل کرکے اس نے تیل لگایا اور پوشاک بدلی اور خداوند کے گھر میں جاکر سجدہ کیا۔ پھر وہ اپنے گھر آیا اور اس کے حکم دینے پر انہوں نے اس کے آگے روٹی رکھی اور اس نے کھائی “ (سموئیل باب : ١١ آیت : ٢٧۔ ٢، باب : ١٢، آیت : ٢١۔ ١، کتاب مقدس، پرانا عہد نامہ ص ٣٠٥۔ ٣٠٣، بائیل سوسائٹی انارکلی لاہور ١٩٩٢ ء) ص ١ : سموئیل، باب : ١٢ آیت ایک سے آیت بیس تک یہ کچھ تحریف اور رنگ آمیزی کے ساتھ وہی قصہ ہے جس کو قرآن مجید نے ص ٓ: ٢٥۔ ٢١ میں بیان فرمایا ہے، تورات کی اس عبارت میں بھی ناتن سے مراد کوئی انسان ہے فرشتہ نہیں ہے۔ تورات کی ان آیات میں تحریف کرکے حضرت دائود (علیہ السلام) پر متی اور یاہ کو قتل کرانے اور اس کی بیوی سے زنا کرنے کا بہتان تراشا گیا ہے۔ العیاذ باللہ، حضرت دائود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی ہیں اور ان کا دامن اس فحش کام اور گناہ کبیرہ سے پاک ہے، حضرت دائود (علیہ السلام) اور اللہ تعالیٰ کے تمام نبی معصوم ہیں، ان سے کسی قسم کا گناہ سرزد نہیں ہوتا، صغیرہ نہ کبیرہ، سہوانہ عمداً صورتاً نہ حقیقتاً ، البتہ اجتہادی خطاء سے ان سے بعض خلاف اولیٰ یا مکروہ تنز یہی کام صادر ہوجاتے ہیں اور خلاف اولیٰ اور مکروہ تنزیہی عصمت کے خلاف ہیں نہ گناہ ہیں۔ اور انبیاء (علیہم السلام) سے ان کا صدور اس لیے ہوتا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ ان کاموں کا کرنا فی نفسہ جائز ہے مکروہ تحریمی نہیں ہے اور انبیاء (علیہم السلام) پر چونکہ شریعت کا بیان کرنا فرض ہے اس لیے ان کو ان کاموں پر فرض کا اجر وثواب ملتا ہے اور یہ کام بہ ظاہر خلاف اولیٰ ہوتے ہیں، حقیقت میں درجہ فرض میں ہوتے ہیں، اسی لیے کہا جاتا ہے : حسنات الابرار سیئات المقربین۔

بعض قدیم مفسرین کا تورات کی محرف روایت کو نقل کرکے اس سے استدلال کرنا

علامہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے تورات کی اس روایت میں کچھ تخفیف کرکے اس طرح لکھا ہے : وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات حضرت دائود (علیہ السلام) بیٹھے ہوئے زبور پڑھ رہے تھے کہ روشن دان سے ایک کبوتر اتر آیا، حضرت دائود اس کو دیکھنے لگے، وہ اڑ کر چلا گیا۔ حضرت دائود ( علیہ السلام) یہ دیکھنے لگے کہ وہ کبوتر کہاں جاتا ہے، پھر ایک نظر ایک عورت پر پڑی جو غسل کررہی تھی، وہ بےحد حسین اور جمیل عورت تھی، جب اس نے دیکھا کہ حضرت دائود ( علیہ السلام) اس کی طرف دیکھ رہے ہیں تو اس نے اپنے سر کے بالوں سے اپنا جسم چھپالیا، حضرت دائود ( علیہ السلام) کے دل میں مسلسل اس عورت کا خیال آتا رہا اور وہ فتنہ میں مبتلا ہوگئے، انہوں نے اس کے شوہر کو ایک جنگ میں بھیج دیا اور سپہ سالار کو حکم دیا کہ اس کو ایسی جگہ بھیج دینا جہاں یہ مارا جائے، حتیٰ کہ وہ اس جنگ میں مارا گیا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٢٩٣٩)

علامہ ابن جریر نے دوسری روایت حسن بصری سے ذکر کی ہے، اس میں مذکور ہے : جب متی اور یاہ جنگ سے واپس نہیں آیا تو حضرت دائود (علیہ السلام) نے اس کی بیوی کو نکاح کا پیغام دیا اور اس سے نکاح کرلیا اور قتادہ نے کہا : جب وہ مارا گیا تو آپ نے اس کی بیوی سے نکاح کرلیا اور وہی عورت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ماں تھی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٢٩٣٨) امام عبدالرحمن بن محمد بن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ نے بھی اپنی سند کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٣٤٤، ج ١٠ ص ٣٢٣٩۔ ٣٢٣٨)

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٤٢٧ ھ، علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠، امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیری المتوفی ٤٦٥ ھ اور اعلامہ جلال الدین السیوطی المتوفی ٩١١ ھ نے اس اسرائیلی روایت کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (الکشف والبیان ج ٨ ص ١٨٦، النکت والعیون ج ٥ ص ٨٦۔ ٨٥، تفسیر القشیری ج ٣ ص ١٠٢۔ ١٠١، الدارالمنثور ج ٧ ص ١٣٩۔ ١٣٨)

جن محتاط مفسرین نے اس اسرائیلی روایت کو مسترد کردیا

اکثر محتاط مفسرین نے اس روایت کو رد کردیا اور کہا : یہ روایت انبیاء (علیہم السلام) کی عصمت کے منافی ہے اور انہوں نے سورة ‘ ص ٓ کی ان آیات کا یہ محمل بیان کیا کہ انہوں نے متی اور یاہ سے یہ کہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے تاکہ حضرت دائود (علیہ السلام) اس سے نکاح کرلیں اور یہ چیز ان کی شریعت میں معروف اور مروج تھی۔ امام الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اس شخص سے یہ کہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو ان کے لیے چھوڑ دے۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہ ان کی شریعت میں مباح تھا، لیکن اللہ تعالیٰ ان کی اس بات سے راضی نہیں ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جتنی عورتیں ان کے نکاح میں دیں تھیں اس کی وجہ سے ان کو اس کی ضرورت نہ تھی۔ (معالم التنزیل ج ٤ ص ٥٩، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٠ ھ) حسب ذیل مفسرین نے بھی اس اسرائیلی روایت کو رد کرکے سورة ص ٓ کی ان آیات کا یہی محمل لکھا ہے۔

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ، علامہ محمود بن عمر زمخشری متوفی ٥٣٨ ھ، علامہ محمد بن عبداللہ ابن العربی المالکی المتوفی ٥٤٣ ھ، علامہ عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩ ھ، امام فخر الدین محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ، علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد المالکی القرطبی ٦٦٨ ھ، قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ، علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف متوفی ٧٥٤ ھ، علامہ شہاب الدین احمد خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ، علامہ محمد بن مصطفیٰ توجوی متوفی ٩٥١ ھ، علامہ عماد الدین منصور بن الحسن الکازرونی الشافعی المتوفی ٨٦٠ ھ، علامہ ابوالبرکات احمد بن محمد نسفی متوفی ٧١٠ ھ، علامہ علی بن محمد خازن متوفی ٧٦٥ ھ، علامہ نظام الدین حسین بن محمد قمی متوفی ٧٦٨ ھ، علامہ ابوالحسن ابراہیم بن عمر البقاعی ٨٨٥ ھ، علامہ ابوالسعود محمد بن محمد عاردی حنفی متوفی ٩٨٢ ھ، علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣٧ ھ، سیخ محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی ١٢٥٠ ھ، علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ، شیخ صدیق بن حسن بن علی البخاری المتوفی ١٣٠٧ ھ۔

ان تمام مفسرین نے ص ٓ: ٢٥۔ ٢٤ کی تفسیر میں اس بات کا ذکر کیا ہے، مفصل حوالہ جات درج ذیل ہیں :

(احکام القرآن للجصاص ج ٣ ص ٣٧٩، کشاف ج ٤ ص ٨٣، احکام القرآن لابن العربی ج ٤ ص ٥٤۔ ٥٣، زادا المسیر ج ٧ ص ١١٦۔ ١١٥، تفسیر البیضاوی مع الخفا جی ج ٨ ص ١٤٣۔ ١٤٢، البحر المحیط ج ٩ ص ١٥١، شیخ زادہ علی البیضاوی ج ٧ ص ١٩٤۔ ١٩٣، الکازرونی علی البیضاوی ج ٥ ص ٤٣۔ ٤٢، مدارک التنزیل علی ہامش الخازن ج ٤ ص ٣٤، لباب التاویل للخازن ج ٤ ص ٣٧۔ ٣٤، غرائب القرآن ور غائب الفرقان ج ٥ ص ٥٩٠، نظم الدروج ٦ ص ٤٧٦۔ ٣٧٥، تفسیر ابو السعود ج ٥ ص ٣٥٨۔ ٣٥٧، روح البیان ج ٨ ص ٢٩۔ ٢٨، فتح القدیر ج ٤ ص ٥٦٢، روح المعانی جز ٢٣ ص ٢٧٢، فتح البیان ج ٦ ص ١٩)

حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں حضرت دائود (علیہ السلام) کے استغفار کی کوئی وجہ ذکر نہیں کی، البتہ انہوں نے اس اسرائیلی روایت کا بہت سختی کے ساتھ رد کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٣٤، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)

مفسرین کرام نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے استغفار کی جو توجیہات اور محامل بیان کیے ہیں اب ہم ان کو اختصار اور تلخیص کے ساتھ پیش کررہے ہیں۔

حضرت دائود (علیہ السلام) کے استغفار کی توجیہات اور محامل

علامہ محمود بن عمرزمخشری متوفی ٥٣٨ ھ لکھتے ہیں :

اس اسرائیلی روایت میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی طرف یہ منسوب کیا ہے کہ آپ نے (معاذ اللہ) اور یاہ کو قتل کرایا اور پھر اس کی بیوی سے نکاح کرلیا اور یہ ایسا فعل ہے جس کو عام ایک مسلمان کے متعلق بھی سخت عیت، باعث مذمت اور گناہ کبیرہ قرار دیا جاتا ہے۔ چہ جائیکہ اس فعل کو اللہ تعالیٰ کے ایک عظیم نبی کے ساتھ منسوب کیا جائے۔

سعید بن مسیب اور حارث اعور روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : جس شخص نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے متعلق اس روایت کو بیان کیا میں اس کو ایک سو ساٹھ کوڑے ماروں گا اور انبیاء (علیہم السلام) پر بہتان لگانے والے کی یہی سزا ہے۔

روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے سامنے ایک شخص نے کہا : یہ جھوٹی روایت ہے۔ قرآن مجید میں اس قصہ کے متعلق جو بیان کیا گیا ہے اس کے خلاف بیان کرنا جائز نہیں ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کہا : اس شخص کی بات سننا میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے جن پر آفتاب طلوع ہوتا ہے۔ (الکشاف ج ٤ ص ٨٤۔ ٨٣، دار احیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٧ ھ)

علامہ عبدالرحمان بن علی بن محمد الجوزی المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

یہ اسرائیلی روایت سند کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے اور معنی کے اعتبار سے جائز نہیں ہے، کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) ایسے فعل سے منزہ ہیں، حضرت دائود (علیہ السلام) پر جس وجہ سے عتاب کیا گیا تھا اس کے چار محمل ہیں :

(١) حضرت دائود (علیہ السلام) نے اور یاہ سے کہا : تم اپنی بیوی کو چھوڑ دو اور اس کو میرے سپرد کردو۔

(٢) حضرت دائود (علیہ السلام) نے اس عورت کو دیکھ کر یہ تمنا کی تھی : کاش ! وہ میری بیوی ہوتی، پھر اتفاق سے اس کا خاوند جہاد میں گیا اور ہلاک ہوگیا، اس میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی کسی کاروائی کا دخل نہیں تھا۔ جب آپ کو اس کی موت کی خبر پہنچی تو آپ کو اس کی موت پر اتنا افسوس نہیں ہوا جتنا دوسرے سپاہیوں کی موت پر افسوس ہوتا تھا، پھر آپ نے اس کی بیوی سے عقد کرلیا۔

(٣) اس کی بیوی پر آپ کی نظر اتفاقاً پڑی، پھر آپ نے نظر نہیں ہٹائی اور اس کو دیکھتے رہے۔

(٤) اور یاہ نے اس عورت کو نکاح کا پیغام دیا تھا، اس کے علم کے باوجود حضرت دائود (علیہ السلام) نے اس کو نکاح کا پیغام دیا، اس سے اور یاہ کو رنچ ہوا۔ (زادا المسیر ج ٧ ص ١١٦۔ ١١٥، مکتب اسلامی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ نے اسرائیلی روایت کا رد کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عتاب کے چار محمل ذکر کیے ہیں، تین محمل وہ ہیں جن کو علامہ ابن جوزی نے نمبر ١، نمبر ٣ اور نمبر چار میں بیان کیا ہے اور چوتھا محمل یہ بیان کیا ہے کہ اور یاہ کی بیوی کی وجہ سے آپ پر عتاب نہیں ہوا، بلکہ اس وجہ سے آپ پر عتاب ہوا کہ آپ نے ایک فریق کی بات سنے بغیر دوسرے فریق کے حق میں فیصلہ کردیا۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٣٨١۔ ٣٨٠، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ نے لکھا ہے کہ آنے والے دو آدمیوں کے متعلق آپ نے یہ گمان کیا تھا کہ وہ آپ کو ضرر پہنچانے آئے ہیں، لیکن جب ایسا نہیں ہوا تو آپ نے ان کے متعلق غلط گمان پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا۔ (البحر المحیط ج ٩ ص ١٥١، دارالفکر، بیروت، ١٤١٢ ھ) علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے لکھا ہے :

جو دو آدمی آئے تھے وہ آپ کو قتل کرنے یا ایذاء پہنچانے آئے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ آپ کے پاس اور لوگ بھی ہیں تو تو انہوں نے یہ بہانا کیا کہ وہ آپ کے پاس فیصلہ کرانے آئے ہیں، حضرت دائود (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ ان کی اصل غرض کیا تھی، آپ نے ان سے انتقام لینے کا ارادہ کیا، پھر انہوں نے یہ گمان کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان اور آزمائش ہے کہ آیا وہ اپنے نفس کی وجہ سے غضب میں آتے ہیں یا نہیں، تب انہوں نے اپنے رب سے استغفار کیا کہ انہوں نے اپنے نفس کے لیے انتقام لینے کا ارادہ کیا تھا، جب کہ ان کے لائق عفو و درگزر تھا جس سے انہوں نے عدول کیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو دو آدمی آپ پر حملہ کرنے کے ارادہ سے آئے تھے آپ نے ان کے لیے اپنے رب سے استغفار کیا اور حضرت دائود (علیہ السلام) کے یہی شایان شان ہے۔ (روح المعانی جز ٢٣ ص ٢٧٣، دارالفکر، بیروت، ١٤٢٣ ھ)

موجودہ محرف تورات میں حضرت دائود (علیہ السلام) کے کردار کو بہت بدنما بناکر پیش کیا گیا ہے، مجھے عرصہ سے یہ خواہش تھی کہ میں اس موضوع کی چھان پھٹک کروں اور حضرت دائود (علیہ السلام) کی عصمت کے خلاف جو کچھ لکھا گیا ہے اس کے بطلان کو واضح کروں، فالحمدللہ رب العٰلمین، اللہ تعالیٰ نے میری یہ خواہش پوری کی اور مجھے حضرت دائود (علیہ السلام) کے دامن عصمت سے مخالفین کی گرد جھاڑ نے کی توفیق، ہمت اور سعادت عطا فرمائی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 38 ص آیت نمبر 24