أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ۞

ترجمہ:

یہ ہمارا عطیہ ہے، آپ (جس کو چاہیں) بہ طور احسان عطا کریں یا (جس سے چاہیں) روک لیں آپ سے کوئی حساب نہیں ہوگا

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دنیاوی واخروی قرب

ص ٓ: ٣٩ میں فرمایا :” یہ ہمارا عطیہ ہے آپ (جس کو چاہیں) بطور احسان عطاکریں، یا (جس سے چاہیں) روک لیں، آپ سے کوئی حساب نہیں ہوگا “ یعنی ہم نے آپ کے لیے ہوائوں کو اور جنات کو مسخر کردیا ہے اور آپ کو ملک عظیم عطا کیا ہے، یہ خاص ہمارا عطیہ ہے، کوئی اور اس کے دینے پر قادر نہیں ہے، آپ ان میں سے جو چیز جس کو چاہیں عطا کردیں اور جس سے چاہیں روک لیں، آپ کے لیے دونوں امر مباح ہیں اور آپ سے آپ کے تصرفات کا کوئی حساب نہیں لیا جائے گا کہ آپ نے فلاں کو کیوں عطا کیا اور فلاں کو کیوں عطا نہیں کیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 38 ص آیت نمبر 39