أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡهُمۡ‌ۖ وَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ‌ ۞

ترجمہ:

اور کافروں کو اس پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک شخص عذاب سے ڈرانے والا آگیا اور کافروں نے کہا : یہ جھوٹا جادوگر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور کافروں کو اس پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک شخص عذاب سے ڈرانے والا آگیا اور کافروں نے کہا : یہ جھوٹا جادوگر ہے کیا اس نے بہت سے معبودوں کو معبود واحد بنادیا ہے، بیشک یہ بہت عجیب بات ہے کافروں کے سردار (اس رسول کے پاس) چل پڑے ( اور کہا :) چلو اب اپنے خدائوں پر صبر کرلو، بیشک اس بات کا بھی کوئی معنی ہے ہم نے یہ بات اس سے پہلے دین میں نہیں سنی، یہ صرف ان کی بنائی ہوئی (جھوٹی) بات ہے (صٓ: ٧۔ ٤)

کفار کا تکبر اور ان کی مخالفت کس سبب سے تھی ؟

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ بیشک کفار تکبر اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں، ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہ بتارہا ہے کہ وہ کس وجہ سے تکبر اور مخالفت کرتے تھے، ان کے تکبر اور ان کی مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ ان ہی میں سے ایک شخص کو رسول بنادیا گیا اور وہ ان کو عذاب سے ڈرانے کے لئے آگیا۔

کفار یہ کہتے ہیں کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظاہری صورت اور باطنی قوتوں میں ہماری مثل ہیں، ان کی شکل و صورت ہماری طرح ہے، ان کی پیدائش بھی ہماری طرح ہوئی ہے، پھر یہ کس طرح معقول ہوگا کہ ہم میں سے صرف ان کو منصب رسالت پر فائز کردیا جائے اور ان کو اتنے عظیم الشان مرتبہ کے لئے چن لیا جائے اور یہ کفار کی جہالت تھی، کیونکہ ان کے پاس ایک ایسا شخص آیا جو ان کو یہ دعوت دے رہا تھا کہ وہ اللہ کو واحد مانیں اور کسی کو اس کا شریک نہ قرار دیں اور فرشتوں کی تعظیم کریں، ان کو مؤنث نہ کہیں، دنیا کی فانی لذتوں سے کنارہ کش ہوں اور آخرت کی دائمی نعمتوں سے وابستہ ہوں۔ جھوٹے اور بےحیاگی کے کام نہ کریں، رشتہ داروں سے نیک سلوک کریں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں اور وہ شخص ان کا نسبی قرابت دار ہے، ان کو معلوم ہے کہ وہ شخص جھوٹ اور جھوٹ کی تہمت سے بہت دور ہے، یہ تمام صفات ایسی ہیں جو اس شخص کے دعویٰ کی تصدیق کو واجب کرتی ہیں، لیکن یہ کفار اپنی حماقت کی وجہ سے اس شخص کے دعویٰ رسالت پر تعجب کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ان کی قوم اور ان کے قبیلہ کے ایک فرد ہیں۔ دنیاوی اسباب کے اعتبار سے ان کو ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ اس لئے وہ ان کی اطاعت میں داخل ہونے اور ان کا امتی کہلانے میں اپنی سبکی محسوس کرتے تھے اور اس پر تعجب کرتے تھے کہ کسی دنیاوی فضیلت اور بڑائی کے بغیر ان کو کیسے پیغام الٰہی پہنچانے کے لئے چن لیا گیا اور ان کا یہ تعجب کرنا محض ان کے حسد کی وجہ سے تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اور کافروں نے کہا : یہ جھوٹا جادوگر ہے۔ “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصریح فرمائی ہے کہ یہ کہنے والے کافر تھے، کیونکہ جو اللہ کے رسول کو جھوٹا کہے وہ کافر ہے، ان کا یہ کہنا خود بدابۃً جھوٹ تھا، کیونکہ جادوگر وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منع کرتا ہے اور شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کی ترغیب دیتا ہے۔ جب کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت سے منع کرتے تھے، اسی طرح ان کا آپ کو جھوٹا کہنا بھی بجائے خود جھوٹ تھا، کیونکہ جھوٹا شخص وہ ہوتا ہے جو واقع کے خلاف خبر دے اور آپ نے یہ خبر دی کہ یہ جہان یونہی خود بہ خود وجود میں نہیں آگیا، اس کا کوئی بنانے والا اور پیدا کرنے والا ہے اور وہ واحد ہے کیونکہ اس تمام جہان کا نظام طرز واحد اور نظم واحد پر چلنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا ناظم بھی واحد ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اس قول کو نقل فرمایا : ” کیا اس نے بہت سے معبودوں کو معبود واحد بنادیا ہے۔ “ (ص ٓ: ٧۔ ٨)

کفار کی ابوطالب سے شکایت اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جواب

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی متوفی ٤٦٨ ھ بیان کرتے ہیں :

مفسرین نے کہا ہے کہ جب حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے اسلام قبول کرلیا تو قریش پر یہ واقعہ بہت دشوار گزرا اور مسلمان اس سے بہت خوش ہوئے، ولید بن مغیرہ نے قریش کی ایک جماعت سے کہا، جن میں ان کے صنادید اور اشراف موجود تھے : ابو طالب کے پاس چلو، پھر انہوں نے ابوطالب سے کہا : آپ ہمارے شیخ اور بزرگ ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ ان نادان لڑکوں نے کیا کیا ہے، ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں کہ آپ ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان کوئی معتدل راہ نکال دیں، ابوطالب نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلوایا اور آپ کے آنے کے بعد آپ نے کہا : اے بھتیجے ! یہ تمہاری قوم ہے، یہ چاہتی ہے کہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی قابل عمل فیصلہ ہوجائے اور تم اپنی قوم سے ذرہ برابر بھی زیادتی نہ کرو، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ کفار قریش نے کہا : آپ ہمیں اور ہمارے معبودوں کے ذکر کو چھوڑ دیں، ہم آپ کو اور آپ کے معبود کو چھوڑ دیں گے۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ایک کلمہ پڑھ کر مان لو، تمام عرب تمہارے زیر نگیں ہوجائے گا اور عجم بھی تمہارے ماتحت ہوجائے گا۔ ابوجہل نے کہا : اللہ تمہارا بھلا کرے، ایسا کلمہ تو ہم دس بار پڑھنے پر بھی تیار ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پڑھو لا الہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے) یہ بات سن کر وہ متوحش ہوئے اور اس مجلس سے اٹھ گئے اور کہنے لگے : یہ تمام معبودوں کو ملا کر ایک معبود قرار دے رہے ہیں، تمام لوگ یہ بات کیسے مان لیں گے کہ ان کا معبود صرف ایک معبود ہے، تب اللہ تعالیٰ نے سورت ص ٓ کی یہ آیات نازل فرمائیں۔ (اسباب النزول ص ٣٨١، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ اور علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے بھی اس روایت کا ذکر کیا ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٣٦٧، الجامع لا حکام القرآن جز ١٥ ص ١٣٦)

امام ابوالحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ نے مقاتل سے اس روایت کو بیان کیا ہے۔ (النکت والعیون ج ٥ ص ٧٩، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر ومشقی متوفی ٧٧٥ ھ نے سدی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار قریش سے کہا : اگر تم میرے ہاتھ میں سورج لاکر رکھدو پھر بھی میں تم سے یہی مطالبہ کروں گا کہ تم لا الہ الا اللہ پڑھو۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٣١، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، ٤١٩ ھ) اس کے بعد فرمایا : ” کافروں کے سردار (اس رسول کے پاس سے) چل پڑے (اور کہا :) چلو اب اپنے خدائوں پر صبر کرلو، اس بات کا بھی کوئی معنی ہے۔ “ (ص ٓ: ٦)

کفار کا اپنے بتوں کی عبادت پر صبر کرنے کا محمل

عقبہ بن ابی معیط نے کہا تھا : چلو ! یعنی تم اپنے طریقہ پر عمل کرتے رہو اور اس مجلس سے نکل چلو، کیونکہ یہاں اب ٹھہرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اور اس نے کہا : اب اپنے خدائوں پر صبر کرلو، یعنی اب تم اپنے بتوں کی عبادت پر ثابت قدم رہو اور ان کی عبادت کو جو یہ بُرا اور گناہ کہتے ہیں اس کو برداشت کرتے رہو۔ امام ابو منصور ماتریدی متوفی ٣٣٥ ھ نے کہا : جب کفار اپنے بتوں کی عبادت کرنے پر صبر سے راضی ہوگئے حالانکہ بتوں کی عبادت کرنا باطل ہے تو مسلمان اس کے زیادہ لائق ہیں کہ وہ صبر کے ساتھ خدائے واحد کی عبادت کرتے رہیں اور اس راہ میں کسی ملامت یا کسی طعن تشنیع یا کسی بھی مصیبت کی پرواہ نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو ہم کو یہ حکم دیتے ہیں کہ اللہ کو واحد مانو اور ہمارے بتوں کی خدائی کی نفی کررہے ہیں، وہ ضرور اس حکم کو نافذ کرنے والے ہیں، یہ محض ان کی زبانی بات نہیں ہے، وہ کسی کی سفارش کرنے سے اور کسی کے سمجھانے سے اپنے اس عزم سے باز نہیں آئیں گے۔ اس لئے تم یہ طمع نہ رکھو کہ ابو طالب کے کہنے سننے سے اور ان کے سفارش کرنے سے وہ اپنے موقف کو ترک کردیں گے۔ پس تمہارے لئے یہ غنیمت ہے کہ تم اپنے بتوں کی عبادت کررہے ہو اور اس پر کوئی بندش عائد نہیں ہے، سو تم ان کی باتیں برداشت کرتے ہوئے صبر و سکون سے اپنے بتوں کی عبادت کرتے رہو اور اپنے طریقہ پر سختی سے قائم رہو۔ اس کے بعد فرمایا : ”(اور کافروں نے کہا :) ہم نے یہ بات اس سے پہلے دین میں نہیں سنی، یہ صرف ان کی بنائی ہوئی (جھوٹی) بات ہے۔ “ (ص ٓ: ٧)

خَلق، خُلق اور اختلاق کے معانی

اس بات سے مراد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے، اور انہوں نے کہا : ” اور ہم نے اس سے پہلے دین میں توحید کی دعوت کو نہیں سنا “ یعنی ہمارے آبائو اجداد جس دین کے پیروکار تھے اس میں توحید کا عقیدہ نہ تھا، اس آیت میں دین کے لئے ملت کا لفظ ہے، احکام شرعیہ جب اس لحاظ سے ہوں کہ ان کی اطاعت کی جائے تو ان احکام شرعیہ کو دین کہا جاتا ہے اور جب احکام شرعیہ اس لحاظ سے ہوں کہ ان کو لکھ کر محفوظ کیا جائے اور وہ منضبط اور مدون ہوں تو ان کو ملت کہا جاتا ہے اور تو سعادین اور ملت کا ایک دوسرے پر اطلاق کردیا جاتا ہے، اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ ان کافروں کے دل و دماغ پر اندھی تقلید غالب تھی، انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی طریقہ پر عمل کرنے کو صحیح جانا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو انہیں توحید کی دعوت دی تھی اس کو غلط جانا۔

انہوں نے کہا : ” یہ صرف ان کی بنائی ہوئی (جھوٹی ( بات ہے۔ “ اس آیت میں اس کے لئے اختلاق کا لفظ ہے۔ انسان اپنے پاس سے بنا کر جو جھوٹی بات کہتا ہے کو خلق اور اختلاق کہتے ہیں، قرآن مجید میں ہے کہ کفار نے انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت اور ان کے پیغام کو سن کر کہا :

اِنْ ھٰذَآاِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَ لا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَبِیْنَ ۔ (الشعراء : ١٣٨۔ ١٣٧)

یہ صرف پہلے لوگوں کی بنائی ہوئی جھوٹی باتیں ہیں ہم کو ہرگز عذاب نہیں ہوگا اور اس آیت میں فرمایا :

مَاسَمِعْنَا بِھٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ (صٓ: ٧) ہم نے یہ بات اس سے پہلے دین میں نہیں سنی، یہ صرف ان کی بنائی ہوئی (جھوٹی) بات ہے۔ خلق، مخلوق کو بھی کہتے ہیں اور خلق (خ پر زبر) اور خلق (خ پر پیش) کی اصل واحد ہے۔ لیکن خلق کا لفظ ان ہیئات، اشکال اور صورتوں کے ساتھ خاص ہے جن کا بصر سے ادراک کیا جاتا ہے اور خلق کا لفظ ان قوتوں اور خصلتوں کے ساتھ خاص ہے جن کا بصیرت سے ادراک کیا جاتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقِ عَظِیْمٍ (القلم : ٤) بیشک آپ بہت بلند اخلاق پر فائز ہیں (المفردات ج ١ ص ٢١٠، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 38 ص آیت نمبر 4