أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا يَنۡظُرُ هٰٓؤُلَاۤءِ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ ۞

ترجمہ:

اور یہ (کفار) صرف ایک سخت چنگھاڑ کا انتظار کررہے ہیں جس کے درمیان کوئی مہلت نہیں ہوگی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور یہ (کفار) صرف ایک سخت چنگھاڑ کا انتظار کررہے ہیں جس کے درمیان کوئی مہلت نہیں ہوگی اور انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہمارا حصہ تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی جلددے دے (ص ٓ١٦۔ ١٥)

لفظ ” فواق “ کا معنیٰ ، اس کا محمل اور اس کے متعلق حدیث

اس آیت میں کفار مکہ کی طرف اشارہ ہے کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسلسل تکذیب کررہے ہیں اور عذاب کے لئے صرف قیامت کے منتظر ہیں، وہ اس کے مستحق تھے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر دنیا میں ہی فوراً عذاب آجاتا لیکن اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے : وماکان اللّٰہ لیعذبھم وانت فیھم (الانفال : ٣٣) اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ ان کو عذاب دے جس وقت آپ ان میں موجودہوں۔ اس لئے اب ان پر عذاب اسی وقت ہوگا جب دوسرا صور پھونکا جائے گا اور سب کافروں کو زندہ کرکے دوزخ کی طرف دھکیل دیا جائے گا، ہرچند کہ کفار واقع میں صور پھونکے جانے کا انتظار نہیں کررہے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت ظاہرہ کے اعتبار سے استہزاء فرمایا اور یہ بتایا کہ جب وہ صور پونک دیا جائے گا تو پھر ان کے اور نزول عذاب کے درمیان کوئی مہلت نہیں ہوگی۔ اس آیت میں ” فواق “ کا لفظ ہے، فواق اسم فعل واحد ہے، اس کی جمع افوقہ اور اٰفقہ ہے، اس کا معنی ہے درمیانی وقفہ، دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان جو وقفہ ہوتا ہے اس کو فواق کہتے ہیں، دودھ دوہنے والا ایک مرتبہ دودھ دوہ چکتا ہے پھر بچے کے پینے کے لئے دہنا چھوڑ دیتا ہے، بچے کے پینے سے جانروں کے تھنوں میں دوبارہ دودھ اترآتا ہے، دودھ دوہنے والا بچہ کو ہٹا کر خود دوبارہ دودھ دوھ لیتا ہے، اس درمیانی وقفہ کا نام اصل لغت میں فواق ہے۔ (المفردات ج ٢ ص ٥٠٢، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ٤١٨ ھ)

لفظ فواق کا ذکر اس حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک شخص پہاڑوں کی گھاٹیوں میں سے گزرا جن میں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا، اس پانی کی لذت کی وجہ سے اس کو وہ چشمہ اچھا لگا، اس نے دل میں کہا : کاش ! میں لوگوں کے درمیان سے نکل جائوں اور اسی گھاٹی میں رہوں اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت حاصل کیے بغیر ہرگز ایسا نہیں کروں گا، پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو، کیونکہ تم میں سے کسی ایک شخص کا اللہ کی راہ میں ٹھہرنا، اپنے گھر میں ستر سال نمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔ کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کردے اور تم کو جنت میں داخل کردے، اللہ کی راہ میں جہاد کرو، جس شخص نے اونٹنی کے فواق (دودھ دوہنے کے وقت) کے برابر بھی اللہ کی راہ میں قتال کیا اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٦٥٠، مسنداحمد ج ٢ ص ٤٤٦، مسند احمد رقم الحدیث : ٩٧٦٢، مؤسستہ، السنۃ لابی العاصم رقم الحدیث : ١٣٥، مسند البزار رقم الحدیث : ١٦٥٢، المستدرک ج ٢ ص ٦٨، سنن بیہقی ج ٩ ص ١٦٠، اس حدیث کی سند حسن ہے)

چیخ اور چنگھاڑ کے تین محمل

اس آیت میں جس چیخ اور چنگھاڑ کا ذکر ہے اس کے تین محمل ہیں، ایک یہ ہے کہ اس چیخ اور چنگھاڑ کی صورت میں ان پر فوراً عذاب آجائے گا اور عذاب آنے سے پہلے ان کو اتنی مہلت بھی نہیں ملے گی جتنا دودھ دوہنے کے درمیان وقفہ ہوتا ہے۔ اس چیخ اور چنگھاڑ سے مراد پہلی بار صور پھونکنے کی آواز ہے، اس صور کے پھونکتے ہی قیامت کا زلزلہ برپا ہوجائے گا اور صور پھونکنے کے بعدان کو اتنا وقفہ بھی نہیں ملے گا جتنا وقفہ دودھ دہنے کے درمیان ہوتا ہے اور اس کا تیسرا محمل یہ ہے کہ اس چیخ اور چنگھاڑ سے دوسری بار صور پھونکا جانا مراد ہے، اس کے فوراً بعد کافروں کو دوزخ کی طرف دھکیل دیا جائے گا اور صور کی اس آواز اور چنگھاڑ کے بعد ان کو اتنے وقفہ کی بھی مہلت نہیں ملے گی جتنی دودھ دوہنے کے درمیان مہلت ہوتی ہے۔ ان دونوں آیتوں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب اطہرکو تسلی دینا مراد ہے، تاکہ کفار کی تکذیب سے آپ کا دل تنگ نہ ہو اور ان کے کفر سے آپ غمگین نہ ہوں کیونکہ سابقہ امتوں نے اپنے رسولوں کی اس طرح تکذیب کی تھی جس طرح اہل مکہ آپ کی تکذیب کررہے ہیں اور ان کافروں کی بھی بھاری اکثریت تھی اور اس کے مقابلہ میں ان رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی تعداد بہت کم تھی اور وہ کفار اپنے کفر اور تکذیب کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب اور اس کے عذاب کا شکار ہوگئے اور ان کی جمعیت اور ان کی کثرت اور ان کی جسمانی قوت اور مال واسباب کی کثرت ان کے کسی کام نہ آسکی، سو یہی حال کفار مکہ کا بھی ہوگا اور ان کا اخروی عذاب کا انتظار کرنا خ اللہ تعالیٰ کے قہر وغضب اور اس کی دوزخ کے عذاب کے آثار سے ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 38 ص آیت نمبر 15