أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اَهۡلَهٗ وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ رَحۡمَةً مِّنَّا وَذِكۡرٰى لِاُولِى الۡاَلۡبَابِ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے انہیں ان کے گھر والے عطا فرمادیئے اور اتنے ہی اور ان کے ساتھ، ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کی نصیحت کے لیے

حضرت ایوب (علیہ السلام) کے نقصانات کی تلافی کرنا

قرآن مجید میں ہے : ووھبنا لہ الھلہ ومثلھم معھم رحمۃ مناوذکری لاولی الباب (ص ٓ: ٤٣ )

اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اپنی رحمت سے اتنا ہی اور بھی اس کے ساتھ اور یہ عقل والوں کے لیے نصیحت ہے بعض کہتے ہیں کہ پہلا کنبہ جو بطور آزمائش ہلاک کردیا گیا تھا اسے زندہ کردیا گیا اور اس کی مثل اور مزید کنبہ عطا کردیا گیا اور اللہ نے پہلے سے زیادہ مال اور اولاد سے انہیں نواز دیا جو پہلے سے دگنا تھا۔

حضرت ایوب (علیہ السلام) کی زوجہ کے لیے قسم پوری کرنے میں تخفیف اور رعایت

حافظ ابن عساکر لکھتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابلیس نے راستہ میں ایک تابوت بچھایا اور اس پر بیٹھ کر بیماروں کا علاج کرنے لگا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی وہاں سے گزری تو اس نے پوچھا : کیا تم بیماری میں مبتلا اس شخص کا علاج کردوگے ؟ اس نے کہا : اس شرط کے ساتھ کہ جب میں اس کو شفا دے دوں تو تم یہ کہنا کہ تم نے شفادی ہے، اس کے سوا میں تم سے کوئی اور اجر نہیں طلب کرتا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے حضرت ایوب (علیہ السلام) سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے فرمایا : تم پر افسوس ہے، یہ تو شیطان ہے اور اللہ کے لیے مجھ پر یہ نذر ہے کہ اگر اللہ نے مجھے صحت دے دی تو میں تمہیں سوکوڑے ماروں گا اور جب وہ تندرست ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وخذبیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنت ط ولا خذت ط انا وجد نہ صابرا ط نعم العبد ط انہ اواب (ص ٓ: ٤٤) اور اپنے ہاتھ سے (سو) تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) پکڑ لیں اور اس سے ماریں اور اپنی قسم نہ توڑیں، بیشک ہم نے ان کو صابر پایا، وہ کیا ہی خوب بندے تھے بہت زیادہ رجوع کرنے والے سو حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیوی پر جھاڑو مار کر اپنی قسم پوری کرلی۔ (مختصردمشق ج ٥ ص ١٠٨، مطبوعہ دارالفکر، بیروت، ١٤٠٤ ھ) اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ یہ رعایت صرف ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ خاص تھی یا کوئی دوسرا شخص بھی سوکوڑوں کی جگہ سو تنکوں کی جھاڑو مار کر قسم توڑنے سے بچ سکتا ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت سعد بن عبادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں ایک شخص رہتا تھا، جس کی خلقت ناقص تھی۔ وہ اپنے گھر کی ایک باندی (نوکرانی) سے زنا کرتا تھا۔ یہ قصہ حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے فرمایا : اس کو سو کوڑے مارو۔ مسلمانوں نے کہا : یارسول اللہ ! یہ تو اس کے مقابلہ میں بہت کمزور ہے، اگر ہم نے اس کو سوکوڑے مارے تو یہ مرجائے گا۔ آپ نے فرمایا : پھر اس کے لیے سو تنکوں کی ایک جھاڑو لو اور وہ جھاڑو اس کو ایک مرتبہ مار دو ۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٧٤، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٥٥٢١، مسند احمد ج ٥ ص ٢٢٢، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢٢٨١، عالم الکتب، بیروت، المسند الجامع رقم الحدیث : ٤٨٢٤، علامہ بوصیری نے کہا : اس کی سند ضعیف ہے) قرآن اور حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کمزور اور بیمار شخص پر قسم پوری کرنے کے لیے یا حد جاری کرنے کے لیے سو کوڑے مارنے کے بجائے سو تنکوں کی جھاڑو ماری جاسکتی ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کا نام رحمت بنت منشا بن یوسف بن یعقوب بن اسحاق تھا۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٥ ص ١٠٥) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیحضرت ایوب (علیہ السلام) کو تندرست کرنے کے بعد ان کا حسن وشباب بھی لوٹا دیا تھا اور ان کے ہاں اس کے بعد چھبیس بیٹے پیدا ہوئے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) اس کے بعد ستر سال تک مزید زندہ رہے۔ تاہم اس کے خلاف مؤرخین کا یہ قول ہے کہ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کی عمر ٩٣ سال تھی۔ (البدایہ النبایہ ج ١ ص ٣١٢۔ ٣١١، ملخصا، مطبوعہ دارالفکر، بیروت، ١٤١٨ ھ)

اس میں بھی مختلف روایات ہیں کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو اس بھاری ابتلاء میں مبتلا کرنے کی کیا وجہ تھی۔ بہرحال صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور مقبول بندوں کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ مصائب میں انبیاء (علیہم السلام) مبتلا ہوتے ہیں، پھر صالحین، پھر جو ان کے قریب ہو اور جو ان کے قریب ہو، انسان اپنی دین داری کے اعتبار سے مصائب میں مبتلا ہوتا ہے، اگر وہ اپنے دین میں سخت ہو تو اس پر مصائب بھی سخت آتے ہیں۔ الحدیث (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٩٨، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٢٣٣، مسند احمد ج ١ ص ١٧٢، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٧٨٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٢٣، مسندالبزار رقم الحدیث : ١١٥٠، مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ٨٣٠)

حضرت ایوب (علیہ السلام) کی دعا کے لطیف نکات

حضرت ایوب (علیہ السلام) نے دعا میں یہ نہیں فرمایا : میری بیماری کو زائل فرما اور مجھ پر رحم فرما، بلکہ رحمت کی ضرورت اور اس کا سبب بیان کیا اور کہا : اے رب ! مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اور اپنے مطلوب کو کنایتا بیان فرمایا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے بہرحال اللہ تعالیٰ سے شکوہ کیا اور یہ صبر کے منافی ہے۔ اسکا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرنا صبر کے منافی نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے مصائب کی لوگوں سے شکایت کرنا صبر کے خلاف ہے۔ مثلاً لوگوں سے کہا جائے کہ دیکھو اللہ نے مجھ پر کتنی مصیبتیں نازل کی ہیں اور مجھے کیسی سخت بیماریوں میں مبتلا کیا ہے اور اس پر بےچینی اور بےقراری اور آہ وفغاں کا اظہار کرے۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے دل کا حال کہنا اور اپنے مصائب کا ذکر کرنا اور اسی سے شکایت اور فریاد کرنا صبر کے خلاف نہیں ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا تھا :

انما اشکوابتی وحزنی الی اللہ۔ (یوسف : ٨٦) میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں۔

القرآن – سورۃ نمبر 38 ص آیت نمبر 43