الوسائل الرضویہ لمسائل الجفریہ

اعلیٰ حضرت کا علم جفر پر عربی رسالہ

*’’الوسائل الرضویۃ للمسائل الجفریۃ‘‘*

اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت کا یہ مبارک رسالہ علم کی اس بلندی پر فائز ہے کہ جس کی تفہیم سے ہماری عقلیں عاجز نظر آتی ہیں…بزمِ مطالعہ میں زیارت کی غرض سے پیش کیا جا رہا ہے…جنھیں تفہیم کی صلاحیت ہو وہ اس کی شرح و توضیح کریں، ترجمہ کریں اور گہرِ علم سے دامنِ فکر سجائیں…ان شاء اللہ نگاہیں خیرہ ہوں گی…امام اہلسنّت کے علوم کے کئی جلوے ایمان کو تازہ اور عقائد کو پختہ کریں گے…

“الوسائل الرضویۃ للمسائل الجفریۃ” (۱۳۲۲ھ) عربی تصنیف ہے… مرکزی مجلس رضا لاہور نے۱۴۰۳ھ/۱۹۸۳ء میں ۳۸؍صفحات پر مشتمل شائع کیا… اِس پر تعارفی کلمات بزبانِ عربی علامہ عبدالحکیم شرف قادری علیہ الرحمۃ نے قلم بند کیے… جب کہ اصل کتاب بخطِ مصنف شاہکار ہے… اعلیٰ حضرت کی علم جفر میں مہارت و دسترس کا یہ وہ عظیم نمونہ ہے… جس کی تفہیم کے لیے ماہرینِ جفر شاید و باید مل سکیں… یہ بھی علومِ اعلیٰ حضرت کی بلند شان ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے سچے عاشق کو علوم و فنون کی اس بلند چوٹی پر فائز کیا کہ ان کی علمی تحریریں بعد والے سمجھنے سے عاجز نظر آتے ہیں… پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد لکھتے ہیں:

’’قرآن و تفسیر، حدیث و فقہ، توقیت و فرائض تو ان کے خاص میدان تھے مگر وہ پچاس سے زیادہ علوم و فنون میں دسترس رکھتے تھے… یہی نہیں بلکہ ہر علم و فن میں اپنی یادگاریں چھوڑ کر گئے ہیں جن پر کام کرنا فردِ واحد کے بس کی بات نہیں… ایک اکیڈمی کا کام ہے… راقم کے ذاتی کتب خانے میں تیس سے زائد علوم و فنون پر (امام) احمد رضا کے ایک سو سے زیادہ مخطوطات کے عکس موجود ہیں… مطبوعات اس کے علاوہ ہیں؛ جن کی تعداد بھی ایک سو سے کم نہ ہوگی… ان میں بعض کتابیں تو ایسی ہیں کہ اہلِ علم دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور خود کو عاجز و دَرماندہ پاتے ہیں…‘‘[اُجالا، ص۱۳،مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں]

لیجیے علمِ جفر میں اعلیٰ حضرت کی تحریر منیر کی زیارت سے نگہِ علم ٹھنڈی کیجئے… رسالہ کی فراہمی کے لیے راقم؛ جناب خلیل احمد رانا کا ممنون ہے…

غلام مصطفٰی رضوی

نوری مشن مالیگاؤں

***

٢٤ مارچ ٢٠٢١ء