امام ابن کثیر کا بیان کردہ ایک مزاحیہ قصہ!!

اپنی مشہور تصنیف البدائیہ والنہایہ میں ایک شافعی محدث فقیہ

علامہ عبد الملك بن إبراهيم ابن أحمد أبو الفضل المعروف بالهمداني

کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں :

تفقه على الماوردي، وكانت له يد طولى في العلوم الشرعية والحساب وغير ذلك، وكان يحفظ غريب الحديث لأبي عبيد والمجمل لابن فارس، وكان عفيفا زاهدا،

انہوں نے الماوردی سے فقہ حاصل کی

اور انکا علوم شریعہ اور حساب میں بہت اچھا فہم تھا اور اسکے علاوہ علوم میں بھی

انہوں نے (کتاب) غریب الحدیث حفظ کی ابی ابیدہ کی اور المجمل ابن فارس کی یہ عبادت گزار تھے

پھر امام ابن کثیر کہتے ہٰیں :

وكان ظريفا لطيفا، كان يقول: كان أبي إذا أراد أن يؤدبني أخذ العصا بيده ثم يقول: نويت أن أضرب ولدي تأديبا كما أمر الله، ثم يضربني.

قال: وإلى أن ينوي ويتمم النية كنت أهرب.

(شوافع کے نزدیک تمام عبادات میں زبانی نیت کرنا مستحب ہے،)

اس سلسلے میں ایک دلچسپ لطیفہ منقول ہے کہ امام ابوالفضل ہمدانی شافعی کے والد فقیہ تھے،

ابوالفضل کہتے ہیں کہ بچپن میں جب میرے والد مجھے مارنے کا ارادہ کرتے تو ہاتھ میں لاٹھی پکڑتے تو باقاعدہ نیت کرتے اور کہتے میں اپنے لڑکے کی پٹائی کی نیت کرتا ہوں تادیب کے واسطے جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے، اُن کا مقصود تھا کہ مبادا وہ مارتے ہوئے ظلم کر بیٹھیں لیکن میں ان کی نیت پوری ہونے سے پہلے ہی فرار ہو جاتا تھ

( البداية والنهاية، جلد ۱۲ ، ص ۱۷۷)

😁😅😁