جنت سے قریب، جہنم سے دور۔ ۔ ۔ ۔

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول پاک اونٹنی پر سوار ہوکر صحابئہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ سفرمیں تشریف لے جارہے تھے کہ ایک بدو (دیہاتی )نے آکر آپکی اونٹنی کی مہار پکڑ لی اور کہا حضور مجھے ایسا عمل بتلائیے جو مجھے جنت سے قریب اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ ﷺ ٹھہر گئے اور صحابئہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم کی طرف دیکھ کرفرمایا :اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک جان کر اس کی عبادت کر، نماز پڑھ، زکوٰۃ دے اور صلہ رحمی کراور میری اونٹنی کی مہار چھوڑدے جب بدو چلاگیا توآپ نے ارشاد فرمایا :اگر یہ ان باتوں پر عمل کرتا رہا تو جنت میں جائیگا۔

سبحان اللہ ! میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو!سوال بدوی نے کیا اور فائدہ قیامت تک کے مسلمانوں کا ہوگیا،ان کے سوال پر قربان جائیے کہ جنت سے قریب کر نے والے اعمال اور جہنم سے دور کر دینے والے اعمال کا سوال کرتے ہیں سرکار رحمت عالم ﷺکے قریب ہو نے کے باوجود یہ سوال کر رہے ہیں اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ آقائے کائناتﷺ نے تصور آخرت کتنا پلا دیا تھا ؟سائل کے سوال پر رحمت عالم ﷺ نے جواب دیاوہ مذکورہ حدیث شریف میںموجود ہے ہمیں چاہئے کہ ہم بھی مذکورہ باتوں پر عمل کرکے جنت سے قریب اور جہنم سے دوری کا سامان اختیار کریں۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ۔

٭٭٭

٭٭

٭