حضرت مِسْطَح سیدنا صدیق اکبر کے رشتے دار تھے اور غریب تھے ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اِن کی مالی مدد کیا کرتے تھے ۔

جب یہ منافقوں کی باتوں میں آکے ام المومنین سیدہ عائشہ پاک رضی اللہ عنھا کی اذیت کا سبب بنے تو صدیق اکبر نے ان کی مدد کرنا چھوڑ دی اور کہا:

” اللہ کی قسم میں اب مسطح پر خرچ نہیں کروں گا ۔ “

آپ کی اس قَسم پر اللہ ﷻ نے فرمایا:

ولَایَاْتَلِ اُولُواالْفَضْلِ مِنْكُمْ

اورتم میں فضیلت والے قسم نہ کھائیں ۔

صدیق اکبر نے جب اپنے پاک پروردگار کا کلامِ محبت سنا تو فوراً توبہ کرکے حضرت مسطح کی مدد کرنے لگ گئے ، اور کہنے لگے:

واللہ ! اب کبھی بھی مسطح کی مدد سے ہاتھ نہیں روکوں گا ۔

( ملتقطاً: صحیح البخاری ، ر 4141 )

سبحان اللہ ، جب رب تعالیٰ نے خود صدیق اکبر کو ” فضیلت والا ” کَہ کر مخاطب کیا ہے ، تو ہمیں بھی بہ دل و جان آپ کو افضل البشر بعد الانبیا کہناچاہیے ؛ اس سے انشاءاللہ تعالٰی رضاے الٰہی حاصل ہوگی ۔

✍️لقمان شاہد

31-3-2021 ء