پسندیدہ عمل

حضرت ابو یُعلیٰ نے بنوخیثم کے ایک شخص سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔آپ اس وقت صحابہ کی ایک جماعت کے درمیان تشریف فرما تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے رسول خدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟ سرکار ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا اے رسول اللہﷺ مجھے بتائیے کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ؟ سرکار ﷺ نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا میں نے عرض کیا پھر کونسا ؟ فرمایا صلہ رحمی کرنا میں نے عرض کیا پھر کونسا عمل اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے ؟ فرمایا نیکیوں کا حکم دینا اور برائیوں سے روکناپھر میں عرض گزار ہوااے اللہ کے رسول ﷺکونسا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے ؟ فرمایا سرکار ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرانا، پھر میں نے پوچھایا رسول اللہ ااور کونسا؟ فرمایا قطع رحمی کرنا پھر میں نے عرض کیا اس کے بعد کونسا ؟ فرمایا برائیوں کی ترغیب دینا اور نیکی سے روکنا۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ حدیث میں ان اعمال کا ذکر ہے جو اللہ عزوجل کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہیں ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنے محبین ومعتقدین، دوست احباب، بیوی بچّوں کی پسند کا تو خیال کرتے ہیں مگر اللہ عزوجل اور اس کے پیارے محبوب ﷺ کی پسند کا خیال نہیں کرتے، آئیے آج نیت کریںکہ مذکورہ حدیث شریف میں جو اعمال اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ پسند ہیں انہیں اختیار کرینگے اور وہ اعمال جو اللہ عزوجل کو ناپسند ہیں ان سے پرہیز کریںگے۔ انشاء اللہ

اللہ عزوجل اپنے پیارے محبوب ﷺ کی زلفوں کے تصدق ہم سب کو عمل خیر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ۔