اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ

وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَا نُوْرَاللّٰہِ ﷺ

پڑوسیوں کے حقوق

اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’وَاعْبُدُوْا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَئیْاً وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبَیٰ وَ الْیتٰمیٰ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَ الْجْارِالْجُنُبِ‘‘ ترجمہ : اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہرائو اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں، پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے سے۔ ( پ ۵ ؍ رکوع ۳،کنزالایمان )

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ عزوجل نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین، رشتہ داروں، یتیموں، محتاجوں، اور پڑوسیوں کے ساتھ بھلائی کا حکم دیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان سے بھلائی کی کتنی اہمیت ہے؟ والدین، رشتہ دار،یتیم و محتاج یہ تو سمجھ میں آتے ہیں کہ ان سے سلوک ہونا چاہئے لیکن پڑوسی کے ساتھ بھلائی کے حکم کی وجہ کیا ہے ؟میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! ہر اعتبار سے پڑوسی ہم سے قریب ہوتا ہے اور ہر وقت قریب ہوتا ہے ہم سے ہمارے گھر والوں سے اگرآج ہم نے اس کے ساتھ بھلائی کی تو اللہ نہ کرے اگر کل کوئی معاملہ ہوگا تو وہ ہمیں بھی کا م آئے گا اور ہمارے گھر کے بھی کام آئے گا۔ آیت شریفہ کی مزیدوضاحت تاجدار کائنات ﷺ کے فرامین سے معلوم کریں۔

حضور رحمت دوعالم ﷺ نے فرمایا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ہمسایگان کے حقوق صرف وہی ادا کرسکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہو اور تم میں بہت تھوڑے لوگ ہیں جوہمسا یگا ن کے حقوق جانتے ہیں۔ (ہمسایگان کے حقوق یہ ہیں ) کہ جس چیز کی انھیں ضرورت ہو اسے پورا کرو اگر قرض چاہتے ہیں تو قرض دو اگر انھیں خوشی حاصل ہو توانھیں مبارکباد پیش کرو، اگر کوئی تکلیف لاحق ہو تو اظہار افسوس کرو، اگر بیمار ہوں تو طبع پرسی کرو، اگر مر جائیں تو جنازہ بھی پڑھو اور دفنانے تک ساتھ رہو۔ ( تفسیر روح البیان جلد۵؍ ص ۵۳۰)

اللہ عزوجل اپنے پیارے حبیبﷺ کے صدقہ وطفیل ہم سب کوپڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ۔