” جعلی تبرکات کا گھناؤنا کاروبار “

آجکل مملکت خداداد پاکستان میں ” میڈ ان کراچی “ تبرکات کا دھندہ عروج پر ھے باقاعدہ دینی محافل میں ان کی زیارت کا شد و مد سے اھتمام کیا جاتا ھے بلکہ بعض اوقات مداریوں کی طرح ان کی موبائل زیارت(یعنی چلتاپھرتاکاروبار) کا بھی بندوبست کیاجاتاھے ھر دو سرے تیسرے پیر کے آستانے پر آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے “موئے مبارک” نعلین مبارک ” جبہ مبارک ” اور بہترین پالش شدہ ” عصا مبارک ” اور پیالہ مبارک وغیرہ تبرکات ملیں گے۔

ایک طرف تو ھم لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زاھدانہ زندگی کی مثالیں دیتے ہیں اور دوسری طرف تبرکات کے طور پر اس قدر اشیاء کا بڑا ذخیرہ وافر مقدار میں آستانوں پر دستیاب ھے جانے ھم اس تضاد کو کیسے ختم کرسکتے ہیں؟

کیا یہ حقیقت نہیں ھے کہ تبرکات کے اصلی وارث تو صحابہ کرام تھے ان میں سے اکثر تو ان تبرکات کو اپنے ساتھ تہہ مزار لے گئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے تبرکات کے متعلق اپنی آنکھوں اور ھونٹ میں رکھے جانے کی وصیت کی، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے وہ انگوٹھی قبا کے کنویں میں گرگئی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطوط اور سرکاری دستاویزات پر مہر(سٹیمپ) لگاتے تھے، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے موئے مبارک کو فتح یابی کیلئے اپنی ٹوپی میں سلوا لیا تھا، حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے موئے مبارک کو چاندی کے بکس میں بند کرلیا تھا جو بوقت ضرورت مریضوں کو شفایابی کیلئے پانی میں گھول کر پلایا جاتاتھا، ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کردہ قمیص مبارک کو بطور کفن استعمال کرنے کی وصیت فرمائی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی ایک صاحبزادی کو اپنا قمیص مبارک بطور تبرک کفن میں دیاتھا، ایک قمیص مبارک سید المنافقین عبداللہ بن ابی کو بطور کفن دیا گیاتھا،حضرت انس رضی اللہ عنہ کے کفن میں نو موئے مبارک رکھے گئے تھے،خلاصہ یہ ھے کہ بہت سی تبرکات کے متعلق معتبر کتب میں یہ ثبوت موجود ہیں کہ صحابہ کرام انہیں اپنے ساتھ اپنے سفر آخرت میں لےگئے۔

ھمیں اصلی اور مستند تبرکات کی شرعی حیثیت بھی معلوم ھے اور اھمیت کا علم بھی، اس سلسلے میں ھمارا اعتقاد وہی ھے جو علماء ومشائخ اھلسنت کا ھے۔

لیکن اس تحریر میں ھمارے تمام تر غیظ وغضب کا اظھارفقط جعلی تبرکات کے حاملین پر ھے کیونکہ یہ لوگ نہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر فراڈ کررھے ہیں بلکہ ان لوگوں کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دیگر معتبر اسلامی شخصیات مثلا حضرت علی رضی اللہ عنہ، حسنین کریمین رضی اللہ عنھما اور حضور غوث پاک کے جعلی تبرکات بھی بکثرت دستیاب ہیں حد تو یہ ھے کہ موئے مبارک تعداد اور لمبائی میں بھی بڑھنے کے دعوے کئے جاتے ہیں اور جاھل لوگوں کو اسے حیات النبی کا ثبوت باور کرایا اورسمجھایا جاتاھے۔ ایسے لوگوں سے جب کہا جاتا ھے کہ اگر موئے مبارک کے متعلق تمہارے یہ تمام دعوے(کم و کاست اور تعداد میں بڑھنا) حقیقت پر مبنی ہیں تو مخالفین کو چپ کرانے کیلئے ان موئے مبارک کو کسی با اعتماد کھلی جگہ پر رکھوا دیں تاکہ پوری دنیا کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کرے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم معجزے کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں تو وہ باوجود مطالبہ کرنے کے اس پر راضی نہیں ہوتے نیز آجکل تو سائنس کا زمانہ ھے کسی بھی چیز کو فرانزک لیبارٹریوں میں بھیج کر اس کی قدامت کا اندازہ لگایا جانا نہایت سھل اور ممکن ھے لیکن یہ لوگ اس پر بھی راضی نہیں ہوتے(کیونکہ انہیں اپنے اس گھناؤنے کاروبار اور دوکانداری کے پول کھل جانے کا اندیشہ ہوتاھے) تحقیق کرنے پر ایسے اکثر تبرکات کے تانے بانے اور کھرے زیادہ تر کراچی کی مارکیٹوں سے جا ملے ہیں۔ ھم نے تبرکات کے متعلق جب قرآن وحدیث میں غور کیا تو یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ قرون اولی میں تبرکات کا استعمال شفایابی،دعا،وسیلہ، وغیرہ کیلئے ہوتاتھا محض زیارت کیلئے ان کا استعمال نہیں تھا۔

کسی بھی شخصیت سے مثالی محبت کے دنیا میں دو ہی معیار مروج ہیں ایک معیار تو یہ ھے کہ یار سے منسوب ہر چیز کو یار کی نشانی سمجھ کر قبول کرتے جائیں کسی جان پھٹک اور تحقیق کی ضرورت نہیں۔

محبت کا دوسرا معیار یہ ھے کہ یہ سمجھ کر خوب تحقیق کریں کہ میرے یار میں تو پہلے ہی سے کوئی کمی نہیں میں بھلا کسی غیر معتمد چیز کاسہارا لے کر اپنے یار کی پوزیشن کو کیوں مشکوک بناؤں۔

محققین کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق محبت کا یہی دوسرا معیار قابل قبول ھے کیونکہ اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سراپا کمالات تخلیق فرمایا ھے۔

خلقت مبرءا من کل عیب

کانک قد خلقت کما تشاء

البتہ پہلا انداز محبت بھی صوفیوں میں مقبول ھے لیکن وہ صرف کسی بھی انسان کیلئے اس کی اپنی ذات کی حد تک قابل قبول ھے دوسروں کو اس انداز محبت کا پابند نہیں بنایا جاسکتا۔

ذیل میں ھم شریعت مطھرہ کی روشنی میں تبرکات کے متعلق بحث کرتے ہیں ھمارا مقصد اصلی تبرکات کا انکار نہیں بلکہ جعلی تبرکات کے گھناؤنے کاروبار کو روکنا ھے۔

ھمارے نزدیک کسی بھی چیز کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے کیلئے بطرز محدثین سند کی ضرورت ھے البتہ تبرکات کیلئے سند کا وہ معیار ضروری نہیں جو احکام(مسائل حلال وحرام) و عقائد کیلئے ضروری ھے بلکہ اس قدر ثبوت کافی ھے جو مستحبات و فضائل کیلئے ضروری ھے۔

حدیث پاک میں ھے۔

” من حدث عنی حدیثا یری انہ کذب فھو احد الکاذبین “

(ترمذی)

جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی بات نقل کرے دراں حالے کہ وہ سمجھ رھا ھےکہ یہ خلاف واقعہ ھے تو یہ شخص یقینا جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ھے

ایک اور حدیث شریف میں ھے۔

” لا تکذبوا علی فانہ من یکذب علی یلج النار “

(ترمذی،مسند احمد،نسائی)

مجھ پر جھوٹ نہ بولو اس لئے کہ جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے گا، وہ جھنم میں داخل ہوگا۔

ایک اور حدیث پاک میں ھے۔

” من کذب علی متعمدا فلیتبوء مقعدہ من النار “

(،مسلم،ترمذی)

جوشخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے تو اس کا ٹھکانہ جھنم ھے۔

ان تمام احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کذب منسوب کرنے کی سخت ممانعت آئی ھے اور ایسے شخص کو جھنمی کہا گیاھے یاد رھے کہ اس سے مراد یہ نہیں ھے کہ محض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ” جھوٹی بات “ منسوب کرنا گناہ ھے بلکہ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی بھی جھوٹی چیز کو منسوب کرنا بھی اس وعید میں داخل ھے۔

امام نووی علیہ الرحمہ کذب کی تعریف یوں فرماتے ہیں۔

” ان مذھب اھل الحق ان الکذب ھو الاخبار عن الشيء بخلاف ما ھو عمدا کان او سھوا او غلطا “۔

(شرح مسلم للنووی،ص108ج1)

یعنی خارج میں جو حقیقت یا جو شیئ جس طرح سے ھے اس کے خلاف خبر دینا اگرچہ عمدا ہو یا بلا ارادہ “کذب” کہلاتا ھے اور ایسا کرنا گناہ کبیرہ ھے۔

خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا دعوی کرنے والے کے متعلق حافظ ابن حجر العسقلانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ اسلاف کا نظریہ اس بارے میں خاصا سخت اور مبنی بر احتیاط تھا وہ ایسا دعوی کرنے والے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک پوچھتے اور پھر شمائل میں مذکور اوصاف کے ساتھ اس کی سچائی یا دروغ گوئی کا فیصلہ کرتے۔

چنانچہ حافظ ابن حجر العسقلانی علیہ الرحمہ فتح الباری میں لکھتے ہیں۔

” کان محمد یعنی ابن سیرین اذا قص علیہ رجل انہ رآی النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال صف لی الذی رایتہ فان وصف لہ صفة لایعرفھا قال لم ترہ وسندہ صحیح ووجدت لہ مایؤیدہ فاخرج الحاکم من طریق عاصم بن کلیب حدثنی ابی قال قلت لابن عباس رایت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی المنام قال صفہ لی قال ذکرت الحسن بن علی فشبھتہ بہ قال قال رایتہ وسندہ جید “۔

(الفتح الباری،ص474ج12)

یعنی امام المعبرین حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی ایسا شخص آتا جو کہتا کہ مجھے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تو آپ اسے کہتے کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ حلیہ بیان کرو جس میں تم نے دیکھاھے پھر اگر اس کا بیان کردہ حلیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصلی حلیہ مبارک کے مطابق ہوتا تو ٹھیک ورنہ محمد بن سیرین کہہ دیتے کہ تو جھوٹاھے تونے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھاھے۔(اس روایت کی سند صحیح ھے) حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ امام ابن سیرین کے اس روئیے کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ھے جو مجھے المستدرک للحاکم میں ملی کہ عاصم بن کلیب کہتے ہیں کہ میرے اباجان کہتے تھے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ایک بار کہاتھا کہ خواب میں مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تو انہوں نے بھی مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک پوچھا تھا میں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مبارکہ امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مشابہ ھے تو انہوں نے فرمایا تو نے واقعی خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ھے۔ (اس روایت کی سند جید ھے)

یہی بات کچھ تغیر وتبدل کے ساتھ شیخ انور شاہ کشمیری علیہ ما علیہ نے بھی لکھی۔

” ولما ضیق الاولون فی رؤیتہ وقیدوھا بتقییدات وسعوا فی اعتبار اقوال الحلمیة بخلاف الجمھور فانھم اذا وسعوا فی امر الرؤیة ضیقوا فی اعتبار تلک الاقوال ولکنھا تعرض علی الشریعة عند جمیعھم فان وافقت قبلت والا فلا “۔

(فیض الباری ج1ص203)

یعنی خواب میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے متعلق اسلاف کا نظریہ سخت احتیاط والا تھا کہ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھنا اسی وقت معتبر ہوگا جب کہ دیکھنے والا اس حلیہ میں دیکھے جو شمائل میں مذکور ھے، اس میں ذرا بھی فرق آیا تو کہہ دیتے کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا اتنی شدت وہ کلام میں نہیں کرتے تھے۔ بخلاف جمھور کے کہ انھوں نے خواب کے بارے میں وسعت کردی کہ خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حلیہ میں دیکھا اگر اس کے دل میں آیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رھا ھے تو بس واقعی اس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا البتہ وہ بھی خواب میں سنے ہوئے کلام کے اعتبار میں شدت اختیار کرتے ہیں کہ دیکھنے والے نے جو کلام سنا ضروری نہیں کہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہو کیوں کہ شیطان خواب میں بھی آواز میں مشابھت کرکے مغالطہ میں ڈال سکتا ھے لیکن اس پر سب متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جو کچھ فرمایا وہ شریعت کی کسوٹی پر پرکھے جائیں گے۔

قارئین کرام!!

غور فرمائیں کہ جب خواب میں ایک بات کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنے کیلئے اسلاف اس قدر جان پھٹک کو ضروری قرار دیتے ہوئے مزاج شریعت کو کسوٹی بناتے ہیں تو کھلی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کیسے اجازت دی جا سکتی ھے۔

یہی وجہ ھے کہ علامہ ابن رجب علیہ الرحمہ نے واشگاف الفاظ میں خاص تبرکات کے متعلق انتہائی واضح انداز میں لکھا ھے ۔

” وکذلک التبرک بالآثارفانما کان یفعلہ الصحابۃ رضی اللہ عنھم مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولم یکونوا یفعلونہ مع بعضھم ببعض ولا یفعلہ التابعون مع الصحابۃ مع علو قدرھم “ ۔

(الحکم الجدیدۃ بالاذاعۃ من قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعثت بالسیف بین یدی الساعۃ،ص55)

یعنی اسی طرح آثار کے ساتھ تبرک کا معاملہ ھےصحابہ کرام علیھم الرضوان نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار کے ساتھ تبرک لیا کرتے تھے لیکن آپس میں وہ ایسا نہیں کرتے تھےنہ ہی تابعین کرام صحابہ کرام کے آثار کے ساتھ تبرک لیتے تھے،حالانکہ ان کی قدر و منزلت بہت بلند تھی۔

یہی بات سلفی فکر کے ترجمان اور شارح کتاب التوحید الشیخ عبدالرحمن بن حسن آل الشیخ فتح المجید میں بھی اس سے ذرا مختلف انداز میں بیان کی وہ لکھتے ہیں۔

” واما ما ادعاہ بعض المتاخرین من انہ یجوز التبرک بآثار الصالحین فممنوع من وجوہ منھا ان السابقین الاولین من الصحابۃ ومن بعدھم لم یکونوا یفعلون ذلک مع غیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا فی حیاتہ ولا بعد موتہ ولو کان خیرا لسبقونا الیہ وافضل الصحابۃ ابو بکر وعمر وعثمان وعلی رضی اللہ عنھم وقد شھد لھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیمن شھد لہ بالجنۃ وما فعلہ احد من الصحابۃ والتابعین مع احد من ھؤلاء السادۃ “ ۔

(فتح المجید شرح کتاب التوحید ص142)

بعض متاخرین جو صالحین کے آثار سے تبرک لینے کے جوازکا دعوی کرتے ہیں تو یہ کئی وجوہ سے ممنوع ھے ایک تو اس لئے کہ سلف صالحین(صحابہ و تابعین) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے آثار سے تبرک نہیں لیتے تھےنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد، اگر یہ نیکی کا کام ہوتا تو سلف صالحین ھم سے پہلے ضرور اس کام کو کر چکے ہوتے۔صحابہ کرام میں سے بزرگ ترین ھستیاں سیدنا ابو بکر وعمر اور عثمان وعلی رضی اللہ عنھم جو ان صحابہ میں شامل تھےجن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی تھی،ان بزرگ ترین ھستیوں کے آثار سے بھی کسی نے تبرک نہیں لیا۔

اگرچہ شیخ عبدالرحمن سلفی فکر اور وھابی عقیدے کے حامل ہیں اور ھمیں شیخ عبدالرحمن کی بات سے من کل الوجوہ اور مکمل اتفاق نہیں لیکن شیخ کا یہ دعوی ضرور قابل توجہ ھے کہ صحابہ کرام اور تابعین ایک دوسرے کے ساتھ تبرکات کا معاملہ نہیں کرتے تھے۔

امام طحاوی علیہ الرحمہ نے عقیدہ طحاویہ میں صاف فرمایاھے کہ معجزات وکرامات و جمیع خرق عادت اشیاء واقوال کو ماننے کیلئے ثقات سے ثبوت ضروری ھے۔

فرماتے ہیں۔

” ونؤمن بماجاء من کراتھم وصح عن الثقات من روایاتھم(قال الشارح العلامة صدرالدین محمدبن علاءالدین علی بن محمد ابن ابی العزالحنفی علیہ الرحمة)المعجزة فی اللغة تعم کل خارق للعادة وکذلک الکرامة فی عرف ائمة اھل العلم المتقدمین “

(شرح العقیدة الطحاویة،ص494)

یعنی ھم(اھلسنت) صرف انہی معجزات،کرامات اور خوارق عادات کو مانتے ہیں جن کا ثبوت ثقات سے ہو۔

واللہ اعلم

محمد عرفان الحق نقشبندی

دار العلوم حنفیہ رضویہ

سیمنٹ فیکٹری ڈیرہ غازی خان

03007824224

03457132487