{انگوٹھی اورزیور کابیان}

مسئلہ : مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے جو وزن میں ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اورسونے کی انگوٹھی بھی حرام ہے تلوار کا حلیہ چاندی کا جائز ہے یعنی اس کے نیام اورقبضہ یا برتلے میں چاندی لگائی جاسکتی ہے بشرطیکہ وہ چاندی مواضع استعمال میں نہ ہو۔(درمختار وردالمختار)

مسئلہ : انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے دوسری دھات کی انگوٹھی حرام ہے مثلاً سونا، لوہا، پیتل ، تانبا، جست وغیرہا ان دھاتوں کی انگوٹھیاں مرد وعورت دونوں کے لئے ناجائز ہیں فرق اتنا ہے کہ عورت سونا بھی پہن سکتی ہے اورمرد نہیںپہن سکتا۔

مسئلہ : انگوٹھی اُنہی کے لئے مسنون ہے جن کو مہر لگانے کی حاجت ہو مثلاً جیسے سلطان وقاضی اورعلماء ومفتی جو فتوے پر مہر لگاتے ہیں ان کے سوا دوسروں کے لئے جن کو مہر لگانے کی حاجت نہ ہو مسنون نہیں مگر پہننا جائز ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ : انگوٹھی وہی جائز ہے جو مردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو اوراگر اس میں کئی نگینے ہوں تواگر چہ وہ چاندی ہی کی ہومرد کے لئے ناجائز ہے ۔(ردالمختار) اِسی طرح مردوں کے لئے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلّے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ انگوٹھی نہیں ،عورتیں چھلّے پہن سکتی ہیں۔

مسئلہ : چھوٹے لڑکوں کو منّت کے چھلّے ہاتھ پاؤں میں پہنانا جائز نہیں ہے جس نے پہنایا وہ گنہگار ہوگا۔