نرسنکھا نند سرسوتی کے خلاف فی الحال کرنے کے کام،،

(1) اپنے اپنے علاقے کی چھوٹی بڑی تنظیموں کا الائنس کرکے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں اور پریس میں صحیح ڈھنگ سے بیان بھی دیں بیان میں لاجک و معقول انداز اپنائیں،،،

(2) میڈیا میں صحیح ڈھنگ سے بیان بھی دیں انٹرویو میں درج ذیل باتیں کہیں،، ہم مسلمان کسی کے مذہبی پیشوا کو گالیاں نہیں دیتے کیوں کہ ہمارے قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ ” تم دوسروں کے معبودوں کو گالیاں نہ دو کہ وہ جہالت اور دشمنی میں اللہ تعالیٰ کو برا کہیں گے،،، اور یہ بھی کہیں کہ نرسنکھا نند سرسوتی جیسے ناسوروں کو جیل کیوں نہیں بھیجا جا رہا ہے دوسری طرف اقلیت کی طرف سے ذرا سی بات آپ کے مزاج کے خلاف ہو تو فورا کاروائی ہوتی ہے یہاں پر کاروائی کیوں نہیں ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ مطلب لاجک اور معقول باتیں کہی جائیں محض جذباتی اور بھڑاس نکالنے والی بات نہ ہو ہو کہ یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے،،،

(3) ایک دوسرے پر تنقید کرنا بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے لہذا اہل خانقاہ اہل مدارس کو یا برعکس یا یہ دونوں سیاسی قیادت کو نشانہ پر لیں میرے نزدیک یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو دعوتی اسلوب میں بیدار کریں یہ تو پوری امت مسلمہ کا مشترکہ معاملہ ہے لہذا اپنی آواز احتجاج کو مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے کی سپورٹ کریں اپنے تحفظات کے ساتھ،،،

(4) بڑے چہروں کی طرف زیادہ دیکھنا اور انہیں سے تمام توقعات وابستہ رکھنا اس عہد میں مسئلہ کا حل نہیں ہے لہذا خود سے بھی حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور جد و جہد جاری رکھیں مخلص بنیں،، والذین جاہدوا فینا لنھدینھم سبلنا “

(5) بحیثیت مسلم ہماری بھی کچھ ذمہ داری ہے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور آس پاس ہم خیال علماء و دانشوران کا ایک پینل بنائیں مہینہ دو مہینہ میں مٹنگ کرتے رہیں کہ انفرادی کوشش سے کہیں زیادہ اجتماعی کوشش مؤثر ہوتی ہے،،، ہم علماء سنبھل سے مشاورت کے بعد ان شاء اللہ سرسوتی کے خلاف قانونی کارہ جوئ کرنے جا رہے ہیں،،،، #توصیف رضا مصباحی سنبھلی