عمدہ گفتگو بھی سیکھیں وہ بھی اللہ عزوجل کی رضا کے لیے سیکھیں

امام ابوداود علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَلَّمَ صَرْفَ الْكَلَامِ لِيَسْبِيَ بِهِ قُلُوبَ الرِّجَالِ، أَوِ النَّاسِ، لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

“جس نے آدمیوں یا لوگوں کے دلوں کو اپنے جال میں پھانسنے کے لیے عمدہ گفتگو سیکھی, اللہ عزوجل قیامت کے دن نہ اس کی فرض عبادت قبول فرمائے گا اور نہ ہی نفل۔”

سنن ابی داود ج 4 ص 302 رقم الحدیث 5006

ناصرالبانی صاحب نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔

حاشیہ سنن ابی داود ج 4 ص 302 رقم الحدیث 5006

مشکاۃ المصابیح (تحقیق البانی) ج 3 ص 1353 رقم الحدیث 4802

محقق شعیب الارنوؤط نے بھی اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔

إسناده ضعيف. الضحاك بن شرحبيل ضعفه أحمد،

سنن ابی داود (ت الارنوؤط) ج 7 ص 354 رقم الحدیث 5006

لیکن میرے علم کے مطابق اس حدیث کی تحقیق میں ناصر البانی صاحب اور شعیب الارنوؤط صاحب سے خطاء ہوئی ہے کیونکہ یہ حدیث حسن ہے کیونکہ جس ضحاک بن شرحبیل راوی کو امام احمد بن حنبل نے ضعیف کہا ہے وہ کوئی اور ہے۔ اس کی وضاحت میں امام ذہبی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

الضحاك بن شرحبيل [ق] . عن زيد بن أسلم. ضعفه أحمد ابن حنبل.

وأما: الضحاك بن شرحبيل [د] المصري الغافقي. عن أبي هريرة فصدوق

الضحاک بن شرحبیل (ق) اس نے زید بن اسلم سے روایت نقل کی ہے امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور اگر الضحاک بن شرحبیل (د) مصری غافقی ( یہ وہ ہے جو) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کرتا ہے تو پھر یہ صدوق ہے۔

میزان الاعتدال ج 2 ص 324 رقم 3932

اور سنن ابی داود کی سند میں الضحاک بن شرحبیل عن ابی ہریرۃ ہے نہ کہ الضحاک بن شرحبیل عن زید بن اسلم ہے۔ لہذا اس روایت کی سند ضعیف نہیں بلکہ حسن ہے۔

الضحاک بن شرحبیل مصری کی توثیق مندرجہ ذیل ہے:

امام ابوزرعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

الضحاك بن شرحبيل لا بأس به صدوق.

الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج 4 ص 459

امام عجلی فرماتے ہیں:

الضَّحَّاك بن شُرَحْبِيل مصري تَابِعِيّ ثِقَة

الثقات للعجلی ج 1 ص 471 رقم 771

امام ابن حبان فرماتے ہیں:

الضَّحَّاك بْن شُرَحْبِيل العكي أَصله من عكة انْتقل إِلَى مصر يروي عَن بْن عمر روى عَنْهُ مُوسَى بْن أَيُّوب الغافقي

الثقات لابن حبان ج 4 ص 388 رقم 3497

امام عسقلانی فرماتے ہیں:

الضحاك ابن شرحبيل الغافقي بالمعجمة أبو عبد الله المصري صدوق يهم من الرابعة د ت ق

تقریب التہذیب ج 1 ص 379 رقم 2969

لہذا ناصرالبانی اور شعیب الارنوؤط کا اس حدیث کی سند کو ضعیف قرار دینا تحقیقا درست نہیں بلکہ یہ حدیث اصولا و تحقیقا حسن ہے۔

واللہ اعلم

رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ