وہ لمحہ جب امام ابن المقری بھوک سے نڈھال ہو کر قبررسولﷺ کے سامنے آکر التجاء کی اور امام طبرانی نے ان سے صبر کی تلقین کی

ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی

امام ذھبی اپنی مشہور تصنیف سیر اعلام میں فرماتے ہیں :

وروي عن أبي بكر بن أبي علي، قال: كان ابن المقرئ يقول:

كنت أنا والطبراني، وأبو الشيخ بالمدينة، فضاق بنا الوقت، فواصلنا ذلك اليوم، فلما كان وقت العشاء حضرت القبر، وقلت: يا رسول الله الجوع ، فقال لي الطبراني: اجلس، فإما أن يكون الرزق أو الموت.

فقمت أنا وأبو الشيخ، فحضر الباب علوي، ففتحنا له، فإذا معه غلامان بقفتين فيهما شيء كثير، وقال: شكوتموني إلى النبي – صلى الله عليه وسلم -؟ رأيته في النوم، فأمرني بحمل شيء إليكم.

امام ابن المقری کہا کرتے تھے کہ میں امام طبرانی اور ابو الشیخ کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہتے تھے ہمارا خرچہ ایک دفعہ ختم ہو گیا اور ہم تنگدستی کا شکار ہوگئے تھے ہم نے بغیر سہری کھائے روزہ رکھا ہوا تھا عشاء کے وقت میں کے وقت نبی اکرمﷺ کی قبر پر آیا اور کہا یا رسول اللہ!

ہم بھوک سے نڈھال ہیں یہ دیکھ کر امام طبرانی کہنے لگے بیٹھ جاو ہمیں رزق مل جائے گا یا موت آجائے گی چناچہ میں اور ابو الشیخ اٹھ کر باہر آئے تو دروازہ پر ایک علوی کو موجود پاا ہم نے دروازہ کھولا تو اس کے ساتھ دو غلام دو ٹوکروں میں بہت سی چیزیں لیے کھڑے تھے بولا تم نے رسولﷺ کے پاس میری شکایت کی ہے میں نے آپﷺ کو خواب میں دیکھا ہے آپ نے مجھے تم لوگوں کو کچھ دینے کا حکم فرمایا (سبحان اللہ )

(سیر اعلام النبلاء جلد ۱۶، ص ۴۰۶)

اور اسی روایت کو پہلے

تذکرہ الحفاظ

اور

تاریخ الاسلام

میں بھی نقل کیا ہے اور بطور فضیلت اس واقعہ کو نقل کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام ذھبی کے نزدیک یہ واقعہ شریعت کے عین مطابق تھا وگرنہ وہ اسکو بطور فضیلت امام ابن المقری کے ترجمہ میں بیان کیا ہے

کیونکہ سیر اعلام کے حاشیہ مٰیں علامہ شعیب الارنووط جو عقیدے میں سلفی اور فروع میں حنفی تھے انہوں نے اس واقعہ پر رد کیا ہے کہ یہ اللہ سے سوا کسی سے نہیں مانگنا چاہیے فلاں فلاں ۔۔۔۔۔ لیکن اس واقعہ کا رد نہیں کیا ہے

کچھ لوگ یہ اعتراض کریں کہ اس واقعہ کی سند پیش نہیں کی امام ذھبی نے تو یہ بات مردود ہے

اب اسکا جواب چند نکات سے پیش کرینگے

۱۔ علامہ ابن جوزی نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے اپنی کتاب

الوفا بتعريف فضائل المصطفى ص ۵۱۵ پر چونکہ یہ کتاب میں تمام روایات کی اسناد حذف کر دی گئی ہیں تو کچھ معلوم نہیں کہ سند کیسی تھی

لیکن اس واقعہ کو امام ابن مقری نے اپنی تصنیف ”مسند اصبھان” میں بھی خود نقل کیا ہے جو اس واقعہ کے بنیادی راوی ہیں اور خود کے ساتھ پیش کردہ اس واقعہ کو بیان کرنے والے ہیں تو اس سے سند والا مسلہ ختم ہوجاتا ہے لیکن چونکہ یہ مسند اصبھان اب مفقود ہے لیکن محدثین و محققین نے اس واقعہ کو امام ابن مقری کی مسند سے نقل کیا ہے ہو سکتا ہے کہ انکے پاس اس کتاب کا نسخہ ہو یا اس کتاب کا نشر کردہ نسخہ تک ہماری پہنچ نہیں

جیسا کہ محدث الوقت عبداللہ بن محمد صدیق الغماری جنکے تلامذہ میں دبئی کے محدث شیخ محمد سعید ممدوح، جیسے لوگ ہیں

وہ اپنی تصنیف میں تصریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وقال الحافظ ابو بکر ابن المقری فی (مسند اصبھان) : کنت انا والطبرانی و ابو الیشخ فی مدینة الخ۔۔۔۔۔

(اتحاف الاذکیاء ، ص ۲۳)

اسی طرح الازھر کے محقق علامہ عبد السلام العمرانی الخالدی جو متعدد تصانیف کے مصنف ہیں انہوں نے بھی اپنی تصنیف

”الرسالة المحمدیة الشاملة خلاک اربعة عشر قرنا کاملة” میں اس واقعہ کو نقل کرنے سے پہلے تصریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

قال الحافظ ابو بکر بن القمری فی مسند اصبھان کنت انا والطبرانی و ابو الشیخ الخ۔۔۔۔

اسی طرح دبئی کے محقق العصر محدث علامہ عیسیٰ بن مانع جو متعدد کتب کے محقق ہیں

اانہوں نے اپنی تصنیف ” التامل فی حقیقة التوسل”

تصریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وقال الاعلامة المحدث سیدی الشیخ عبد الله بن الصدیق الغماری

قال الحافظ ابو بکر بن المقری فی مسند اصبھان کنت انا والطبرانی الخ۔۔۔۔

(ص ۳۳۵)

ان دلائل سے یہ تو معلوم ہوا گیا کہ امام ابن المقری نے اپنی مسند میں اس روایت کو نقل کیا ہے خود جو امام طبرانی و ابو الشیخ محدث کے ساتھ تھے

کیا محدثین نے امام ابن المقری کے ترجمہ میں انکی مسند یا مسانید (متعدد) کا ذکر کیا ہے ؟ تو اسکے دلائل بھی درج ذیل ہیں :

امام ابن نقطة الحنبلي البغدادي (المتوفى: 629هـ)

محدث انکے بارے لکھتے ہیں :

محمد بن إبراهيم بن علي بن عاصم بن زاذان أبو بكر ابن المقري الحافظ الأصبهاني.

طاف البلاد سمع الكثير سمع بمكة مسند محمد بن يحيى العدني من إسحاق بن أحمد بن إسحاق بن نافع الخزاعي وبالموصل المسند من أبي يعلى وسمع ببغداد من عمر بن إسماعيل بن أبي غيلان وحامد بن شعيب البلخي وأحمد بن الحسن بن عبد الجبار الصوفي وأبي القاسم البغوي وبدمشق من أحمد بن عمير بن جوصاء ومحمد بن الفيض الغساني وبحران من أبي عروبة وغيره وبمصر من محمد بن زبان بن حبيب ومحمد بن محمد بن بدر بن النفاخ الباهلي وأبي جعفر الطحاوي سمع منه كتاب شرح الآثار وسمع بالبصرة والكوفة وواسط وبلاد الجزيرة والشام من خلق كثير.

انہوں نے کثیر علاقوں میں جا کر سماع کیا ہے مکہ میں مسند محمد بن یحییٰ سماعت کی احمد بن اسحاق سے

موصل کے مقام پر مسند ابی یعلیٰ کی سماعت کی امام ابو یعلی الحنفی کی

اور بغداد کے مقام پر عمر بن اسماعیل سے اور دمشق مٰں احمد بن عمیر سے سماع کیا

یہ امام ابو جعفر الطحاوی الحنفی کے شاگرد تھے انہوں نے ان سے انک یکتاب شرح (معانی و مشکل) الاثار کا سماع کیا ہے

اسکے علاوہ انہوں نے بصرہ ، کوفہ ، اسکے درمیانی علاقے ، جزیرہ اور شام کے علاقوں میں کثیر لوگوں سے سماعت کیا ہے

یہ ثقہ فاضل تھے انہوں نے اصبھان میں ابراہیم وغیرہ سے سماع کیا

انہوں نے موصل کے مقام پر ابی یعلیٰ سماع کیا اور پھر انہوں نے مسند ابی حنیفہ کو جمع کرنا شروع کیا

انکی تصانیف میں الفوائد ، المعجم شیوخہ اور اسکے علاوہ تصانیف بھی ہیں

(التقييد لمعرفة رواة السنن والمسانيد ص ۲۷)

اس سے معلوم ہوا کہ انہوں نے کثیر محدثین سے انکی مسانید کو سماع کیا اور امام ابو حنیفہ کی مسانید کو بھی خاص پر جمع کیا جو کہ انکی مشہور ہے

اور امام ابن عساکر انکے بارے لکھتے ہیں

أبو بكر بن المقرئ محدث كبير ثقة أمين صاحب مسانيد وأصول سمع بالعراق والشام ومصر

ابو بکر ابن مقری جو کہ کبیر یعنی بہت بڑے محدث اور ثقہ اور دیندار تھے یہ صاحب مسانید تھے اور صاحب اصول تھے انہوں نے عراق ، شام اور مصر وغیرہ میں سماع کیا ہے

(تاريخ دمشق ، امام ابن عساکر ، جلد ۵۱ ، ٓص۲۲۲)

(نوٹ: یہاں انکی مسانید کا ذکر ہے کیونکہ ایک تو انکی تصنیف مسند ابی حنیفہ لکھی ہوئی تھی اور دوسری مسند اصبھان تھی جسکی وجہ سے دو مسانید کا اشارہ ہے اس عبارت میں )

پس اس تحقیق سے معلوم ہوا امام ابن المقری نے جو امام طبرانی و ابو الشیخ کا واقعہ بیان کیا جب یہ انکے ساتھ مدینہ منورہ میں تھے انہوں نے اس واقعہ کو اپنی مسند میں بھی لکھ ہے

اور محققین و محدثین نے انکی مسند سے یہ واقعہ نقل کیا ہے اور کتاب سے نقل کردہ واقعہ کے لیے سند کا مطالبہ باطل ہوتا ہے

اللہ تعالیٰ ہم کو بھی سلف و صالحین کے راستے پر چلتے کی توفیق دے آمین

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی