{پردہ کے مسائل}

القرآن : ترجمہ: مسلمان مردوں کو حکم دواپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کیلئے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کاموں کی خبر ہے اورمسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اوراپنی پارسائی کی حفاظت کریں اوراپنا بناؤ (سنگھار) نہ دکھائیںجتنا خود ہی ظاہر ہے اوردوپٹے اپنے گریبانوں میں ڈالے رہیں۔(سورہ نور)

کن کن سے پردہ فرض ہے }

چچازاد ، پھوپھی زاد، ماموں زاد، خالہ زاد ، خالو ، شوہر کا بھتیجا، دیور، جیٹھ ، نندوئی ، بہنوئی ، پھوپھا، شوہر کا بھانجا، شوہر کا ماموں ، شوہر کا پھوپھا، شوہر کا خالو۔ایک لڑکی کا ان تمام اشخاص سے پردہ کرنا فرض ہے منہ بولی بہن کا بھی اسلام میںکوئی تصور نہیںہے بہن صرف وہی ہے جو آ پ کی والدہ کے پیٹ سے پیدا ہوئی ۔یاآپ کے والد کی اولاد ہو یا اُس کی دودھ شریک بہن ہو۔

مسئلہ: اندھے شخص سے بھی پردہ کیا جائے کیونکہ وہ اندھا ہے مگر لڑکی تواندھی نہیںہے۔

مرد کا جسم مرد کتنا دیکھ سکتاہے }

مسئلہ : مرد دوسرے مرد کا ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا حصّہ نہیں دیکھ سکتا اس کا چُھپانا ضروری ہے۔

مسئلہ : اَمرد لڑکے کو بنظرِ شہوت دیکھنا حرام ہے بغیر شہوت کے دیکھ سکتے ہیں۔

عورت کا جسم عورت کتنا دیکھ سکتی ہے }

مسئلہ : عورت کا عورت کودیکھنا اس کا وہی حکم ہے جو مرد کو مرد کے طرف نظر کرنے کا ہے یعنی ناف کے نیچے سے گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتی باقی اعضاء کی طرف دیکھ سکتی ہے بشرطِ کہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔(ہدایہ )

مسئلہ: عورت پَرائے مرد کے جسم کو ہر گز نہ چھوئے جب کہ دونوں میں سے کوئی بھی جوان ہو۔ اس کو شہوت ہوسکتی ہے اگرچہ اس بات کا دونوں کواطمینان ہوکہ شہوت پیدا نہیں ہوگی۔(عالمگیری) بعض جوان عورتیں اپنے پِیروں کے پاؤں دباتی ہیں اوران میں اکثر دونوں یا ایک حدتک شہوت میں ہوتاہے ایسا کرنا ناجائز ہے اوردونوں گنہگار ہیں۔ (بہار شریعت)

مسئلہ : عورت کی آواز بھی عورت ہے لہٰذا یہ خیال رکھا جائے اس کی آواز غیر مرد نہ سُنے ۔

مسئلہ : اپنے پیر سے بھی پردہ فرض ہے پیروں کااپنی مُریدنی کے سرپر یا کمر پر ہاتھ رکھنابھی ناجائز ہے۔

مسئلہ : عورتوں کا اس طرح مائک میں زور زور سے میلاد پڑھنا ناجائز ہے کہ غیر مرد اس کی آواز سُنے یہ محل فتنہ ہے عورت کی آواز بھی عورت ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جلد دہم صفحہ 122)

گھر کی چاردیواری میں اس طرح میلاد پڑھے کہ آواز چاردیواری کے اندر ہی رہے ایسی مجالس ومیلاد جائز ہیں اور باعثِ ثواب بھی ہیں۔

اجنبی عورت کی طرف نظر ڈالنے کے احکام }

مسئلہ : اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے کا حکم یہ ہے کہ اس کے چہرہ یا ہتھیلی کی طرف نظر کرنا جائز ہے کیونکہ اس کی ضرورت پڑتی ہے کبھی اس کے موافق یا مخالف شہادت دینی ہوتی ہے یا فیصلہ کرنا ہوتاہے اگر اُسے نہ دیکھا ہوتو کیوں کر گواہی دے سکتا ہے کہ اس نے ایسا کیا ہے اس کی طرف دیکھنے میںبھی وہی شرط ہے کہ شہوت کااندیشہ نہ ہو اوریوں بھی ضرورت ہے کہ بہت سی عورتیں گھر سے باہر آتی جاتی ہیں لہٰذا اس سے بچنا بہت دشوار بعض علماء نے قدم کی طرف بھی نظر کو جائز کہا ہے ۔(درمختار ، عالمگیری)

مسئلہ : اجنبیہ عورت کے چہرے کی طرف اگرچہ نظر جائز ہے جب کہ شہوت کا اندیشہ ہو مگر یہ زمانہ فتنے کا ہے اس زمانے میں ویسے لوگ کہاں جیسے اگلے زمانے میں تھے لہٰذا اس زمانے میں اس کو دیکھنے کی ممانعت ہے مگر گواہ قاضی کے لئے کہ بوجہ ضرورت ان کے لئے نظر کرنا جائز ہے اورایک صورت اوربھی ہے وہ یہ کہ اس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہوتو اس نیت سے دیکھنا جائز ہے کہ حدیث میںآیا ہے کہ جس سے نکاح کرنا چاہتے ہیں اس کو دیکھ لو کہ یہ بقائے محبت کا ذریعہ ہوگا اسی طرح عورت اُس مرد کو جس نے پیغام بھیجا ہے دیکھ سکتی ہے اگرچہ اندیشہ شہوت ہومگر دیکھنے میں دونوں کی یہی نیت ہو کہ حدیث پر عمل کرنا چاہتے ہیں ۔ (درمختار و ردالمختار)

مسئلہ : عورت کے داڑھی یا مونچھ کے بال نکل آئیں توان کا نوچنا جائز ہے بلکہ مستحب ہے کہ کہیں اس کے شوہر کواس سے نفرت پیدا نہ ہو۔(ردالمختار)