اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖؕ-وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۶۵)

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بس میں کردیا جو کچھ زمین میں ہے (ف۱۶۳) اور کشتی کہ دریا میں اُس کے حکم سے چلتی ہے (ف۱۶۴) اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے بےشک اللہ آدمیوں پر بڑی مہر(رحمت) والا مہربان ہے (ف۱۶۵)

(ف163)

جانور وغیرہ جن پر تم سوار ہوتے ہو اور جن سے تم کام لیتے ہو ۔

(ف164)

تمہارے لئے اس کے چلانے کے واسطے ہوا اور پانی کو مسخر کیا ۔

(ف165)

کہ اس نے ان کے لئے منفعتوں کے دروازے کھولے اور طرح طرح کی مضرتوں سے ان کو محفوظ کیا ۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ٘-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ(۶۶)

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا (ف۱۶۶)پھر تمہیں مارے گا (ف۱۶۷) پھر تمہیں جِلائے گا (ف۱۶۸) بےشک آدمی بڑا ناشکرا ہے (ف۱۶۹)

(ف166)

بے جان نطفہ سے پیدا فرما کر ۔

(ف167)

تمہاری عمریں پوری ہونے پر ۔

(ف168)

روزِ بَعث ثواب و عذاب کے لئے ۔

(ف169)

کہ باوجود اتنی نعمتوں کے اس کی عبادت سے منہ پھیرتا ہے اور بے جان مخلوق کی پرستش کرتا ہے ۔

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَؕ-اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ(۶۷)

ہر امت کے لیے (ف۱۷۰) ہم نے عبادت کے قاعدے بنادئیے کہ وہ اُن پر چلے (ف۱۷۱) تو ہرگز وہ تم سے اس معاملہ میں جھگڑا نہ کریں (ف۱۷۲) اور اپنے رب کی طرف بلاؤ (ف۱۷۳) بےشک تم سیدھی راہ پر ہو

(ف170)

اہلِ دین و ملل میں سے ۔

(ف171)

اور عامل ہو ۔

(ف172)

یعنی امرِ دین میں یا ذبیحہ کے امر میں ۔

شانِ نُزول : یہ آیت بدیل ابن ور قاء اور بشر بن سفیان اور یزید ابنِ خنیس کے حق میں نازل ہوئی ان لوگوں نے اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کیا سبب ہے جس جانور کو تم خود قتل کرتے ہو اسے تو کھاتے ہو اور جس کو اللہ مارتا ہے اس کو نہیں کھاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف173)

اور لوگوں کو اس پر ایمان لانے اور اس کا دین قبول کرنے اور اس کی عبادت میں مشغول ہونے کی دعوت دو ۔

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۶۸)

اور اگر وہ (ف۱۷۴) تم سے جھگڑیں تو فرمادو کہ اللہ خوب جانتا ہے تمہارے کوتک(کرتوت)

(ف174)

باوجود تمہارے طرح دینے کے بھی ۔

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ(۶۹)

اللہ تم میں فیصلہ کردے گا قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کررہے ہو (ف۱۷۵)

(ف175)

اور تم پر حقیقتِ حال ظاہر ہو جائے گی ۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِؕ-اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍؕ-اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ(۷۰)

کیا تو نے نہ جانا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بےشک یہ سب ایک کتاب میں ہے (ف۱۷۶) بےشک یہ (ف۱۷۷) اللہ پر آسان ہے (ف۱۷۸)

(ف176)

یعنی لوحِ محفوظ میں ۔

(ف177)

یعنی ان سب کا علم یا تمام حوادث کا لوحِ محفوظ میں ثبت فرمانا ۔

(ف178)

اس کے بعد کُفّار کی جہالتوں کا بیان فرمایا جاتا ہے کہ وہ ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو عبادت کے مستحق نہیں ۔

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌؕ-وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ(۷۱)

اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں (ف۱۷۹) جن کی کوئی سند اس نے نہ اُتاری اور ایسوں کو جن کا خود انہیں کچھ علم نہیں(ف۱۸۰)اور ستم گاروں کا(ف۱۸۱) کوئی مددگار نہیں (ف۱۸۲)

(ف179)

یعنی بُتوں کو ۔

(ف180)

یعنی ان کے پاس اپنے اس فعل کی نہ کوئی دلیلِ عقلی ہے نہ نقلی ، مَحض جہل و نادانی سے گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں اور جو کسی طرح پُوجے جانے کے مستحق نہیں ان کوپُوجتے ہیں یہ شدید ظلم ہے ۔

(ف181)

یعنی مشرکین کا ۔

(ف182)

جو انہیں عذابِ الٰہی سے بچا سکے ۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَؕ-یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَاؕ-قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْؕ-اَلنَّارُؕ-وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠(۷۲)

اور جب اُن پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں (۱۸۳) تو تم ان کے چہروں پر بگڑنے کے آثار دیکھو گے جنہوں نے کفر کیا قریب ہے کہ لپٹ پڑیں ان کو جو ہماری آیتیں ان پر پڑھتے ہیں تم فرمادو کیا میں تمہیں بتادوں جو تمہارے اس حال سے بھی (ف۱۸۴) بدتر ہے وہ آ گ ہے ۔ اللہ نے اس کا وعدہ دیا ہے کافروں کو اور کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ

(ف183)

اور قرآنِ کریم انہیں سُنایا جائے جس میں بیانِ احکام اور تفصیلِ حلال و حرام ہے ۔

(ف184)

یعنی تمہارے اس غیظ و ناگواری سے بھی جو قرآنِ پاک سُن کر تم میں پیدا ہوتی ہے ۔