بھوکا پڑوسی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور مومن

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : مومن وہ نہیں جو اپنا پیٹ بھرے اور اس کا پڑوسی اس کے بازو میں بھوکا ہو۔ ( بیہقی، مشکوٰۃ شریف )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو!سارے اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے اورا گر ایمان کامل ہے تو رب قدیر بندے کو کامیابی عطا فرماتا ہے۔ یاد رکھیں کہ ایمان کو کمال صرف نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ ہی سے حا صل نہیں ہوتا بلکہ کمال ِایمان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے پڑوسیوں کی پریشانیوں کو بھی جانیں اور حتی الامکان دورکرنے کی کوشش کریں۔ مذکورہ حدیث پاک کی روشنی میں یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر اللہ عزوجل نے شکم سیر ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے تو ذراپڑوسی کا بھی خیال فرمالیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم پڑوسی کے حق کی ادائیگی میں غافل ہیں اور ہمارا پڑوسی غیرت و شرمندگی کی وجہ سے ذکر نہیں کرتا لہٰذا ہمیں اپنے پڑوسی کے حالات سے ہمیشہ با خبر رہنا چاہئے تاکہ اگرتذکرہ سے غیرت مانع ہو تو نہایت ہی خموشی کے ساتھ ہم کو اس کی بھوک مٹا دینی چاہیئے اور اس کی ضرورت پوری کر دینی چاہئے۔ اللہ عزوجل ہم سب کو رحمت عالم ﷺ کے صدقہ و طفیل پڑوسی کے حق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ