مبسملا و حامدا::ومصلیا ومسلما

ناموس رسالت کا تحفظ لازم ہے

چند سالوں سے دنیا کے متعدد ممالک میں اسلام و مسلمین کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔

حضور اقدس تاجدار کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان مبارک میں بھی فرقہ پرستوں نے زہر افشانی شروع کر دی ہے۔

ان فرزندان ابلیس کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کورٹ میں مستحکم کاروائی کرنی چاہئے۔محض ایف آئی آر درج کرانے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔

جو لوگ چند روز قبل بھارت کے وسیم رضوی کو ملعون اور خبیث و ابلیس کہہ رہے تھے,گستاخی سرور کائنات علیہ التحیۃ والثنا پر ان کی زبانیں گنگ کیوں ہو جاتی ہیں؟کیا گستاخ رسول ملعون اور خبیث وابلیس نہیں؟

میری قوم! یاد رکھو۔ابھی تمہاری فطرت اور تمہاری جرأت و ہمت کا امتحان لیا جا رہا ہے۔

اگر تم نے خموشی اختیار کی تو دشمن دلیر ہو کر دنیا بھر میں تم پر ٹوٹ پڑیں گے اور تمہاری خموشی کے سبب رحمت خداوندی بھی تم سے منہ موڑ سکتی ہے۔

ارباب حکومت کو جگاؤ۔اپنی باتیں انہیں سناؤ۔کورٹ کے دروازے کھٹکھٹاؤ۔حصول انصاف اور تحفظ دین کے لئے کمر بستہ ہو جاؤ۔فتنہ پروروں کے فتنوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرو۔جس ملک میں ایسی شیطانی کی جائے۔وہاں کے سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے غافل مسلمانو!

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

ساری دنیا کو معلوم ہے کہ دینِ اسلام میں جہاد بنیادی طور پر ایک دفاعی نظام کی طرح ہے۔ جب کوئی اسلامی جہاد پر تنقید کرتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قوم مسلم دفاعی پوزیشن بھی اختیار نہ کرے۔خواہ ان کو قتل وہلاک کیا جائے,یا ان کی بہن,بیٹی کی عصمت دری کی جائے,یا ان کی جائیداد واملاک تباہ و برباد کی جائے۔

چوں کہ اسلام کے نظامِ جہاد کا غلط معنی بتا کر دنیا بھر کے غیر مسلموں کو مسلمانوں کے خلاف مسلسل ورغلایا جا چکا ہے,اس لئے جیسے ہی قوم مسلم اپنے دفاع کے لئے قدم آگے بڑھائے گی,ان کو جہادی بتا کر غیر مسلموں کو متحد کر لیا جائے گا۔

حادثہ آنکھوں کے سامنے ہے۔چند ہفتے قبل وسیم رضوی نے بھارتی سپریم کورٹ میں قرآن مقدس کی آیات جہاد کے خلاف پیٹیشن داخل کی اور اس کے چند روز بعد ہی بھارت کے کسی فرقہ پرست و متعصب پنڈت نے اسلام و مسلمین کے خلاف آگ اگلنا شروع کردیا اور اس فتنہ پرور نے حضور اقدس علیہ التحیۃ والثنا کی شان اقدس میں بھی گستاخی و بے ادبی کی۔

مسلمانوں کو آزمانے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں وسیم رضوی کی عرضی کے بعد قوم مسلم نے اپنے دفاعی نظام کو ترک کیا یا نہیں؟

سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا,ان کو ہلاک کرنا,مظاہرین پر حملے کرنا,دہلی فساد:فروری 2020میں مسلمانوں کو ہلاک کرنا,مظاہرین کو جیل میں ڈالنا,یہ تمام صورتیں اس لئے اختیار کی گئیں کہ قوم مسلم دفاع کا تصور بھی ذہن میں نہ لائے۔

ایسی صورت میں لازم ہے کہ مسلمانان عالم سر جوڑ کر بیٹھیں اور مضبوط حل کی کوشش کریں۔

طارق انور مصباحی

رکن: روشن مستقبل دہلی

جاری کردہ:07:اپریل 2021