امام ابوشر محمد بن حماد المعروف الدولابی پر وارد اعتراضات کا جواب!!

تحقیق:اسد الطحاوی

امام الدولابی جو متعدد تصانیف کے مصنف ہیں اور علم جرح و تعدیل کے حوالے سے انکی کتب اور رجال کی کنیت اور انکے حالات اور انکے پیدائش و وفات کی تفصیل پر انکی کتب بہت اہمیت کے حامل ہیں

اور علوم حدیث پر بھی انکی کتب پر بھی محدثین نے مداح وثناء کی ہے

احناف کے متقدمین محدثین و ناقدین اور علم رجال کے ماہر تھے

انہوں نے امام بخاری سے سماع کیا ہے اور امام نسائی سے بھی

اور انکے شاگردوں میں

امام ابن ابی حاتم ، امام ابن حبان ، امام دارقطنی ، امام طبرانی جیسے جید حفاظ و ناقدین ہیں

ان پر درج ذیل نقاد سے جرح ہے جسکو نقل کرنے کی بعد اسکی حقیقت بیان کر دینگے اور آخر میں توثیق پیش کرینگے محدثین سے :

۱۔ امام ابن یونس کہتے ہیں وکان یضعف

کہ اس میں کمزوری تھی

یہ جرح مبھم ہے اور غیر مفسر ہے نہ کوئی وجہ بیان کی گئی ہے ایسے کلمات سے مروی جروحات توثیقات کے مقابل نہ قابل قبول ہوتی ہیں

۲۔ امام دارقطنی کہتے ہیں تكلموا فيه

کہ اس پر کلام کیا گیا ہے ۔۔۔ اسکے بعد امام دارقطنی کس نتیجے پر پہنچے اس پر آخر میں کلام آئے گا ۔۔

باقی یہ الفاظ بھی مبہم ہیں اور غیرمفسر ہیں کہ کن لوگوں نے اس پر کس درجے کا کلام کیا ہے اور کس سبب کیا ہوا ہے کچھ بیان نہیں

۳۔ ابن عدی نے ان پر تعصب پر مبنی یہ جرح کر دی کہ :

ابن حماد متهم فيما قاله في نعيم بن حماد لصلابته في أهل الرأي

ابن عدی کہتے ہیں کہ ابن حماد متہم اس قول میں نعیم بن حماد کے بارے کہ وہ اہل رائے پر سخت تھے

ابن عدی نے اپنی تصنیف میں اپنے اس شیخ الدولابی سے کثیر روایات لی ہیں اور الکامل میں بھی انکو درج نہیں کیا ضعفاء میں لیکن جب نعیم بن حماد کے دفاع کی باری آئی تو تعصب میں ان پر چڑھ دوڑے اور خود امام دولابی کو متہم قرار دے دیا بلکہ الٹا امام دولابی کو مذہبی متعصب کا طعنہ دے دیا

جیسا کہ ابن حجر لسان المیزان میں کہتے ہیں :

وعاب عليه بن عدي تعصبه المفرط لمذهبه

اور اس پر عیب لگایا ہے ابن عدی نے اسکے مذہبی تصلب کی وجہ سے

اب آتے ہیں توثیق کرنے والے اماموں کی طرف :

۱۔ امام دارقطنی

تكلموا فيه ما تبين من أمره إلا خير

دارقطنی کہتے ہیں ان پر کلام کیا گیا ہے لیکن آخر میں جس نتیجے پر پہنچے ہیں اس میں خیر کے سوا کچھ نہیں (یعنی اس پر کیا گیا کلام باطل ہے )

۲۔ امام مسلمہ بن قاسم

وقال مسلمة بن قاسم: كان أبوه من أهل العلم وكان مسكنه بدولاب من أرض بغداد ثم خرج ابنه محمد عنها طالبا للحديث فأكثر الرواية وجالس العلماء وتفقه لأبي حنيفة وجرد له فأكثر وكان مقدما في العلم والرواية ومعرفة الأخبار وله كتب مؤلفة.

امام مسلمہ بن قاسم کہتے ہیں : انکے والد اہل علم والوں میں سے تھے اور یہ دولاب کی سرزمین سے تعلق رکھتے تھے جو بغداد میں ہے انکا بیٹا محمد (الدولابی)حدیث کی تعلیم کے لیے اپنے علاقے سے کوچ کیا ، اور یہ اکثر علماء کی صحبت میں رہے اور ان سے روایت کرتے ، اور انہوں نے امام ابو حنیفہ کے مذہب پر فقہ سیکھی ،، یہ علم اور روایت کرنے میں مقدم (پختہ) تھے ، یہ معرفت والے تھے اور اخبار کا علم رکھت تھے اور انکی تصنیف کردہ کتب بھی ہیں

(لسان المیزان ابن حجر ، جلد ۶ ، ص ۵۰۶الناشر: دار البشائر الإسلامية)

۳۔ امام ابن ابی حاتم بھی اس سے روایت کرتے تھے

اور یہ بات تو غیر مقلدین حضرات کو بھی قبول ہے کہ امام ابن ابی حاتم اپنےوالد کی طرح فقط ثقہ سے ہی روایت کرتے تھے

جیسا کہ الجرح والتعدیل میں ابن ابی حاتم روایت کرتے ہیں :

نا عبد الرحمن حدثنى أبو بشر بن احمد بن حماد الدولابى نا أبو بكر بن ادريس قال سمعت الحميدى بلخ۔۔

(الجرح والتعدیل جلد ۷ ، ص ۲۹۲)

۴۔ امام ابن خلقان انکے بارے فرماتے ہیں :

الدولابي

أبو بشر محمد بن أحمد بن حماد بن سعد، الأنصاري بالولاء، الوراق الرازي الدولابي؛ كان عالما بالحديث والأخبار والتواريخ، سمع الأحاديث بالعراق والشام وروى عن محمد بن بشار وأحمد بن عبد الجبار العطاردي وخلق كثير؛ وروى عنه الطبراني وأبوحاتم ابن حبان البستي. وله تصانيف مفيدة في التاريخ ومواليد العلماء ووفياتهم، واعتمد عليه أرباب هذا الفن في النقل وأخبروا عنه في كتبهم ومصنفاتهم المشهورة. وبالجملة فقد كان من الأعلام في هذا الشأن وممن يرجع إليه، وكان حسن التصنيف.

امام خلکان فرماتے ہیں : ابو بشر محمد بن احمد بن حماد سعد الانصاری الدولابی یہ حدیث اور اخبار اور تاریخ علماء میں سے تھے ، انہوں نے عراق اور شام میں حدیث کا سماع کیا ہے یہ محمد بن بشر وغیرہ اور خلق کثیر سے روایت کرتے ہیں

اور ان سے امام طبرانی ، امام بن حبان وغیرہ روایت کیا ہے

انکی فائدہ بخش تصانیف ہیں علماء کی وفات اور میلاد پر

ان پر اعتماد کیا ہے اس فن ( روایت حدیث و تاریخ کے علماء) نے ان سے نقل اور ان سے روایت کرنے میں کتب اور تصانیف مشہورہ میں

یہ بڑی شان والے علماء میں سے تھے اور بڑی اچھی تصانیف لکھنےوالے تھے

(وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان، امام ابن خلکان جلد ۴، ص۳۵۲ )

۵۔ امام سمعانی

الانساب میں فرماتے ہیں :

وكان من أهل صنعة الحديث يحسن التصنيف،

یہ حدیث کے شعبے سے تھے اور اچھی تصانیف والے تھے

(الانساب ، جلد ۵ ، ص ۴۰۴)

۶۔ امام ابن اثیر

امام ابن اثیر دولابی کے بارے لکھتے ہیں :

وَكَانَ عَالما بِالْحَدِيثِ حسن التصنيف

یہ حدیث کے عالم تھے اور اچھی تصانیف والے تھے

(اللباب في تهذيب الأنساب، ابن الاثیر ، ص ۵۱۶)

۷۔ امام ابن کثیر

امام ابن کثیر اپنی مشہور تصنیف البداية والنهاية میں امام دولابی کے متعلق لکھتے ہیں :

أبو بشر الدولابي محمد بن أحمد بن حماد أبو سعيد أبو بشر الدولابي ، مولى الأنصار، ويعرف بالوراق، أحد الأئمة من حفاظ الحديث، وله تصانيف حسنة في التاريخ وغير ذلك، وروى جماعة كثيرة.

ابو بشر دولابی یہ ائمہ حفاظ الحدیث میں سے ایک تھے ، اور انکی اچھی تصانیف ہیں تاریخ اور دیگر موضوع پر

(البداية والنهاية، جلد ۱۱، ص۱۶۵)

۸۔ امام المقدسی

امام مقدسی نے اپنی مشہور تصنیف المختارہ میں امام ابو بشر دولابی سے متعدد روایات کی تخریج کی ہے

2548 – أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّاهِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ صَالِحِ بْنِ يَاسِينَ بِالشَّارِعِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيَّ أَخْبَرَهُمْ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أبنا أَبُو أَحْمَدَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الْفُرَاتِ الْوَزِيرُ بِمِصْرَ أبنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمُهَنْدِسُ ثَنَا أَبُو بِشْرٍ الدَّوْلابِيُّ بلخ۔۔۔

(الأحاديث المختارة)

۹۔ اسی طرح امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں :

الإمام، الحافظ البارع

(سیر اعلام النبلاء، جلد ۱۴، ص ۳۰۹)

۱۰۔ ایک عربی سلفی محقق أبو الطيب نايف بن صلاح بن علي المنصوري نے امام طبرانی کے شیوخ پر کتاب لکھی ہے جو کہ مکتبہ ابن تیمیہ سے شائع ہوئی ہے

وہ امام دولابی کی تفصیل سے لکھا ہے ہم مختصر موقف اسکا پیش کرتے ہیں :

محمد بن أحمد بن حماد بن سعيد بن مسلم أبو بشر الوراق الحافظ الدولابي الأنطاكي.

وقال ابن عدي: ابن حماد متهم فيما قاله في نعيم بن حماد لصلابته في أهل الرأي.

وقال الدارقطني: تكلموا فيه وما يتبين من أمره إلا خيرا.

وقال مسلمة بن قاسم: خرج طالبا للحديث فأكثر الرواية وجالس العلماء وتفقه لأبي حنيفة، وجرد له فأكثر، وكان مقدما في العلم والرواية ومعرفة الأخبار، وله كتب مؤلفة وعاب عليه ابن عدي تعصبه المفرط لمذهبه.

وقال ابن خلكان: كان عالما بالحديث والأخبار والتواريخ اعتمد عليه أرباب هذا الفن في النقل في هذا الشأن، وممن يرجع إليه، وكان حسن التصنيف

وقال الذهبي: الإمام الحافظ البارع العالم.

وقال الألباني: متكلم فيه.

ابن عدی کی جرح کے بعد محدثین کی مداح و ثناء لکھنے کے بعد سلفی محقق البانی کی طرف سے یہ بھی نقل کرتے ہیں کہ ان پر کلام ہے

اسکے بعد اپنا فیصلہ دیتے ہوئے لکھتا ہے :

قلت ثقة حسن التصنيف.

(إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني، ص ۴۸۸م الناشر: دار الكيان – الرياض، مكتبة ابن تيمية – الإمارات)

تو متقدمین سے متاخرین تک ہم نے امام دولابی کی توثیق و مداح ثابت کر دی ہے اور یہ بھی ثابت کر دیا کہ کسی نے بھی ابن عدی کی جرح کو اہمیت نہیں دی بلکہ یہی کہا کہ اسکی تصانیف اچھی تھیں اور اہل فن نے انکی کتب پر اعتماد ہی کیا ہے

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی سہروردی بریلوی