اربابِ تخیل کی حقیقت فراموشی

تحریر : مولانا طارق انور مصباحی

مبسملا و حامدا::ومصلیا ومسلما

بہت مشہور مقولہ ہے:

“الکفر ملۃ واحدۃ”

اسلام کے خلاف تمام کفار گٹھ جوڑ کر لیتے ہیں اور اہل اسلام پر تابڑتوڑ حملے کرتے ہیں۔بھارت میں ہنود,برما میں بدھشٹ,چین میں کمیونسٹ,یوروپ وامریکہ میں نصاری اور اسرائیل وفلسطین میں یہود۔

کافر ہر فرد و فرقہ دشمن مارا

مرتد,مشرک,یہود و گیر وترسا

ان تمام حقائق کے باوجود ایک باریک فرق نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔اس کی جانب اشارہ کے ساتھ قرآن مقدس کی شہادت بھی ذیل میں نقش کرتا ہوں۔

جب نائن الیون کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک نے اسلام کے خلاف زہر افشانی شروع کی اور مذہب اسلام کی صاف ستھری شبیہ کو داغ دار کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اور یوروپین ممالک میں بہت سے عیسائیوں نے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کیا اور بہت سے لوگ اسلام کے قریب ہو گئے اور عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔

بعض دانشوران یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت میں بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے بعد ہندو لوگ اسلام کے قریب ہوں گے اور بہت سے ہنود اسلام قبول کر لیں گے,حالاں کہ ایسی امید نہیں۔

اس کے چند اسباب درج ذیل ہیں۔

1-عیسائیوں کی نرمی کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ اسی طرح یہود اور مشرکین کی سختی کا ذکر بھی ہے۔

سب ہمارے دشمن ہی ہیں, لیکن دشمنوں میں فرق ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَ ٰ⁠وَةࣰ لِّلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱلۡیَهُودَ وَٱلَّذِینَ أَشۡرَكُوا۟ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقۡرَبَهُم مَّوَدَّةࣰ لِّلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِینَ قَالُوۤا۟ إِنَّا نَصَـٰرَىٰۚ ذَ ٰ⁠لِكَ بِأَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّیسِینَ وَرُهۡبَانࣰا وَأَنَّهُمۡ لَا یَسۡتَكۡبِرُونَ

[سورة المائدة : 82]

ارشاد خداوندی ہے:

ثُمَّ قَفَّیۡنَا عَلَىٰۤ ءَاثَـٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیۡنَا بِعِیسَى ٱبۡنِ مَرۡیَمَ وَءَاتَیۡنَـٰهُ ٱلۡإِنجِیلَۖ وَجَعَلۡنَا فِی قُلُوبِ ٱلَّذِینَ ٱتَّبَعُوهُ رَأۡفَةࣰ وَرَحۡمَةࣰۚ

(سورہ حدید، آیت 27)

2-قوم ہنود کی فطرت مثل قوم یہود ہے۔یہودیوں نے سالہا سال کی مشقت و جاں فشانی کے بعد فلسطین کو یہودی راشٹر بنا لیا اور قوم ہنود بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی کوشش میں ہے۔

بہت سے ممالک میں عیسائیوں کی حکمرانی ہے,لیکن کسی ملک کو عیسائی راشٹر نہیں بنایا گیا ہے۔

3-مشرکین ہند میں سے ایس سی,ایس ٹی اور اوبی سی کے بہت سے طبقات مسلمانوں کے حق میں نرم ہیں تو اس کا سبب اصلی یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے برہمنی مظالم کو دیکھ کر مسلمانوں کے قریب ہیں۔برہمنوں نے ساڑھے تین ہزار سالوں سے آج تک ان کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور آج تک ان پر آرین اقوام کی طرف سے ظلم وستم کا سلسلہ جاری ہے۔

دلت اور آدی واسی وغیرہ اسلام کی محبت میں مسلمانوں کے قریب نہیں، بلکہ اپنے آبا واجداد پر برہمنی ظلم وستم کی تاریخی روایات وواقعات سے آشنائی کے بعد وہ آرین اقوام سے متنفر ہو جاتے ہیں اور اسلام کے قانون مساوات اور اصول عدل وانصاف کے سبب وہ مسلمانوں سے بغل گیر ہوتے ہیں۔

سکھوں پر جب حکومت ہند کی طرف سے حملے ہوئے۔ان کے مقدس مذہبی مقام یعنی امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر 1984 میں آپریشن بلیو اسٹار ہوا,تب وہ قوم ہنود سے متنفر ہوئے,ورنہ عہد مغلیہ کے دور متوسط سے آزادی ہند کے بعد تک وہ مسلمانوں کے خون کے ایسے پیاسے تھے کہ وہ ہمارا خون پیتے جاتے تھے اور ان کی پیاس نہیں بجھتی تھی,جیسے ابھی فرقہ پرست ہنود کا حال ہے۔اس ظلم وستم کے بعد پنجابیوں کو ہوش آیا اور وہ مسلمانوں کے قریب ہونے لگے۔

الحاصل ہمیں نصاری اور غیر نصاری میں فرق کرنا ہو گا۔کسی خوش فہمی میں مگن رہنا نقصان دہ ثابت ہو گا۔مدہوشی کو دور کریں اور اور فکر وتدبیر کی راہ اپنائیں۔قوم ہنود مثل یہود ہے,مثل نصاری نہیں۔

طارق انور مصباحی

روشن مستقبل دہلی

جاری کردہ:09:اپریل 2021