قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ(۹۳)

تم عرض کرو کہ اے میرے رب اگر تو مجھے دکھائے (ف۱۴۹)

(ف149)

وہ عذاب ۔

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۹۴)

جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے تو اے میرے رب مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا (ف۱۵۰)

(ف150)

اور ان کا قرین اور ساتھی نہ بنانا یہ دعا بہ طریقِ تواضع و اظہارِ عبدیت ہے باوجودیکہ معلوم ہے کہ اللہ تعالٰی آپ کو ان کا قرین اور ساتھی نہ کریگا اسی طرح انبیا ءِ معصومین استغفار کیا کرتے ہیں باوجود یکہ انہیں اپنی مغفرت اور اکرامِ خداوندی کا علم یقینی ہوتا ہے ، یہ سب بہ طریقِ تواضع و اظہارِ بندگی ہے ۔

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ(۹۵)

اور بےشک ہم قادر ہیں کہ تمہیں دکھادیں جو اُنہیں وعدہ دے رہے ہیں (ف۱۵۱)

(ف151)

یہ جواب ہے ان کُفّار کا جو عذابِ موعود کا انکار کرتے اور اس کی ہنسی اڑاتی تھے انہیں بتایا گیا کہ اگر تم غور کرو تو سمجھ لو گے کہ اللہ تعالٰی اس وعدہ کے پورا کرنے پر قادر ہے پھر وجہِ انکار اور سببِ استہزاء کیا اور عذاب میں جو تاخیر ہو رہی ہے اس میں اللہ کی حکمتیں ہیں کہ ان میں سے جو ایمان لانے والے ہیں وہ ایمان لے آئیں اور جن کی نسلیں ایمان لانے والی ہیں ان سے وہ نسلیں پیدا ہو لیں ۔

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَؕ-نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ(۹۶)

سب سے اچھی بھلائی سے بُرائی کو دفع کرو (ف۱۵۲) ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ بناتے ہیں (ف۱۵۳)

(ف152)

اس جملۂ جمیلہ کے معنٰی بہت وسیع ہیں ، اس کے یہ معنٰی بھی ہیں کہ توحید جو اعلٰی بہتری ہے اس سے شرک کی برائی کو دفع فرمائے اور یہ بھی کہ طاعت و تقوٰی کو رواج دے کر معصیت اور گناہ کی برائی دفع کیجئے اور یہ بھی کہ اپنے مکارمِ اخلاق سے خطا کاروں پر اس طرح عفو و رحمت فرمائے جس سے دین میں کوئی سُستی نہ ہو ۔

(ف153)

اللہ اور اس کے رسول کی شان میں، تو ہم اس کا بدلہ دیں گے ۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ(۹۷)

اور تم عرض کرو کہ اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسو ں سے (ف۱۵۴)

(ف154)

جن سے وہ لوگوں کو فریب دے کر معاصی اور گناہوں میں مبتلا کرتے ہیں ۔

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ(۹۸)

اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ(۹۹)

یہاں تک کہ جب اُن میں کسی کو موت آئے (ف۱۵۵) تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے (ف۱۵۶)

(ف155)

یعنی کافِر وقتِ موت تک تو اپنے کُفر و سرکشی اور خدا اور رسول کی تکذیب اور مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کے انکار پر مُصِر رہتا ہے اور جب موت کا وقت آتا ہے اور اس کو جہنّم میں اس کا جو مقام ہے دکھایا جاتا ہے اور جنّت کا وہ مقام بھی دکھایا جاتا ہے کہ اگر وہ ایمان لاتا تو یہ مقام اسے دیا جاتا ۔

(ف156)

دنیا کی طرف ۔

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّاؕ-اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىٕلُهَاؕ-وَ مِنْ وَّرَآىٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(۱۰۰)

شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں (ف۱۵۷) ہِشت(ہرگز نہیں) یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے (ف۱۵۸) اور اُن کے آگے ایک آڑ ہے (ف۱۵۹) اُس دن تک جس میں اٹھائے جائیں گے

(ف157)

اور اعمالِ نیک بجا لا کر اپنی تقصیرات کا تدارُک کروں اس پر اس کو فرمایا جائے گا ۔

(ف158)

حسرت و ندامت سے یہ ہونے والی نہیں اور اس کا کچھ فائدہ نہیں ۔

(ف159)

جو انہیں دنیا کی طرف واپس ہونے سے مانع ہے اور وہ موت ہے ۔ (خازن) بعض مفسِّرین نے کہا کہ برزخ وقتِ موت سے وقتِ بعث تک کی مدت کو کہتے ہیں ۔

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَىٕذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ(۱۰۱)

تو جب صور پھونکا جائے گا (ف۱۶۰) تو نہ ان میں رشتے رہیں گے (ف۱۶۱) اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھے (ف۱۶۲)

(ف160)

پہلی مرتبہ جس کو نفخۂ اُولٰی کہتےہیں جیسا کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے ۔

(ف161)

جن پر دنیا میں فخر کیا کرتے تھے اور آپس کے نسبی تعلقات منقطع ہو جائیں گے اور قرابت کی مَحبتیں باقی نہ رہیں گی اور یہ حال ہوگا کہ آدمی اپنے بھائی اور ماں اور باپ اور بی بی اور بیٹوں سے بھاگے گا ۔

(ف162)

جیسے کہ دنیا میں پوچھتے تھے کیونکہ ہر ایک اپنے ہی حال میں مبتلا ہوگا پھر دوسری بار صُور پُھونکا جائے گا اور بعدِ حساب لوگ ایک دوسرے کا حال دریافت کریں گے ۔

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۲)

تو جن کی تولیں (ف۱۶۳) بھاری ہوئیں وہی مراد کو پہونچے

(ف163)

اعمالِ صالحہ اور نیکیوں سے ۔

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ(۱۰۳)

اور جن کی تولیں ہلکی پڑیں (ف۱۶۴) وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

(ف164)

نیکیاں نہ ہونے کے باعث اور وہ کُفّار ہیں ۔

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ(۱۰۴)

اُن کے منہ پر آ گ لپٹ مارے گی اور وہ اس میں منہ چڑائے ہوں گے (ف۱۶۵)

(ف165)

ترمذی کی حدیث میں ہے کہ آ گ ان کو بھون ڈالے گی اور اوپر کا ہونٹ سُکڑ کر نصف سر تک پہنچے گا اور نیچے کا ناف تک لٹک جائے گا ، دانت کھلے رہ جائیں گے (خدا کی پناہ) اور ان سے فرمایا جائے گا ۔

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ(۱۰۵)

کیا تم پر میری آیتیں نہ پڑھی جاتی تھیں (ف۱۶۶) تو تم انہیں جھٹلاتے تھے

(ف166)

دنیا میں ۔

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ(۱۰۶)

کہیں گے اے ربّ ہمارے ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ(۱۰۷)

اے ہمارے رب ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں (ف۱۶۷)

(ف167)

ترمذی کی حدیث میں ہے کہ دوزخی لوگ جہنّم کے داروغہ مالک کو چالیس برس تک پکارتے رہیں گے اس کے بعد وہ کہے گا کہ تم جہنّم ہی میں پڑے رہو گے پھر وہ پروردگار کو پکاریں گے اور کہیں گے اے ربّ ہمارے ہمیں دوزخ سے ا ور یہ پکار ان کی دنیا سے دونی عمر کی مدّت تک جاری رہے گی ، اس کے بعد انہیں یہ جواب دیا جائے گا جو اگلی آیت میں ہے (خازن) اور دنیا کی عمر کتنی ہے ، اس میں کئی قول ہیں بعض نے کہا کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس ہے ، بعض نے کہا بارہ ہزار برس ، بعض نے کہا تین لاکھ ساٹھ برس واللہ تعالٰی اعلم (تذکرہ قرطبی)

قَالَ اخْسَــٴُـوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ(۱۰۸)

رب فرمائے گا دُتکارے(ذلیل ہو کر)پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو (ف۱۶۸)

(ف168)

اب ان کی امیدیں منقطع ہو جائیں گی اور یہ اہلِ جہنّم کا آخر کلام ہوگا پھر اس کے بعد انہیں کلام کرنا نصیب نہ ہوگا ، روتے ، چیختے ، ڈکراتے ، بھونکتے رہیں گے ۔

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ(۱۰۹)

بےشک میرے بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ(۱۱۰)

تو تم نے انہیں ٹھٹھا بنالیا (ف۱۶۹) یہاں تک کہ اُنہیں بنانے کے شُغل میں (ف۱۷۰) میری یاد بھول گئے اور تم اُن سے ہنسا کرتے ۔

(ف169)

شانِ نُزول : یہ آیتیں کُفّارِ قریش کے حق میں نازِل ہوئیں جو حضرت بلال و حضرت عمار و حضرت صہیب و حضرت خبّاب وغیرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم فقراء اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تمسخُر کرتے تھے ۔

(ف170)

یعنی ان کے ساتھ تمسخُر کرنے میں اتنے مشغول ہوئے کہ ۔

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱)

بےشک آج میں نے اُن کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ(۱۱۲)

فرمایا (ف۱۷۱) تم زمین میں کتنا ٹھہرے (ف۱۷۲) برسوں کی گنتی سے

(ف171)

اللہ تعالٰی نے کُفّار سے ۔

(ف172)

یعنی دنیا میں اور قبر میں ۔

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْــٴَـلِ الْعَآدِّیْنَ(۱۱۳)

بولے ہم ایک دن رہے یا دن کا حصّہ (ف۱۷۳) تو گننے والوں سے دریافت فرما (ف۱۷۴)

(ف173)

یہ جواب اس وجہ سے دیں گے کہ اس دن کی دہشت اور عذاب کی ہیبت سے انہیں اپنے دنیا میں رہنے کی مدّت یاد نہ رہے گی اور انہیں شک ہو جائے گا اسی لئے کہیں گے ۔

(ف174)

یعنی ان ملائکہ سے جن کو تو نے بندوں کی عمریں اور ان کے اعمال لکھنے پر مامور کیا ، اس پر اللہ تعالٰی نے ۔

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۱۱۴)

فرمایا تم نہ ٹھہرے مگر تھوڑا (ف۱۷۵) اگر تمہیں علم ہوتا

(ف175)

بہ نسبت آخرت کے ۔

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵)

تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں(ف۱۷۶)

(ف176)

اور آخرت میں جزا کے لئے اٹھنا نہیں بلکہ تمہیں عبادت کے لئے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں ۔

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ(۱۱۶)

تو بہت بلندی والا ہے اللہ سچا بادشاہ کوئی معبود نہیں سوا اس کے عزت والے عرش کا مالک

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۙ-لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖۙ-فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ(۱۱۷)

اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے خدا کو پوجے جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیں (ف۱۷۷) تو اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہے بےشک کافروں کو چھٹکارا نہیں

(ف177)

یعنی غیر اللہ کی پرستِش مَحض باطل بے سند ہے ۔

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠(۱۱۸)

اور تم عرض کرو اے میرے رب بخش دے (ف۱۷۸) اور رحم فرما اور تو سب سے برتر رحم کرنے والا

(ف178)

ایمان والوں کو ۔