ابلیس کی پارلیمنٹ

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

شیطان پورہ کی شیطانی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس جاری تھا ۔

ابلیس اپنے چیلوں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہا تھا : میرے گندے گندے شیطانو! نیکستان پر اس بار ایسا حملہ کرو کہ ان کا بچہ بچہ “خواہش کے وائرس” میں مبتلا ہو جائے ۔

’’خواہش کے وائرس‘‘ میں مبتلا ہو جائے ؟؟؟ فتوری چڑیل نے حیرت سے پوچھا، جیسے اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا ۔

میں بھی نہیں سمجھا ۔چھوٹے شیطان نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔

ارے تم سب احمق ہو ۔۔۔ابلیس نے چیختے ہوئے کہا ۔

ہاں ہم احمق ہیں۔ اگر احمق نہ ہوتے تو تمہارے ساتھ ہو تے ؟ احمق کہنے پر تو کوڈو شیطان کو غصہ ہی آگیا ۔

شیطانی پارلیمنٹ کے سارے شیطان چہ میگوئیاں کرنے لگے ۔

خاموش ! ابلیس نے چیختے ہوئے کہا ۔

سب خاموش ہو گئے ۔

اصل میں بچوں میں یہ عادت پیدا کرو کہ جو چیز انہیں پسند آ جائے وہ لازمی حاصل کریں۔۔ ۔ اپنے بابا اور مما سے ضد کریں ۔۔۔جس چیز کی خواہش وہ کریں وہ فوراً پوری کر دی جائے ۔ ابلیس نے کہا ۔

اس سے کیا ہو گا ؟ابلیس کےوزیر ہامان نے پوچھا ۔

دیکھو ! بچے اپنے والدین سے ضد کریں گے،انہیں پریشان کریں گے اور والدین کو ستانا، ان کو تنگ کرناتو بری بات ہے۔ تو بچے اس بری عادت میں مبتلا ہو جائیں گے ۔۔۔۔

والدین ان کی خواہش پوری کرنے کے لیے حلال و حرام کی تمیز بھلا دیں گے، تو اس طرح پورا معاشرہ گناہ میں مبتلا ہو جائے گا، جو کہ میرا مقصد ہے ۔ ابلیس نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔

جاؤ اور جا کر نیکستان میں “خواہش کا وائرس” عام کردو ۔

فتوری چڑیل نیکستان پہنچی تو اس نے زبیر کے ہاتھ میں موبائل دیکھا تو اس کے شیطانی دماغ نے شیطانی کام کر نا شروع کر دیا ، فوراً ہی اس کے قریب پہنچی اور کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگی : اتنا اچھا موبائل ہے، اپنے دوستوں اور کزنز کو نہیں دکھاؤ گے کیا ؟

بے چارہ زبیر اس چڑیل کے کہنے میں آگیا اور سب سے پہلے اپنے کزن عفان کے پاس پہنچا۔

یہ دیکھو عفان ! زبیر نے اپنا موبائل عفان کو دکھاتے ہوئے کہا ۔

واؤ یار! کیا زبردست موبائل ہے۔۔۔عفان نے زبیر کا موبائل ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا ۔

اس میں کوئی شک بھی نہیں تھا کہ زبیر کا موبائل بہت زبردست تھا۔ اس موبائل کے فنکشنز زبردست تھے ۔

کتنے کا لیا زبیر ؟ عفان نے پوچھا ۔

کیا کرو گے پوچھ کر ؟تم نہیں لے سکتے ۔ زبیر نے کہا ۔

کیوں میں کیوں نہیں لے سکتا ؟ عفان نے ناراضگی سے کہا ۔

کیوں کہ یہ بہت مہنگا موبائل ہے۔۔۔زبیر نے فخر سے اپنے موبائل کو صاف کرتے ہوئے کہا، جیسے عفان کے ہاتھ میں جانے سے وہ گندا ہو گیا ہو ۔

عفان سوچ رہا تھا کاش اس کے پاس بھی ایسا ہی موبائل ہو تا ۔۔۔

فتوری چڑیل اسی انتظار میں تھی کہ کسی بچے کے دل میں یہ خواہش جاگے اور وہ فورا ً اس کے پاس پہنچے۔ فتوری فوراً ہی عفان کے پاس پہنچ بھی گئی ۔

تم بھی یہ موبائل لے لو ۔۔۔فتوری چڑیل نے عفان کے کان میں سرگوشی کی ۔

لیکن یہ بہت مہنگا ہے ۔ عفان نے سوچا ۔

ارے تم اپنے بابا سے کہنا، وہ تمہیں دلا دیں گے۔ تھوڑی سی ضد کرنا، کھانا مت کھانا، خود لا کر دیں گے ۔۔۔فتوری چڑیل نے راستہ دکھایا ۔

کچھ دیر کے بعد جب زبیر چلا گیا تو عفان نے اپنے بابا سے کہا :بابا ! مجھے زبیر جیسا موبائل فون چاہیے۔

مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ زبیر کے پاس کیسا موبائل ہے ؟ بابا نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

بابا وہ بہت زبردست موبائل ہے اور تقریبا ً ایک لاکھ روپے سے کم کا تو نہیں ہو گا ۔۔۔ عفان نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا ۔

اوہو !!! یہ تو بہت زیادہ ہیں ۔

لیکن مجھے چاہیے بابا !!! عفان نے ضد کی ۔

شاباش عفان شاباش ! اور کرو ضد ۔فتوری چڑیل نے خاموشی سے عفان کو شاباش دیتے ہوئے سرگوشی کی ۔

بس بابا! مجھے زبیر جیسا موبائل چاہیے تو بس چاہیے ۔

اچھا ایک بات بتائیے۔ یہ موبائل آپ کی خواہش ہے یا ضرورت ہے ؟بابا نے سوال کیا ۔

کیا مطلب ؟ عفان نے حیرت سے کہا ۔

مطلب واضح ہے ۔۔۔بابا یہ کہہ کر خاموش ہو گئے ۔

بابا نے خاموشی اختیار کی تو عفان سوچ میں پڑ گیا ۔ کچھ دیر بعد اس نے سوچ کر کہا ” یہ خواہش ہے۔ “

بس بیٹا ! تو کیا آپ نے نہیں سُنا کہ خواہش کی پیروی نہیں کرنی چاہیے ؟

وَ لَا تَتَّبِـعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ (سورہ ص، آیت 26)

اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی۔

عفان خا موش ہو گیا۔ قرآن مجید کی تلاوت ہو تے ہی فتوری چڑیل کے سارے وسوسے دم توڑ گئے ۔ فوراً ہی عفان نے کہا : ٹھیک ہے با با ! میں اللہ کے حکم کی اطاعت کروں گا ۔

شاباش ! بابا نے عفان کو پیار کرتے ہوئے کہا ۔

تمہیں اپنی ایک سچی کہانی سُناتا ہوں ۔

میں اور میرا دوست غالب ہم دونوں ہم جماعت تھے۔ ایک ساتھ اسکول میں پڑھا، ایک ساتھ کالج میں گئے، ایک ساتھ یونیورسٹی سے پروفیشنل ڈگری لی اور پھر ایک ہی کمپنی میں ایک عہدے پر لگ گئے ۔

ایک دن میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میرے پاس غالب جیسی گاڑی کیوں نہیں۔۔۔ میں یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوتا رہا ۔

پھر کیا کیا آپ نے؟ عفان نے با با کی کہانی میں دل چسپی لیتے ہوئے پوچھا۔

میں اُن دنوں اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ میری نگاہ ایک اشتہار پر گئی جس میں بینک سے کار فنانس کی جا سکتی تھی ۔ میں بینک گیا اور وہاں سے کار فنانس کرا لی ۔۔۔جو جمع پونجی تھی وہ ایڈوانس جمع ہو گئی اور تنخواہ سے ہر ماہ ایک مخصوص رقم کٹنے لگی ۔

میں دوماہ میں ہی شدید پریشان ہوگیا ۔

عفان : وہ کیوں؟ با با !

کیونکہ تنخواہ سے ایک بڑی رقم گاڑی کی قسط میں کٹ جاتی تھی اور دیگر اخراجات پورے نہیں ہوپاتے تھے ۔

عفان : پھر آپ نے کیا کیا؟

میں نے کیاکرنا تھا۔ میں نے لوگوں سے اُدھار لینا شروع کردیا ۔لیکن اس سے میں ایک اور پریشانی میں مبتلا ہو گیا ۔

عفان : وہ کیا ؟

وہ یہ کہ کچھ دنوں بعد وہ لوگ جنہوں نے مجھے قرض دیا تھا ، قرض واپسی کا تقاضا کرنے لگے۔

عفان : پھر آپ نے کیا کیا ؟

کیا کرتا، پیسے تو تھے نہیں ، میں منہ چھپانے لگا لوگوں سے اور میں بہت پریشان ہو گیا۔ لوگوں کے تقاضے بڑھنے لگے اور میری عزت بھی پہلے جیسی نہیں رہی، تو میں نے سوچا میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟۔۔۔۔میں غور کرتا رہا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ پریشانی میں نے خود مول لی ہے، نہ میں غالب کی طرح گاڑی کی خواہش کرتا، نہ میرا یہ حال ہوتا۔ جو پہلےوالی گاڑی تھی وہ میری ضرورت کے لیے کافی تھی ۔۔۔اس خواہش نے مجھے پریشان کر دیا ۔

بیٹا! خواہش کے پیچھے نہیں بھاگنا ۔ اللہ کے نبی ﷺ نے بھی ہمیں یہ ہی تعلیم دی ہے ۔

نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :

”اللہ عزوجل کی تین چیزوں سے پناہ مانگو:

(۱) ایسی خواہش سے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ۔

(۲) ایسی خواہش سے جو عیب دار کر دے ۔

(۳)ایسے عیب سے جس کی خواہش کی جاتی ہو، ایسی خواہش سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگوجوعیب بن جائے اور ایسے عیب سے جو خواہش بن جائے۔”

اس لیے میں نے گاڑی بیچ دی اور پرسکون ہو گیا ۔

فتوری چڑیل کے سارے پھندے کھل چکے تھے اور وہ مٹھیاں بھینچ رہی تھی ۔۔۔

پیارے بچو!

بے جا خواہش سے بچو ۔۔۔ایسی خواہش جو آپ کے والدین کو یا آپ کو پریشانی میں ڈال دے۔

تربیت آپ کے بچوں کی بنیادی ضرورت ہے سنہری فہم القرآن اور سنہری صحاح ستہ اس ضرورت کو پوری کرتی ہے آج ہی یہ کتابیں منگوائیے

فری ہوم ڈیلیوری ابھی آرڈر کیجیے03082462723 فہیم بھائی