اپنے حق کےلیے احتجاج کرنا اور راستے میں بیٹھنا ، اے اہلِ ایمان کب جاگو گے ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارٸینِ کرام : اگر ضمیر زندہ ہے تو ایک بار مکمل ضرور پڑھیں اور اپنے ضمیرِ ایمانی سے پوچھ کر فیصلہ کریں ۔ ہو سکے تو آگے شیٸر بھی کریں ۔

حدثنا علي بن عبد الله ، قال‏ :‏ حدثنا صفوان بن عيسى، قال‏ :‏ حدثنا محمد بن عجلان ، قال‏ :‏ حدثنا ابي ، عن ابي هريرة قال‏ :‏ قال رجل‏ :‏ يا رسول الله ، إن لي جارا يؤذيني ، فقال‏ :‏ ”انطلق فاخرج متاعك إلى الطريق“، فانطلق فاخرج متاعه، فاجتمع الناس عليه، فقالوا‏:‏ ما شانك‏؟‏ قال‏:‏ لي جار يؤذيني، فذكرت للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال‏:‏ ”انطلق فاخرج متاعك إلى الطريق“، فجعلوا يقولون‏:‏ اللهم العنه، اللهم اخزه‏.‏ فبلغه، فاتاه فقال‏:‏ ارجع إلى منزلك، فوالله لا اؤذيك‏ ۔

ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے ایذا دیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اپنا سامان (گھر سے) نکال کر راستے پر رکھ دو ۔ وہ گیا اور اپنا سامان نکال کر راستے پر رکھ دیا ۔ لوگ اس کے پاس آئے اور پوچھا تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا میرا پڑوسی مجھے تکلیف دیتا ہے میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھے حکم دیا کہ جاؤ اور اپنا سامان (گھر سے) نکال کر راستے پر رکھ دو ۔ (لوگوں نے یہ سنا) تو کہنے لگے اللہ اس پر لعنت کرے ، اللہ اسے رسوا کرے ۔ یہ بات جب ہمسائے تک پہنچی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہا اپنے گھر میں لوٹ آو اللہ کی قسم میں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دوں گا ۔ (أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب فى حق الجوار: 5153)، (سنن بوداؤد مترجم جلد سوم حدیث نمبر 4486 صفحہ 583 ،584)،(الادب المفرد للبخاری كتاب الجار 68. بَابُ شِكَايَةِ الْجَارِ 124،چشتی)،(ابن حبان: 520)(أبويعلي: 6630)،(الحاكم: 160 /4)،(البيهقي فى شعب الإيمان: 9547)

اے سارے اہلِ ایمان اس وقت بات ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گستاخی اور اذیت کی ہے اس لیۓ :

جماعتِ اھلسنت والو ،

ساری جمعیت علماۓ پاکستان والو ،

سنی تحریک والو ،

المصطفی پارٹی والو ،

سنی اتحاد کونسل والو ۔

تنظیم السعید والو ،

دعوتِ اسلامی والو ،

ساری سیاسی و مذھبی پارٹی والو ، مجلس علماۓ اھلسنت والو ، بزم حسان ، بزم چشتیہ ، بزم محمد علیہ السلام سمیت ساری بزم و انجمن والو ۔

سارے خطیبو ، امامو ، مؤذنو ، حافظو ، قاریو ، نعت خوانو ، مساجدکمیٹیوں والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان قادریو ، چشتیو ، سھروردیو ، نقشبندیو ، رضویو ، نورانیو ، سعیدیو ، وارثیو ، امینیو ، مدنیو ، نوریو ، شاذلیو ، رفاعیو ، عطاریو ۔

اے سارے اہلِ ایمان مدرسوں والو ، اسکولوں والو ، کالجوں والو ، یونیورسٹیوں والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان عدالتوں والو ، بینکوں والو ، کمپنیوں والو ، ایجنسیو والو ، اداروں والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان تاجرو ، گاہکو ، دکاندارو ، ہوٹلوں والو ، دیہاڑی دارو ، ریڑھی والو ، ٹھیلے والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان اینکرو ، وکیلو ، ٹیچرو ، پروفیسرو ، ڈاکٹرو ، مُدَرِّسو ۔

فرانس کے صدر نے صرف لبیک والوں کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گستاخی نہیں کی ہم سب کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گستاخی کی ہے اس لیۓ فرانس کا سفیر نکلوانا صرف لبیک والوں کا کام نہیں ہے بلکہ ہر کلمہ پڑھنے والے کی ذمہ داری ہے کیوں کہ جن کا کھاتے ہیں ان سے وفا بھی ضروری ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی) ۔ ⬇⬇