کچھ لوگ نماز پڑھنے کے بعد مصلے کو فولڈ کر دیتے ہیں تاکہ شیطان اسے استعمال نا کرے۔ کیا اس کی کوئی اصل ہے؟

اس بارے میں 2 موضوع روایات اور ایک تابعی سے ضعیف روایت ملتی ہے۔ آیے پہلے موضوع روایات دیکھتے ہیں۔

پہلی روایت:

ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﺤﺴﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺃﻧﺎ ﺃﺑﻲ ﺃﺑﻮ اﻟﻌﺒﺎﺱ ﻧﺎ اﻟﻘﺎﺿﻲ ﺃﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻮﻫﺎﺏ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻧﺼﺮ اﻟﺒﻐﺪاﺩﻱ اﻟﻤﺎﻟﻜﻲ ﺑﺪﻣﺸﻖ ﻧﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﻔﺘﺢ ﻳﻮﺳﻒ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻣﺴﺮﻭﺭ اﻟﻘﻮاﺱ ﻧﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺇﻣﻼء ﻧﺎ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺇﺷﻜﺎﺏ ﻧﺎ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﺒﺼﺮﻱ ﻧﺎ اﻟﻤﺒﺎﺭﻙ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﻋﻦ ﻳﺎﺳﻴﻦ ﺑﻦ ﻣﻌﺎﺫ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ اﻟﺰﺑﻴﺮ ﻋﻦ ﺟﺎﺑﺮ ﻗﺎﻝ ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ (ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ) اﻟﺸﻴﺎﻃﻴﻦ ﻳﺴﺘﻤﺘﻌﻮﻥ ﺑﺜﻴﺎﺑﻜﻢ ﻓﺈﺫا ﻧﺰﻉ ﺃﺣﺪﻛﻢ ﺛﻮﺑﻪ ﻓﻠﻴﻄﻮﻩ ﺣﺘﻰ ﺗﺮﺟﻊ ﺇﻟﻴﻬﺎ ﺃﻧﻔﺴﻬﻤﺎ ﻓﺈﻥ اﻟﺸﻴﻄﺎﻥ ﻻ ﻳﻠﺒﺲ ﺛﻮﺑﺎ ﻣﻄﻮﻳﺎ

ترجمہ: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیاطین تمہارے کپڑے اپنے استعمال میں لاتے ہیں تو کپڑا اتار کر تہہ کر دیا کرو کہ اس کا دام راست ہوجائے کہ شیطان تَہہ کئے کپڑے نہیں پہنتا۔

تاریخ دمشق 37/338۔ اس روایت میں عمرو بن محمد البصری متھم بالوضع راوی ہے۔

دوسری روایت:

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﺤﻀﺮﻣﻲ ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ اﻟﻮﻟﻴﺪ اﻟﺒﺠﻠﻲ ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﻛﻬﻤﺲ، ﻋﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ اﻟﺰﺑﻴﺮ، ﻋﻦ ﺟﺎﺑﺮ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: «اﻃﻮﻭا ﺛﻴﺎﺑﻜﻢ ﺗﺮﺟﻊ ﺇﻟﻴﻬﺎ ﺃﺭﻭاﺣﻬﺎ، ﻓﺈﻥ اﻟﺸﻴﻄﺎﻥ ﺇﺫا ﻭﺟﺪ اﻟﺜﻮﺏ ﻣﻄﻮﻳﺎ ﻟﻢ ﻳﻠﺒﺴﻪ، ﻭﺇﺫا ﻭﺟﺪﻩ ﻣﻨﺸﻮﺭا ﻟﺒﺴﻪ

ترجمہ: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کپڑے لپیٹ دیا کرو کہ ان کی جان میں جان آجائے اس لئے کہ شیطان جس کپڑے کو لپٹا ہوا دیکھتا ہے اسے نہیں پہنتا اور جسے پھیلا ہوا پاتا ہے اسے پہنتا ہے

المعجم الاوسط امام طبرانی # 5702۔ اس روایت کے بارے امام نور الدین الھیثمی مجمع الزوائد میں فرماتے ہیں: رواه الطبراني في الأوسط ، وفيه عمر بن موسى بن وجيه ، وهو وضاع .

تیسری روایت:

قَالَ الْقُرَشِيُّ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: مَا مِنْ فِرَاشٍ يَكُونُ فِي بَيْتٍ مَفْرُوشًا لا يَنَامُ عَلَيْهِ أَحَدٌ إِلا نَامَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ.

ترجمہ: حضرت قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کوئی بچھونا بچھا ہو جس پر کوئی سوتا نہ ہو اس پر شیطان سوتا ہے۔

مکائد الشیطان، امام ابن ابی دنیا # 5۔ یہ روایت بھی ھشیم بن بشیر کے تیسرے طبقہ کا مدلس ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔

اس وجہ سے ایسا کرنے کی کوئی اصل نہیں۔