یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَاؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۲۷)

اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو (ف۴۸) اور اُن کے ساکِنوں پر سلام نہ کرلو (ف۴۹) یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو

(ف48)

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ غیر کے گھر میں بے اجازت داخل نہ ہو اور اجازت لینے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ بلند آواز سے سبحان اللہ یا الحمد لِلّٰہ یا اللہ اکبر کہے یا کھکارے جس سے مکان والوں کو معلوم ہو کہ کوئی آنا چاہتا ہے یا یہ کہے کہ کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ؟ غیر کے گھر سے وہ گھر مراد ہے جس میں غیر سکونت رکھتا ہو خواہ اس کا مالک ہو یا نہ ہو ۔

(ف49)

مسئلہ : غیر کے گھر جانے والے کی اگر صاحبِ مکان سے پہلے ہی ملاقات ہو جائے تو اوّل سلام کرے پھر اجازت چاہے اور اگر وہ مکان کے اندر ہو تو سلام کے ساتھ اجازت چاہے اس طرح کہ کہے السلام علیکم کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ سلام کو کلام پر مقدم کرو ۔ حضرت عبداللہ کی قراءت بھی اسی پر دلالت کرتی ہے ان کی قراء ت یوں ہے حَتّٰی تُسَلِّمُوْا عَلٰی اَھْلِہَا وَتَسْتَاذِنُوْا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلے اجازت چاہے پھر سلام کرے ۔ (مدارک ، کشاف ، احمدی)

مسئلہ : اگر دروازے کے سامنے کھڑے ہونے میں بے پردگی کا اندیشہ ہو تو دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہو کر اجازت طلب کرے ۔

مسئلہ :حدیث شریف میں ہے اگرگھرمیں ماں ہو جب بھی اجازت طلب کرے ۔ (مؤطا امام مالک)

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْۚ-وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ(۲۸)

پھر اگر اُن میں کسی کو نہ پاؤ (ف۵۰) جب بھی بے مالکوں کی اجازت کے ان میں نہ جاؤ (ف۵۱) اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو واپس ہو (ف۵۲) یہ تمہارے لیے بہت ستھرا ہے اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے

(ف50)

یعنی مکان میں اجازت دینے والا موجود نہ ہو ۔

(ف51)

کیونکہ مِلکِ غیر میں تصرُّف کرنے کے لئے اس کی رضا ضروری ہے ۔

(ف52)

اور اجازت طلب کرنے میں اصرار و الحاح نہ کرو ۔

مسئلہ : کسی کا دروازہ بہت زور سے کھٹ کھٹان ا اور شدید آواز سے چیخنا خاص کر عُلَماء اور بزرگوں کے دروازوں پر ایسا کرنا ، ان کو زور سے پکارنا مکرو ہ و خلافِ ادب ہے ۔

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ(۲۹)

اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی سکونت کے نہیں (ف۵۳) اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے اور اللہ جانتا ہے جوتم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو

(ف53)

مثل سرائے اور مسافر خانے وغیرہ کے کہ اس میں جانے کے لئے اجازت حاصل کرنے کی حاجت نہیں ۔

شانِ نُزول : یہ آیت ان اصحاب کے جواب میں نازِل ہوئی جنہوں نے آیتِ استیذان یعنی اوپر والی آیت نازِل ہونے کے بعد دریافت کیا تھا کہ مکّۂ مکرّمہ اور مدینۂ طیّبہ کے درمیان اور شام کی راہ میں جو مسافر خانے بنے ہوئے ہیں کیا ان میں داخل ہونے کے لئے بھی اجازت لینا ضروری ہے ؟

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)

مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں (ف۵۴) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (ف۵۵) یہ اُن کے لیے بہت ستھرا ہے بےشک اللہ کو اُن کے کاموں کی خبر ہے

(ف54)

اور جس چیز کا دیکھنا جائز نہیں اس پر نظر نہ ڈالیں ۔

مسائل : مرد کا بدن زیرِ ناف سے گھٹنے کے نیچے تک عورت ہے ، اس کا دیکھنا جائز نہیں اور عورتوں میں سے اپنے محارم اور غیر کی باندی کا بھی یہی حکم ہے مگر اتنا اور ہے کہ ان کے پیٹ اور پیٹھ کا دیکھنا بھی جائز نہیں اور حُرۂ اجنبیہ کے تمام بدن کا دیکھنا ممنوع ہے ۔

اِنْ لَّمْ یَاْمَنْ مِّنَ الشَّھۡوَہ وَ اِنْ اَمِنَ مِنھَا فَالْمَمْنُوعُ النَّظرُ اِلیٰ مَاسِوٰی الْوَجْہِ وَالْکَفِّ وَ القَدَمِ وَ مَنْ یَّامَنُ فَاِنَّ الزَّمَانَ زَمَانُ الْفَسَادِ فَلَا یَحِلُّ النَّظَرُ اِلیَ الحُرَّۃِ الاَجنَبِیَّۃِ مُطْلَقًا مِّن غَیرضُرُورۃٍ

مگر بحالتِ ضرورت قاضی و گواہ کو اور اس عورت سے نکاح کی خواہش رکھنے والے کو چہرہ دیکھنا جائز ہے اور اگر کسی عورت کے ذریعہ سے حال معلوم کر سکتا ہو تو نہ دیکھے اور طبیب کو موضعِ مرض کا بقدرِ ضرورت دیکھنا جائز ہے ۔

مسئلہ : اَمْرد لڑکے کی طرف بھی شہوت سے دیکھنا حرام ہے ۔ (مدارک و احمدی)

(ف55)

اور زنا و حرام سے بچیں یا یہ معنٰی ہیں کہ اپنی شرم گاہوں اور ان کے لواحق یعنی تمام بدنِ عورت کو چھپائیں اور پردہ کا اہتمام رکھیں ۔

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۳۱)

اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں (ف۵۶) اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں (ف۵۷) مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ (ف۵۸) یا شوہروں کے باپ (ف۵۹) یا اپنے بیٹے (ف۶۰) یا شوہروں کے بیٹے (ف۶۱) یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے (ف۶۲) یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں (ف۶۳) یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں (ف۶۴) یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں (ف۶۵) اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار (ف۶۶) اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ

(ف56)

اور غیر مردوں کو نہ دیکھیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ازواجِ مطہرات میں سے بعض اُمہات المؤمنین سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھیں ، اسی وقت ابنِ اُم مکتوم آئے حضور نے ازواج کو پردہ کا حکم فرمایا انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو نابینا ہیں فرمایا تو تم تو نابینا نہیں ہو ۔ (ترمذی و ابوداؤد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی نامَحرم کا دیکھنا اور اس کے سامنے ہونا جائز نہیں ۔

(ف57)

اظہر یہ ہے کہ یہ حکم نماز کا ہے نہ نظر کا کیونکہ حُرّہ کا تمام بدن عورت ہے ، شوہر اور مَحرم کے سوا اور کسی کے لئے اس کے کسی حصّہ کا دیکھنا بے ضرورت جائز نہیں اور معالجہ وغیرہ کی ضرورت سے قدرِ ضرورت جائز ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)

(ف58)

اور انہیں کے حکم میں دادا پردادا وغیرہ تمام اصول ۔

(ف59)

کہ وہ بھی مَحرم ہو جاتے ہیں ۔

(ف60)

اور انہیں کے حکم میں ہے ان کی اولاد ۔

(ف61)

کہ وہ بھی مَحرم ہو گئے ۔

(ف62)

اور انہیں کے حکم میں ہیں چچا ماموں وغیرہ تمام محارم ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ابو عبیدہ بن جراح کو لکھا تھا کہ کُفّار اہلِ کتاب کی عورتوں کو مسلمان عورتوں کے ساتھ حمّام میں داخل ہونے سے منع کریں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمہ عورت کو کافِرہ عورت کے سامنے اپنا بدن کھولنا جائز نہیں ۔

مسئلہ : عورت اپنے غلام سے بھی مِثل اجنبی کے پردہ کرے ۔ (مدارک و غیرہ)

(ف63)

ان پر اپنا سنگار ظاہر کرنا ممنوع نہیں اور غلام ان کے حکم میں نہیں ، اس کو اپنی مالکہ کے مواضعِ زینت کو دیکھنا جائز نہیں ۔

(ف64)

مثلاً ایسے بوڑھے ہوں جنہیں اصلا شہوت باقی نہیں رہی ہو اور ہوں صالح ۔

مسئلہ : ائمۂ حنفیہ کے نزدیک خصی اور عِنِّین حرمتِ نظر میں اجنبی کا حکم رکھتے ہیں ۔

مسئلہ : اس طرح قبیح الافعال مُخنّث سے بھی پردہ کیا جائے جیسا کہ حدیثِ مسلم سے ثابت ہے ۔

(ف65)

وہ ابھی نادان نابالغ ہیں ۔

(ف66)

یعنی عورتیں گھر کے اندر چلنے پھرنے میں بھی پاؤں اس قدر آہستہ رکھیں کہ ان کے زیور کی جھنکار نہ سُنی جائے ۔

مسئلہ : اسی لئے چاہیئے کہ عورتیں باجے دار جھانجھن نہ پہنیں حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی اس قوم کی دعا نہیں قبول فرماتا جن کی عورتیں جھانجھن پہنتی ہوں ۔ اس سے سمجھنا چاہیئے کہ جب زیور کی آواز عدمِ قبولِ دعا کا سبب ہے تو خاص عورت کی آواز اور اس کی بے پردگی کیسی موجبِ غضبِ الٰہی ہو گی ، پردے کیطرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے ۔ (اللہ کی پناہ) ( تفسیرِ احمدی وغیرہ )

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ-اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۳۲)

اور نکاح کردو اپنوں میں اُن کا جو بے نکاح ہوں (ف۶۷) اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ اُنہیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب (ف۶۸) اور اللہ وسعت والا علم والا ہے

(ف67)

خواہ مرد یا عورت کنوارے یا غیر کنوارے ۔

(ف68)

اس غناء سے مراد یا قناعت ہے کہ وہ بہترین غنا ہے جو قانع کو تردُّد سے بے نیاز کر دیتا ہے یا کفایت کہ ایک کا کھانا دو کے لئے کافی ہو جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے یا زوج و زوجہ کے دو رزقوں کا جمع ہو جانا یا فراخی بہ برکتِ نکاح جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ۔

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا ﳓ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْؕ-وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۳)

اور چاہیےکہ بچے رہیں (ف۶۹) وہ جو نکاح کا مقدور نہیں رکھتے (ف۷۰) یہاں تک کہ اللہ انہیں مقدور والا کردے اپنے فضل سے (ف۷۱) اور تمہارے ہاتھ کی مِلک باندی غلاموں میں سے جو یہ چاہیں کہ کچھ مال کمانے کی شرط پر انہیں آزادی لکھ دو تو لکھ دو (ف۷۲) اگر ان میں کچھ بھلائی جانو (ف۷۳) اور اس پر ان کی مدد کرو اللہ کے مال سے جو تم کو دیا (ف۷۴) اور مجبور نہ کرو اپنی کنیزوں کو بدکاری پر جب کہ وہ بچنا چاہیں تاکہ تم دنیوی زندگی کا کچھ مال چاہو (ف۷۵) اور جو اُنہیں مجبور کرے گا تو بےشک اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری ہی کی حالت پر رہیں بخشنے والا مہربان ہے (ف۷۶)

(ف69)

حرام کاری سے ۔

(ف70)

جنہیں مَہر و نفقہ میسّر نہیں ۔

(ف71)

اور مَہر و نفقہ ادا کرنے کے قابل ہو جائیں ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو نکاح کی قدرت رکھے وہ نکاح کرے کہ نکاح پارسائی و پاک بازی کا مُعِین ہے اور جسے نکاح کی قدرت نہ ہو وہ روزے رکھے کہ یہ شہوتوں کو توڑنے والے ہیں ۔

(ف72)

کہ وہ اس قدر مال ادا کر کے آزاد ہو جائیں اور اس طرح کی آزادی کو کتابت کہتے ہیں اور آیت میں اس کا امر استحباب کے لئے ہے اور یہ استحباب اس شرط کے ساتھ مشروط ہے جو اس کے بعد ہی آیت میں مذکور ہے ۔

شانِ نُزول : حویطب بن عبدالعزٰی کے غلام صبیح نے اپنے مولٰی سے کتابت کی درخواست کی ، مولٰی نے انکار کیا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی تو حویطب نے اس کو سو دینار پر مکاتَب کر دیا اور ان میں سے بیس اس کو بخش دئے باقی اس نے ادا کر دیئے ۔

(ف73)

بھلائی سے مراد امانت و دیانت اور کمائی پر قدرت رکھنا ہے کہ وہ حلال روزی سے مال حاصل کر کے آزاد ہو سکے اور مولٰی کو مال دے کر آزادی حاصل کرنے کے لئے بھیک نہ مانگتا پھرے اسی لئے حضرتِ سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے غلام کو مکاتَب کرنے سے انکار فرما دیا جو سوائے بھیک کے کوئی ذریعہ کسب کا نہ رکھتا تھا ۔

(ف74)

مسلمانوں کو ارشاد ہے کہ وہ مکاتَب غلاموں کو زکوٰۃ وغیرہ دے کر مدد کریں جس سے وہ بدلِ کتابت دے کر اپنی گردن چھڑا سکیں اور آزاد ہو سکیں ۔

(ف75)

یعنی طمعِ مال میں اندھے ہو کر کنیزوں کو بدکاری پر مجبور نہ کریں ۔

شانِ نُزول : یہ آیت عبداللہ بن اُبی بن سلول منافق کے حق میں نازِل ہوئی جو مال حاصل کرنے کے لئے اپنی کنیزوں کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا ، ان کنیزوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔

(ف76)

اور وبالِ گناہ مجبور کرنے والے پر ۔

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠(۳۴)

اور بےشک ہم نے اُتاریں تمہاری طرف روشن آیتیں (ف۷۷)اور کچھ ان لوگوں کا بیان جو تم سے پہلے ہو گزرے اور ڈر والوں کے لیے نصیحت

(ف77)

جنہوں نے حلال و حرام حدود و احکام سب کو واضح کر دیا ۔