عبادت گزار خاتون مگر جہنمی!

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص بارگاہِ نبوی میں عرض گزار ہوا ’’یا رسول اللہ ا! فلانی عورت کے بہت نماز پڑھنے، روزے رکھنے، اور خیرات کرنے کا چرچا ہے مگر وہ اپنی زبان سے اپنے پڑوسی کو تکلیف دیتی ہے۔ تو سرکارﷺ نے فرمایا ’’وہ جہنمی ہے ‘‘ عرض گزار ہو ا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! فلانی عورت کم روزے رکھنے، کم صدقہ کرنے، اور کم نماز پڑھنے میں مشہور ہے وہ پنیر کے ٹکڑے ہی خیرات کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے پڑوسی کو تکلیف نہیں پہونچاتی۔ سرکار ﷺ نے فرمایا ’’وہ جنتی ہے۔ ( احمد، بیہقی )

میرے پیارے آقا ﷺکے پیارے دیوانو! مذکورہ حدیث مبارکہ کئی گوشوں پر ہماری توجہ مبذول کراتی ہے۔ پہلی چیز تو یہ ہے کہ ہم نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ وغیرہ ہی کو نجات کاذریعہ سمجھتے ہیںجب کہ ان عبادات کی ادائیگی کے ساتھ اگر پڑوسی کو ستانا شامل ہو تو ان عبادتوں کا کوئی صلہ نہیں ملے گا (مراد یہ ہے کہ جب یہ نفل ہوں ) یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ہم مسلمانوں کی پہچان یہی تھی کہ ہماری ذات سے کبھی پڑوسی کو تکلیف نہ پہونچتی بلکہ ہمارے پڑوس میں رہنے والا ہمارے حسن سلوک سے متأثر ہوکر کفر و شرک کی وادی سے نکل کر دامن اسلام میں پناہ لے لیتا تھالیکن ہم حسن اخلاق جیسی پاکیزہ تعلیم کو بھول گئے، اسلام کی پاکیزہ تعلیمات سے کنارہ کشی کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ آج دنیا میں کہیں بھی ہمارا کوئی مقام نہیں اور ہو بھی کیونکر ؟جب عبادت و ریاضت کی کثرت کے باوجود پڑوسی کو ستانے سے حضور ﷺ جہنم کا حقدار بتا دیں تو یہاں حال بہت برا ہے۔ نامئہ اعمال میں نیکیوں کی قلت اور پڑوسیوں کو ستانے کا جرم ثابت۔ خدا را خدارا ! پڑوسیوں کو تکلیف دینے سے گریز کریں اور جہنم کے عذاب سے پنا ہ مانگیں۔ اللہ عزوجل ہم سب پرکرم کی نظر فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ