اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌؕ-اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍؕ-اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍۙ-یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌؕ-نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ(۳۵)

اللہ نور ہے (ف۷۸) آسمانوں اور زمین کا اس کے نور کی (ف۷۹) مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے (ف۸۰) جو نہ پورب(مشرق) کا نہ پچھّم(مغرب)کا (ف۸۱) قریب ہے کہ اس کا تیل (ف۸۲) بھڑک اُٹھے اگرچہ اُسے آگ نہ چھوئے نور پر نور ہے (ف۸۳) اللہ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے لوگوں کے لیے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے

(ف78)

نور اللہ تعالٰی کے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔ حضرت ا بنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ اللہ آسمان و زمین کا ہادی ہے تو اہلِ سمٰوٰت و ارض اس کے نور سے حق کی راہ پاتے ہیں اور اس کی ہدایت سے گمراہی کی حیرت سے نجات حاصل کرتے ہیں ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی آسمان و زمین کا منوّر فرمانے والا ہے ، اس نے آسمانوں کو ملائکہ سے اور زمین کو انبیاء سے منوّر کیا ۔

(ف79)

اللہ کے نور سے یا تو قلبِ مؤمن کی وہ نورانیت مراد ہے جس سے وہ ہدایت پاتا اور راہ یاب ہوتا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللہ کے اس نور کی مثال جو اس نے مؤمن کو عطا فرمایا ۔ بعض مفسِّرین نے اس نور سے قرآن مراد لیا اور ایک تفسیر یہ ہے کہ اس نور سے مراد سیدِ کائنات افضلِ موجودات حضرت رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔

(ف80)

یہ درخت نہایت کثیر البرکت ہے کیونکہ اس کا روغن جس کو زیت کہتے ہیں نہایت صاف و پاکیزہ روشنی دیتا ہے سر میں بھی لگایا جاتا ہے ، سالن اور نانخورش کی جگہ روٹی سے بھی کھایا جاتا ہے ، دنیا کے اور کسی تیل میں یہ وصف نہیں اور درختِ زیتون کے پتے نہیں گرتے ۔ (خازن)

(ف81)

بلکہ وسط کا ہے کہ نہ اسے گرمی سے ضَرر پہنچے نہ سردی سے اور وہ نہایت اجود و اعلٰی ہے اور اس کے پھل غایتِ اعتدال میں ۔

(ف82)

اپنی صفا و لطافت کے باعث خود ۔

(ف83)

اس تمثیل کے معنٰی میں اہلِ علم کے کئی قول ہیں ایک یہ کہ نور سے مراد ہدایت ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی کی ہدایت غایتِ ظہور میں ہے کہ عالَمِ محسوسات میں اس کی تشبیہ ایسے روشن دان سے ہو سکتی ہے جس میں صاف شفاف فانوس ہو ، اس فانوس میں ایسا چراغ ہو جو نہایت ہی بہتر اور مصفّٰی زیتون سے روشن ہو کہ اس کی روشنی نہایت اعلٰی اور صاف ہو اور ایک قول یہ ہے کہ یہ تمثیل نورِ سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کعب احبار سے فرمایا کہ اس آیت کے معنٰی بیان کرو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال بیان فرمائی روشندان ( طاق) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ شریف ہے اور فانوس قلبِ مبارک اور چراغِ نبوّت کے شجرِ نبوّت سے روشن ہے اور اس نورِ مُحمّدی کی روشنی و اضائت اس مرتبۂ کمالِ ظہور پر ہے کہ اگر آپ اپنے نبی ہونے کا بیان بھی نہ فرمائیں جب بھی خَلق پر ظاہر ہو جائے اور حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ روشندان تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ مبارک ہے اور فانوس قلبِ اطہر اور چراغ وہ نور جو اللہ تعالٰی نے اس میں رکھا کہ شرقی ہے نہ غربی ، نہ یہودی و نصرانی ، ایک شجرۂ مبارکہ سے روشن ہے وہ شجر حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ نورِ قلبِ ابراہیم پر نورِ مُحمّدی نور پر نور ہے اور محمد بن کعب قرظی نے کہا کہ روشن دان و فانوس تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہیں اور چراغ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شجرۂ مبارکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کہ اکثر انبیاء آپ کی نسل سے ہیں اور شرقی و غربی نہ ہونے کے یہ معنٰی ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے نہ نصرانی کیونکہ یہود مغرب کی طرف نماز پڑھتے ہیں اور نصارٰی مشرق کی طرف ، قریب ہے کہ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاسن و کمالات نُزولِ وحی سے قبل ہی خَلق پر ظاہر ہو جائیں ۔ نور پر نور یہ کہ نبی ہیں نسلِ نبی سے ، نورِ محمّدی ہے نور ابراہیمی پر ، اس کے علاوہ اور بھی بہت اقوال ہیں ۔ (خازن)

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗۙ-یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ(۳۶)

ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے (ف۸۴) اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح اور شام (ف۸۵)

(ف84)

اور ان کی تعظیم و تطہیر لازم کی ، مراد ان گھروں سے مسجدیں ہیں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مسجدیں بیت اللہ ہیں زمین میں ۔

(ف85)

تسبیح سے مراد نمازیں ہیں صبح کی تسبیح سے فجر اور شام سے ظہر و عصر و مغرب و عشاء مراد ہیں ۔

رِجَالٌۙ-لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ ﭪ–یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ(۳۷)

وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد (ف۸۶) اور نماز برپا رکھنے (ف۸۷) اور زکوٰۃ دینے سے (ف۸۸) ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں (ف۸۹)

(ف86)

اور اس کے ذکرِ قلبی و لسانی اور اوقاتِ نماز پر مسجدوں کی حاضر ی سے ۔

(ف87)

اور انہیں وقت پر ادا کرنے سے ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بازار میں تھے مسجد میں نماز کے لئے اقامت کہی گئی آپ نے دیکھا کہ بازار والے اٹھے اور دوکانیں بند کر کے مسجد میں داخل ہو گئے تو فرمایا کہ آیت ” رِجَالٌ لَّا تُلْھِیْھِمْ ” ایسے ہی لوگوں کے حق میں ہے ۔

(ف88)

اس کے وقت پر ۔

(ف89)

دلوں کا اُلٹ جانا یہ ہے کہ شدتِ خوف و اضطراب سے اُلٹ کر گلے تک چڑھ جائیں گے نہ باہر نکلیں نہ نیچے اتریں اور آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی یا یہ معنٰی ہیں کُفّار کے دل کُفر و شک سے ایمان و یقین کی طرف پلٹ جائیں گے اور آنکھوں سے پردے اُٹھ جائیں گے یہ تو اس دن کا بیان ہے ، آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ فرمانبردار بندے جو ذکر و طاعت میں نہایت مستعِد رہتے ہیں اور عبادت کی ادا میں سرگرم رہتے ہیں باوجود اس حُسنِ عمل کے اس روز سے خائف رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی عبادت کا حق ادا نہ ہو سکا ۔

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۸)

تاکہ اللہ انہیں بدلہ دے اُن کے سب سے بہتر کام کا اور اپنے فضل سے انہیں انعام زیادہ دے اور اللہ روزی دیتا ہے جسے چاہے بے گنتی

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءًؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْــٴًـا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗؕ-وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ(۳۹)

اور جو کافر ہوئے اُن کے کام ایسے ہیں جیسے دھوپ میں چمکتا ریتا کسی جنگل میں کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک جب اُس کے پاس آیا تو اُسے کچھ نہ پایا (ف۹۰) اور اللہ کو اپنے قریب پایا تو اُس نے اس کا حساب پورا بھردیا اور اللہ جلد حساب کرلیتا ہے (ف۹۱)

(ف90)

یعنی پانی سمجھ کر اس کی تلاش میں چلا جب وہاں پہنچا تو پانی کا نام و نشان نہ تھا ایسے ہی کافِر اپنے خیال میں نیکیاں کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اللہ تعالٰی سے اس کا ثواب پائے گا جب عرصاتِ قیامت میں پہنچے گا تو ثواب نہ پائے گا بلکہ عذابِ عظیم میں گرفتار ہو گا اور اس وقت اس کی حسرت اور اس کا اندوہ و غم اس پیاس سے بدرجہا زیادہ ہو گا ۔

(ف91)

اعمالِ کُفّار کی مثال ایسی ہے ۔

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌؕ-ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍؕ-اِذَاۤ اَخْرَ جَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَاؕ-وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠(۴۰)

یا جیسے اندھیریاں کسی کُنڈے کے دریا میں (ف۹۲) اس کے اوپر موج مو ج کے اوپر اَور موج اس کے اوپر بادل اندھیرے ہیں ایک پر ایک (ف۹۳) جب اپنا ہاتھ نکالے تو سوجھائی دیتا معلوم نہ ہو (ف۹۴) اور جسے اللہ نور نہ دے اُس کے لیے کہیں نور نہیں (ف۹۵)

(ف92)

سمندروں کی گہرائی میں ۔

(ف93)

ایک اندھیرا دریا کی گہرائی کا ، اس پر ایک اور اندھیرا موجوں کے تراکم کا ، اس پر اور اندھیرا بادلوں کی گھری ہوئی گھٹا کا ، ان اندھیریوں میں شدت کا یہ عالم کہ جو اس میں ہو وہ ۔

(ف94)

باوجود یکہ اپنا ہاتھ نہایت ہی قریب اور اپنے جسم کا جزو ہے جب وہ بھی نظر نہ آئے تو اور دوسری چیز کیا نظر آئے گی ، ایسا ہی حال ہے کافِر کا کہ وہ اعتقادِ باطل اور قولِ ناحق اور عملِ قبیح کی تاریکیوں میں گرفتار ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ دریا کے کنڈے اور اس کی گہرائی سے کافِر کے دل کو اور موجوں سے جہل و شک و حیرت کو جو کافِر کے دل پر چھائے ہوئے ہیں اور بادلوں سے مُہر کو جو ان کے دلوں پر ہے تشبیہ دی گئی ۔

(ف95)

راہ یاب وہی ہوتا ہے جس کو وہ راہ دے ۔