یہ امام محمدؒ بن الحسن الشيباني(المتوفی١٧٩ھ) کی فقہی موضوع و ترتیب پر مشتمل احادیثِ نبوی وآثارِ صحابہ کی وہی رواتیں ہیں جو موطا امام مالکؒ کے مجموعہ ونسخہ میں ہیں،

البتہ موطا محمدؒ میں موطا مالکؒ سے مزید روایتیں بھی ہیں جنھیں امام محمدؒ نے اپنے دوسرے اساتذہ سے روایت کیا ہے, موطا مالکؒ میں امام مالکؒ نے تعاملِ مدینہ کو اختیار کیا ہے جبکہ موطا محمدؒ میں امام محمدؒ نے تعاملِ کوفہ پر تائیدی مرویات نقل کرکے اپنے اختیار کردہ مسلکِ حنفی کو مدلل ثابت کرکے وجہ ترجیح کی طرف اشارہ کیا ہے۔

اور خاص بات یہ ہے کہ موطا امام محمد موطا مالک کے دیگر شاگردوں سے مروی موطا مالک پر مقدم ہے کیونکہ ابن قاسم اور دیگر مالکیوں سے جو موطا یے ان میں بعض روایات امام مالک سے معنعنہ ہیں کیونکہ کچھ روایات براہ راست امام مالک سے مروی نہیں

جبکہ موطا میں امام محمد اپنے استاذ امام مالک سے اخبرنا کے صیغے سے تمام روایات لکھی ہیں سماع کے ساتھ..

یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ امام ذھبی فرماتے ہیں کہ امام محمد امام مالک سے روایت کرنے میں (مالک کے باقی اصحاب سے) قوی پختہ ہیں

یہ کتاب شاہد ہے امام محمد کے حافظہ, فقاہت اور حدیث رسول اور اثار صحابہ کی معرفت پر

اور ان متعصبی مخطی ناقدین کی جرح کا بھی پول کھولتی ہے جنہوں نے امام محمد پر باطل جروحات اپنے نفس کے تابع ہو کر کی اور انکے کلام کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا گیا۔

اگر واقعی امام محمد میں ایسا ضعف ہوتا تو موطا کی آدھی روایات تو غلط ہوتی……

امام محمد وہ پہلے حافظ محدث تھے جو کوفہ میں امام مالک اور اہل مکہ کی روایات لائے

جب یہ موطا پڑھتے تو کوفہ محدثین کا انکے گھر رش لگ جاتا اور بیٹھنے کی جگہ تنگ ہو جاتی..

اللہ انکے درجات بلند کرے انکی محنت کا نتیجہ ہے آج فقہ حنفی اللہ کے حکم سے پوری دنیا میں پھل پھول چکی ہے اور اللہ نے اسکو امت محمدی کے لیے پسند فرمایا کہ امت کا 60 فیصد حصہ اس فقہ پر گامزن ہے

اور یہ امام محمد کی فقاہت کا معجزہ ہے کہ انکا جید تلمیذ امام شافعی جو کی انکی شاگردی میں فقاہت و اجتیہاد کے اصول کو سیکھا اور اپنے اصول مدوون کر کے خود ایک مجتہد فقیہ بن کر ابھرے

اور فقہ حنفی کے بعد فقہ شافعی دوسرا بڑا مذہب فروع بن کر سامنے آیا

دعاگو: اسد الطحاوی