🏖 دوست ؟ 🏜

ارشاد باری تعالى :

﴿لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنْسَانِ خَـذُولاً﴾

[الفرقان 29] .

(روز حشر قابو ہو جانے والا انسان دنیا کے اپنے جانی یار کے بارے دہائی دے گا ۔ اے اللہ )

اسی نے ذکر ( قرآن ، نصیحت ، یاد الہی ) میرے پاس آ جانے کے بعد مجھے اس سے گمراہ کر دیا۔

اور شیطان تو ہے ہی انسان کو رسوا کرنے والا ۔

⁦✍️⁩اچھی باتیں اور اچھے اعمال ، اپنے اندر کچھ قدغنیں ، کچھ ضوابط لیئے ہوتے ہیں اور اچھے لوگوں سے جو نصیحتیں سننے کو ملتی ہیں وہ بھی کچھ اسی تناظر میں ہوتی ہیں اور یہ ہر ایک کو اچھا نہیں لگتا ۔

😃 جبکہ شریروں کی گفتگو اور سنگت بے روک ٹوک ہوتی ہے . کھلے کھاءو ننگے نہاءو سننے دیکھنے کو ملتا ہے ۔ سو ہر قدم گمراہی میں آگے بڑھتا جاتا اور نوبت آیت میں بیان فرمودہ تو تکار تک پہنچ جاتی ہے ۔

جناب مالک بن دينار کی ہدایت کتنی بروقت ہے ۔

: یقین کرو کہ أبرار کے ساتھ پتھر اٹھانا فجار کے ساتھ حلوہ کھانے سے بدرجہا بہترین ہے . (قرطبي ۔ اسی آیت کی تفسير ) . .

ابن قدامه – رحمه الله متوفی 620 ھ بتاتے ہیں : خلوص و نصیحت کے ساتھ اپنے دوستوں کو ان کے عیوب بتانے والے اس زمانے میں بہت کم ہیں کہ مفاہمت اور جھوٹی مروت کا زمانہ ہے ، جبکہ اسلاف تو اپنے عیوب سے آگاہ کرنے والوں کو بہت محبت دیتے تھے

اور ہمارا حال یہ ھے کہ ہمارے عیب ہمیں بتانے والا ہمیں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہوتا ہے اور یہ علامت ہے ہمارے إيمان کے کمزور ہونے کی ۔

فقیر خالد محمود عرض گزار ہے کہ امام قرطبي نے یہ حال اپنے زمانہ کا لکھا ہے ۔ اب تو حال اور پتلا ہے ۔