*اندلس کے گستاخ پادری*

تحریر: *محمد اسمٰعیل بدایونی*

آگے یہ سلسلہ کچھ اور بڑھا ۔ اب قرطبہ کاایک اور پادری ،پادری اسحاق اس خبیث کام کے لیے اُٹھا۔

یعنی مس! یہ تو ایک کے بعد ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔عبد اللہ نے بڑی تشویش کے ساتھ کہا۔

ہاں بیٹا!

ان متعصب پادریوں نے اسلام کی رواداری اور مذہبی رسوم میں آزادی کا ناجائز فائدہ اُٹھایا اور بجائے اس کے کہ یہ مسلمانوں کے شکرگزار ہوتے، یہ تو ایک ہولناک فتنہ کے بانی بن گئے۔مس نے بڑے دُکھ سے کہا۔

مس!آپ اسحاق پادری کے بارے میں بتارہی تھیں۔ فیضان نے مس کو یاددلایا۔

ہاں تو بیٹا!

پادری اسحاق قرطبہ میں رہا کرتا تھا اور ایک عیسائی گھرانے سے تعلق رکھتاتھا۔اُس کے ماں باپ نے اُس دور کے رواج کے مطابق اس کو بہترین تعلیم دلائی۔

اُس زمانے میں لوگ عربی ہی سیکھتے تھے، جیسے آج ہم سب انگریزی سیکھنے کے لیے بے چین وبے تاب رہتے ہیں، انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، ایسے ہی اُس زمانے میں لوگ عربی سیکھتے تھے۔

پادری اسحاق بھی بہت اچھی عربی بولتاتھا۔ عربی لکھناپڑھنا بھی جانتاتھا۔

ابھی یہ نوعمر ہی تھا کہ اس کو امیر عبدالرحمٰن کے دربار میں کاتب کی نوکری مل گئی۔

کچھ عرصہ یہ نوکری کرتا رہا، پھر کچھ عرصے کے بعد اس نے یہ نوکری چھوڑ دی اور طبانوس کی خانقاہ میں گوشہ نشین ہوگیا۔

مس! یہ طبانوس کی خانقاہ کیاہے؟ جنید نے پوچھا۔

بیٹا!طبانوس کی مسیحی خانقاہ پادری اسحاق کے چچا جرمیاس نے تعمیر کرائی تھی اور اس خانقاہ کو اپنی ذاتی دولت سے بنایاتھا۔

اس خانقاہ کے چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑ اور گھنے جنگل تھے ۔

جو راہب ، پادری اُس خانقاہ میں رہتے تھے، اُن کے لیے قواعدوضوابط دیگر خانقاہوں سے بہت زیادہ سخت تھے۔

یہ خانقاہ مذہبی تعصب اور دشمنی کی نشوونما کے لیے بہت اہم سمجھی جاتی تھی۔ یوں سمجھوکہ فتنے وفساد کی یہ یونیورسٹی تھی۔

اس خانقاہ میں اسحاق ،اسحاق کاچچا جرمیاس ،چچی الزبتھ اور چند عزیز بھی رہتے تھے۔

ان سب لوگوں نے زندگی کو اپنے اوپر تنگ کررکھا تھا۔

وحشت ناک ماحول ،سخت روزے ،شب بیداری ،جسم کو اذیتیں پہنچانا،مسیحی شہدا کی سوانح عمری کامطالعہ کرنا۔

ان تمام باتوں نےا سحاق میں موجود مذہبی عصبیت کی چنگاری کو شعلہ بنادیا۔

مذہبی عصبیت کے جوش وخروش نے اس کو عقل سے اندھا کردیا اور یہ قاضی کی عدالت میں گیا، وہاں جاکر اس نے پیغمبرِ اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور پھر اس کاانجام بھی وہی ہوا جو ہرزمانے میں گستاخانِ رسول کا ہوتا رہاہے ۔

قاضی نے جلاد کو حکم دیاکہ اس کی گردن کاٹ دی جائے۔

جلاد نے حکم کی تعمیل کی اور ایک ہی وار میں اس ملعون پادری کو واصل ِجہنم کردیا۔

امیر عبدالرحمن نے حکم دیاکہ اس کی لاش متعصب عیسائی پادریوں کے حوالے نہ کی جائے۔

کیونکہ وہ دیکھ چکاتھا کہ پادری فکتوس کے قتل کے بعد عیسائیوں نے بہت دھوم دھام سے اُس کی عزت کی اور بڑی شان وشوکت کے ساتھ اس کو دفن کیا۔

امیر عبدالرحمن نے حکم دیاکہ اس کی لاش کو کئی دن تک پھانسی پر اس طرح لٹکایا جائے کہ سر نیچے اور ٹانگیں اوپر ہوں اور کچھ دنوں کے بعد اس کی لاش کو جلاکر دریامیں بہادیاجائے۔

لہذا امیر عبدالرحمن کے حکم کی تعمیل ہوئی اور اسحاق پادری بھی اپنے انجام کو پہنچا۔

امیر عبدالرحمن کے اس حکم سے اسحاق کی لاش کو مسیحی تبرکات میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

لیکن پادریوں نے اُس گستاخِ رسول اور جہنمی کا نام مسیحی شہیدوں میں درج کرلیا۔

اور اس کی جھوٹی اور من گھڑت کرامات کابھی تذکرہ کیا، جو صرف بچپن میں ہی نہیں بلکہ پیدائش سے پہلے بھی ظاہر ہوتی رہی تھیں۔

بچو! اب دیگر پادری اور راہب بھی جو ان گستاخوں کےساتھ اُٹھتے بیٹھتے تھے ، انہیں بھی ملعون یولوجیوس نے بھڑکایا،ورغلایا اور شیطان کے لشکر نےان کی پشت پناہی کی اور یہ گستاخ بھی مسیحی شہید بننے کے لیے میدان میں آنے لگے۔

اسحاق کے عبرت ناک انجام کے بعد ایک افرنجی عیسائی جس کانام سانکو تھا، یہ یولوجیوس کاشاگرد تھا۔

یہ بھی ملعون پادری یولوجیوس کے گندے نظریات کا شکار ہوگیا اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے لگا اور اپنے انجام کو پہنچا۔

سانکو کی موت کے بعد چھ راہب جن میں اسحاق کا چچا جرمیاس اور ایک دوسرا راہب جانتبوس تھا، یہ اپنے حجرے میں ہمیشہ تنہا پڑا رہتاتھا۔

قاضی کے سامنے آئے اور کہا کہ ہم اپنے مقدس بھائیوں اسحاق اور سانکو کے الفاظ کااعادہ کرتے ہیں۔

پھر ان بدبختوں نے نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی شروع کردی۔

قاضی نے جلاد کو حکم دیاکہ ان چھ کے چھ افراد کے سر تن سے جداکردو۔

اور پھر جلاد نے قاضی کے حکم کی تعمیل کی اور ان چھ کے چھ افراد کے سر ان کے جسم سے علیحدہ کردئیے گئے ۔

دو ماہ کے عرصے میں یہ گیارہ بدبخت بے وقوف، ابلیس کے لشکر کا شکار ہو گئے تھے اور ملعون یولوجیوس کی شیطانی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اپنی جانیں گنوائیں۔

پھر کیا ہوا؟ جنید نے پوچھا ۔

کیا باقی عیسائیوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش نہیں کی ۔عبد اللہ نے سوال کیا ۔

باقی آئندہ ان شاء اللہ

*تربیت آپ کے بچوں کی بنیادی ضرورت ہے سنہری فہم القرآن اور سنہری صحاح ستہ اس ضرورت کو پوری کرتی ہے آج ہی یہ کتابیں منگوائیے*

*فری ہوم ڈیلیوری ابھی آرڈر کیجیے*03082462723* فہیم بھائی