پادری یولوجیوس کاانجام

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

اسی زمانے میں قرطبہ میں ایک نوجوان لڑکی رہاکرتی تھی۔اس نوجوان لڑکی کانام لکرتیتاتھا۔

یہ لکرتیتا تھی کون ؟جنید نے پوچھا نے پوچھا ۔

وہی بتا رہی ہوں ۔ جنید کی عجلت پر مس مسکرائیں ۔

لکر تیتا کے ماں باپ مسلمان تھے۔

ان کے گھر میں ایک عیسائی رشتے دار عور ت کا آنا جانا بہت تھا، جو عیسائی راہبہ بھی تھی۔

اُس عیسائی راہبہ نے لکر تیتا کو خفیہ طور پر عیسائی بنا لیا۔

چنانچہ ایک دن لڑکی نے اپنے ماں باپ سے کہہ دیا کہ وہ عیسائی ہوگئی ہے۔

لکر تیتا کے ماں باپ کو یہ سُن کر بہت غصہ آیا مگر اب تو پانی سر سے اونچا ہوچکاتھا۔

اور لکرتیتا کے ماں باپ کی اپنی غلطی بھی تو تھی کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی اسلامی تربیت کیوں نہیں کی؟اور انہوں نے کیوں عیسائی راہبہ یا کسی اور بدمذہب کو اپنے گھر آنے جانے کااختیاردیا کہ آج یہ دن دیکھناپڑا؟

لیکن مس ! آج تو صورت ِ حال بہت خراب ہو چکی ہے ۔عبد اللہ نے کہا ۔

وہ کیسے ؟ مس نے پوچھا ۔

مس ! آج ہر بچے کے ہاتھ میں موبائل ہے، ہر شخص پوسٹ لگا رہاہے ۔ ان میں بہت سارے لوگ اس راہبہ کی طرح ہیں جو ہماری نئی نسل کو لبرل اور سیکولر بنا رہے ہیں ۔ مسلمانوں کے عقائد و نظریات کے حوالے سے مسلمان بچوں اور نوجوانو ں کے ذہن میں شک کے بیج بو رہے ہیں ۔

ہاں! یہ تو آپ نے ٹھیک کہا ۔ اب ہمیں اپنی نسلِ نو کو ایسے لوگوں سے بچانے کے لیے سوشل میڈیا پر بھی مقابلہ کرنا ہو گا اور اپنی نسلِ نو کی تربیت بھی کرنی ہو گی۔مس نے کہا ۔

مس آپ لکترتیتا کےبارے میں بتارہی تھیں ۔فیضان نے مس کو یاد دلایا ۔

ہاں تو میں کیا بتا رہی تھی ؟مس سوچنے لگیں ۔

مس آپ بتا رہی تھیں ’’ لکرتیتا کے ماں باپ کی اپنی غلطی بھی تو تھی کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی اسلامی تربیت کیوں نہیں کی؟اور انہوں نے کیوں عیسائی راہبہ یاکسی اور بدمذہب کو اپنے گھر آنے جانے کااختیاردیاکہ آج یہ دن دیکھناپڑا؟‘‘

ہاں یاد آگیا۔ تو لکر تیتاکے ماں باپ نے لڑکی پر سختی بھی کی، کہ وہ ارتداد سے توبہ کرکے مسلمان ہوجائے ۔

لیکن لکر تیتا کی بدنصیبی اور اُس رشتے دار عیسائی راہبہ کی تبلیغ نے اُسے توبہ نہ کرنے دی۔

لکرتیتا نے اپناحال کسی طریقے سے ملعون یولوجیوس اور اُس کی بہن انولاتک پہنچادیا۔

ملعون یولوجیوس اور اُس کی بہن انولا نے اُس لڑکی سے کہا:تم جس دن اپنے ماں باپ کے گھر سے فرار ہوکر ہمارے پاس آؤ گی، ہم تمہارے پوشیدہ رہنے کا انتظام اُسی دن کردیں گے۔

لیکن لکرتیتا بہت پریشان تھی کہ وہ گھر سے کیسے فرار ہو؟

اُس کے لیے بھی انولا اور ملعون پادری یولوجیوس نے اُس کو ساری ترکیب سمجھا دی ۔

اب لکرتیتا نے اپنے ماں باپ کے سامنے یہ ظاہر کیاکہ اُس نے عیسائی مذہب ترک کردیاہے اور راہبہ بننے کا خیال بھی وہ دل سے نکال چکی ہے۔

جب والدین کو تسلی ہوگئی تو ایک دن خوب سج سنور کر یہ کہہ کر گھر سے نکلی کہ میں اپنی ایک سہیلی کی شادی میں جارہی ہوں ۔

لکرتیتا اپنے گھر سے نکل کر سیدھی ملعون یولوجیوس کے گھر جاپہنچی۔

یولوجیوس اور اُس کی بہن انولا نے لکر تیتا کو ایک محفوظ اور پوشیدہ مقام پر چھپادیا، جس کاانہوں نے پہلے ہی انتظام کیاہواتھا۔

دوسری جانب لکرتیتا گھر نہیں پہنچی تو اُس کے ماں باپ بہت پریشان ہوئے کہ اُن کی بیٹی نہ جانے کہاں چلی گئی ہے؟انہوں نے قاضی کے پاس اپنی شکایت لکھوائی۔

قاضی نے لڑکی کی تلاش کاحکم دیا۔ لڑکی کے ماں باپ نے سرکاری سپاہیوں کے ساتھ ہر جگہ لڑکی کو ڈھونڈا مگر وہ نہیں ملی۔

لیکن مس !یولوجیوس کاانجام کیاہوا؟جنید نے بے تابی سے پوچھا۔

ارے بیٹا!تھوڑاساصبر !بس اب آگے ملعون یولوجیوس کاعبرت ناک انجام سامنے ہی ہے۔

لکرتیتا کو یولوجیوس کی بہن نے چھپادیاتھا لیکن لکر تیتا اور انولا کے درمیان ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ البتہ یہ ملاقات کچھ دیر ہی کی ہوتی تھی۔

لکرتیتا کو یولوجیوس کی بہن انولاسے محبت ہوگئی تھی۔ ایک دن لکرتیتا نے پورادن انولا کے گھر گزارا، یہاں تک کہ رات ہوگئی اور وہ انولا کے گھر ہی رک گئی۔

صبح قاضی کو خبر ملی کہ جس لڑکی کی تلاش ہے، وہ ملعون یولوجیوس کے گھر میں ہے۔

قاضی نے گرفتاری کاحکم دیا۔ لکر تیتا کے ساتھ اُس وقت ملعون یولوجیوس بھی موجود تھا۔ اُس کو بھی گرفتار کرلیاگیا ۔

پھر جب مقدمہ چلاتو یولوجیوس نے اُس لڑکی کو کلیسائی تعلیم دینے کاجُرم قبول کرلیا۔

قاضی نے اُس جرم پر اُس کو تازیانے لگانے کی سزا سُنائی ۔یولوجیوس نے اس سزا میں اپنی بے عزتی محسوس کی۔

یہ تو سزائے موت کے مقابلے میں بہت معمولی سزاتھی، پھر اُس نے بے عزتی کیوں محسوس کی؟فیضان نے پوچھا:

دراصل یولوجیوس اب بہت مشہور ہوچکاتھا اور متعصب عیسائیوں کا ہیرو تھا۔ اُس نے سوچا کہ اگر یہ سزا اُسے ملی تو اُس کے پیروکاراُس کے بارے میں کیاسوچیں گے۔

اب یولوجیوس نے اپنے ارادے کو مضبوط کیااور ارادے کی اس مضبوطی میں ہمت نہ تھی بلکہ غرورتھا۔

اُس نے کیاارادہ کیا؟مس!فیضان نے بے قرار ہوتے ہوئے پوچھا۔

اُس نے ارادہ کیاکہ کیوں نا!وہ آج قاضی کے سامنے وہی کام کرے جس کے بارے میں وہ لوگوں کو اُبھارتاآیاہے۔

مس نے جواب دیا۔

اوہو۔۔۔۔۔یعنی دُشنام طرازی ،ہمارے پیارے نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی ۔جنید نے افسوس کرتے ہوئے کہا۔

ملعون یولوجیوس نے قاضی کے سامنے ہی نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی شروع کردی۔

ملعون یولوجیوس یہ سمجھ رہاتھا کہ اُس کے قتل ہونے کے بعد اُندلس کی عیسائی رعایا بغاوت کردے گی اور اُس کاکچھ نہ کچھ نتیجہ ضرورنکلے گا۔

لیکن قاضی نے سمجھ داری دکھائی اور اُس کو قصر ِخلافت بھیج دیا۔

یولوجیوس نے قصرِ خلافت میں بھی توہین رسالت کی۔ چنانچہ اُس کو نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی پر سزائے موت دے دی گئی۔

کچھ دنوں بعد لکرتیتا پر بھی ارتداد کاجُرم ثابت ہوگیا اور اُس کو بھی پھانسی دے دی گئی۔

اور اُس کے بعد یہ تحریک اُندلس میں دَم توڑ گئی۔ تو بیٹا!یہ اسلام دشمن قوتیں ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں مسلمانوں کی دل آزاری کرتی رہتی ہیں۔

اب کلاس میں جائیے! باقی باتیں پھر ان شاء اللہ کل کریں گے ۔مس نائلہ نے کہا اور پھر تینوں واپس اپنی کلا س میں آگئے۔

باقی کل ان شاء اللہ

تربیت آپ کے بچوں کی بنیادی ضرورت ہے سنہری فہم القرآن اور سنہری صحاح ستہ اس ضرورت کو پوری کرتی ہے آج ہی یہ کتابیں منگوائیے

فری ہوم ڈیلیوری ابھی آرڈر کیجیے03082462723 فہیم بھائی