مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

کورونا وائرس: احتیاطی تدابیر

کورونا وائرس دراصل جراثیم(Bacteria)کی نسل سے ہے۔جراثیم انتہائی چھوٹے حیوانات ہیں جو کسی آلہ یا خورد بیں سے دیکھے جا سکتے ہیں۔جراثیم کی مختلف قسمیں ہیں۔علم جراثیم(Bacteriology)میں اس کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔علم جراثیم,علم خورد حیاتیات(Microbiology)کا ایک شعبہ ہے۔

جراثیم بہت سی چیزوں میں پائے جاتے ہیں۔یہ بہت جلد پیدا ہوتے ہیں اور کثیر تعداد میں ہوتے ہیں۔شاید کہ مخلوقات میں سب سے زیادہ جراثیم کی تعداد ہو گی۔

یہ مسلمات میں سے ہے کہ کسی مخلوق کو تخلیق کی قدرت نہیں دی گئی۔حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے بطور معجزہ بعض امور صادر ہوئے ہیں,جیسے حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے پتھر سے اونٹنی پیدا ہو گئی۔یہ بھی در اصل اللہ تعالی کی تخلیق سے ہے۔

جراثیم چوں کہ چھوٹے حیوانات ہیں تو کوئی مخلوق از خود اس کی تخلیق نہیں کر سکتا۔یہ ممکن ہے کہ کسی کیمیکل کے ذریعہ اس کی افزائش نسل کا طریقہ اپنایا جائے اور کیمیکل کے ذریعہ اسے خطرناک اور مہلک بنانے کی کوشش ہو۔

جراثیم کو کسی طرح کسی علاقے میں پھیلانے کی کوشش کی جائے,مثلا انجکشن کے ذریعہ کسی انسان یا حیوان کے جسم میں اسے داخل کر دیا جائے,پھر اس کے ذریعہ دوسروں تک وہ جراثیم پہنچ جائیں۔اس قسم کے متعدد طریقے ہو سکتے ہیں,لیکن یہ سب محض امکانی صورتیں ہیں۔کورونا وائرس دنیا میں کیسے پھیلا؟یہ وبا ہے یا کسی سازش کے ذریعہ پھیلایا گیا۔یہ سب تحقیق طلب امور ہیں۔سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کی معتبر تصدیقات ہی سے کچھ معلوم ہو سکتا ہے۔

ہاں,یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کورونا وائرس کے ذریعہ اموات ہو رہی ہیں۔دنیا بھر کے لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔اس کے لئے احتیاطی تدابیر بتائی جا رہی ہیں۔ان سب پر عمل کی کوشش ضرور ہونی چاہئے۔ماسک مکمل حفاظت تو نہیں کرسکتا ہے,لیکن کچھ بچاؤ کر سکتا ہے,پس اس کا بھی لحاظ کریں۔کچھ گھریلو نسخے بھی ڈاکٹروں کی طرف سے بتائے جاتے ہیں,ان پر عمل کریں,تاکہ محفوظ رہیں۔

ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ جس کی رپورٹ پازیٹو ہو,وہ ایک دن زیتون کا تیل دو دو قطرہ ناک میں چار مرتبہ ڈالیں۔صبح,دوپہر,شام اور رات کو۔ان شاء اللہ تعالی چوبیس گھنٹہ بعد رپورٹ نگیٹو آئے گی۔یہ ایک دن کا نسخہ ہے۔

چوں کہ اس نسخہ کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں اور قرآن مجید واحادیث مقدسہ میں بھی زیتون کو برکت و شفا کا ذریعہ بتایا گیا ہے تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔آس پاس کے ڈاکٹروں سے بھی مشورہ کر لیں۔

گزشتہ سال حکومت ہند کی جانب سے بھی گھریلو نسخے بتائے گئے تھے۔وہ بھی کم خرچ اور گھروں میں موجود نسخے ہیں۔ان سے بھی فائدہ اٹھائیں۔

کورونا وائرس سے حفاظت اور بچاؤ کے لئے دن بھر میں دو تین بار اجوائن اور کلونجی کے چند دانے چبا کر کھا لیں۔کالی مرچ اور ادرک کی چائے پئیں۔پودینہ کی چٹنی استعمال کریں۔

حفاظتی تدابیر کے ساتھ اللہ تعالی کو یاد کریں۔وہی شفا عطا فرمانے والا ہے۔اللہ تعالی کے احکام کی نافرمانی نہ کریں۔

حضور اقدس سرور دوجہاں علیہ الصلوۃ والسلام پر درود وسلام کی کثرت کریں۔

ہر درد کی دوا ہے صل علی محمد

تعویذ ہر بلا ہے صل علی محمد

صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

اللہ ورسول(عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کو راضی کرنے کی ہر جائز تدبیر اپنائیں۔صدقات وخیرات کیا کریں۔گناہوں سے پرہیز کریں۔

یہ بھی خبر ملی تھی کہ بعض غیر مسلموں کی موت کرونا کے سبب ہوتی ہے تو اس کے اہل خانہ خوف کے سبب اس کے قریب بھی نہیں جاتے اور مسلم نوجوانان ان لوگوں کی آخری رسم ادا کرتے ہیں۔اس سے پرہیز لازم ہے۔ہاسپیٹل کے لوگ ایسے مردوں کو جس طرح دفن کرنا چاہیں,کرنے دیں۔آپ اپنی جانوں کی حفاظت کریں۔

اگر آپ لوگوں کو بھی خدا ناخواستہ کورونا ہو گیا تو ساری مسلم قوم کو بدنام کیا جائے گا کہ یہی لوگ ملک بھر میں کورونا پھیلا رہے ہیں۔

پچھلے سال تبلیغی جماعت کو خوب بدنام کیا گیا اور تبلیغی جماعت کے نام پر سارے مسلمانوں پر آفت آئی۔کورونا جہاد کی اصطلاح مشہور کی گئی۔ایک اصطلاح لو جہاد کی بنائی گئی ہے,حالاں کہ مذہب اسلام میں اس طرح کی کوئی چیز نہیں۔جہاد ایک دفاعی سسٹم کا نام ہے۔یہ اقدامی عمل نہیں۔

ابھی کنبھ کا میلہ جاری ہے۔نہ جانے کتنے پجاری کورونا کے شکار ہو چکے ہیں اور کتنے لوگ مر بھی گئے,لیکن میڈیا والے منہ میں لگام ڈالے ہوئے ہیں۔اگر قوم مسلم اس طرح کی حرکت کرے تو سر پر آسمان اٹھا لیا جائے اور ملک بھر میں نفرت کا ماحول پیدا کیا جائے۔انصاف وسچائی کا نام ونشان میڈیا سے غائب ہو چکا ہے۔

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:29:اپریل 2021