محمد بن منکدر سے منسوب قبر رسولﷺ کے وسیلے کے اثر پر پیج بنام اصلاح میڈیا اور ہندی سنابلی یزید کے اعتراض کا جواب

ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

مجہول لکھتا ہے :؂

 

محمد بن منکدر تابعی اور قبر نبی سے وسیلہ

“محمد بن منکدر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھتے تو ان کو بہرے پن کا مرض لاحق ہو جاتا۔وہ وہاں سے اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر اپنے رخسار رکھتے ، پھر واپس پلٹ آتے۔ اس فعل پر ملامت کی گئی ، تو انہوں نے کہا: جب مجھے مرض کا خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر جا کر فریاد کرتا ہوں۔ (تو مجھے شفاء ملتی ہے )

التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ:258/2-259،ت؛2778، تاریخ دمشق لابن عساکر:50/56،

سیر اعلام النبلاء للذھبی358/5-359

یہ اثر ضعیف اور منکر ہے، کیونکہ اس کا راوی اسماعیل بن یعقوب تیمی مجروح راوی ہے۔

امام ابو حاتم رازیرحمہ اللہ اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ ضعیف الحدیث راوی ہے۔

الجرح و التعدیل لا بن ابی حاتم: 204/2

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پہلی بات یہ ہے کہ مجہول نے اپنی طرف سے اس اثر پر منکر کا اطلاق کیا ہے جو کہ اسکی جہالت اور بد دیانتی ہے اور جس راوی پر اعتراض کیا ہے اس میں بھی بد دیانتی کی ہے

 

جہاں تک ہمارا خیال ہے اس پیج کے ایڈمن نے یہ کاپی پیسٹ محدث فورم سے ماری ہے تو محدث فورم پر اس اثر پر جو اعتراض ہے ہم اسکا بھی مکمل رد پیش کر دیتے ہیں

 

محدث فورم پر سنابلی یزیدی ھندی نے اس روایت پر فضول اعتراض کیا ہے جو کہ درج ذیل ہے :

 

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:

وقال مصعب بن عبد الله: حدثنا إسماعيل بن يعقوب التيمي، قال: كان محمد بن المنكدر يجلس مع أصحابه، وكان يصيبه صمات فكان يقوم كما هو حتى يضع خده على قبر النبي – صلى الله عليه وسلم -، ثم يرجع، فعوتب في ذلك فقال: إنه تصيبني خطرة فإذا وجدت ذلك استغثت بقبر النبي – صلى الله عليه وسلم -. وكان يأتي موضعا من المسجد يتمرغ فيه ويضطجع، فقيل له في ذلك، فقال: إني رأيت النبي – صلى الله عليه وسلم – في هذا الموضع.

إسماعيل: فيه لين. [تاريخ الإسلام ت بشار 3/ 524]

 

امام ذہبی رحمہ اللہ اس روایت ذکر کرنے کے بعد خود ہی اسماعیل کو لین کہا ہے۔اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔

 

یہ روایت ضعیف ہے جیساکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اشارہ کیا کیونکہ اس کی سند میں موجود اسماعیل بن یعقوب یہ ضعیف ہے۔

 

امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:

ضعيف الحديث [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 2/ 204]

 

ابن حبان کے علاوہ کسی نے بھی اس کی توثیق نہیں کی ہے۔ لہذا یہ راوی ضعیف ہی ہے ۔ اور اس کے سبب یہ روایت ضعیف ہے۔

 

یادرہے کہ یہ کوئی مرفوع حدیث یا صحابی کا اثر نہیں ہے بلکہ محمدبن المنکدر تابعی کی طرف یہ بات منسوب ہے اگر یہ ثابت بھی ہوجائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

****************

الجواب : اب ہم اسکا تحقیقی جائزہ پیش کرتے ہیں :

 

جیسا کہ اسکو امام خیثمہ نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے درج ذیل سند کے ساتھ :

 

حَدَّثَنا مُصْعَب، قَالَ: حدثني إسماعيل بن يعقوب التَّيْمِيّ، قَالَ: كان مُحَمَّد بن الْمُنْكَدِر يجلس مع أصحابه فكان يصيبه الصمات فكان يقوم كما هو يضع خده على قبر النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثم يرجع فعوتب في ذلك فقال: إنه تصيبني خطره فإذ وجدتُ ذلك استغثت بقبر النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وكان يأتي موضعا في المسجد في الصحن فيتمرَّغ ويضطجع فقيل له في ذلك فقال: إني رأيت النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الموضع؛ قَالَ: أراه في النوم.

 

اور اس مذکورہ اثر میں جو اعتراض جڑا گیا ہے کہ اسمائیل بن یعقوب التمیمی ضعیف ہے

 

تو عرض ہے سنابلی یزیدی ھندی نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس پر ابو حاتم کی جرح ضعیف الحدیث کے علاوہ

امام ابن حبان نے اسکو ثقات میں درج کرتے ہوئے ثقہ قرار دیا ہے

 

جیسا کہ ابن حبان الثقات میں اسکے بارے لکھتے ہیں :

 

إِسْمَاعِيل بن يَعْقُوب التَّيْمِيّ يرْوى عَن بن أبي الزِّنَاد روى عَنهُ يَعْقُوب بن مُحَمَّد الزُّهْرِي

(الثقات برقم : ۱۲۳۹۵)

 

اب امام ابو حاتم بھی متشد د ہیں اور امام ابن حبان بھی تو جب تو متشدد ناقدین میں سے ایک امام توثیق کر رہا ہے تو اسکے مقابل ابو حاتم کا ضعیف الحدیث کی جرح کرنا مبھم ہے تو راوی ضعیف کیسے بن جائے گا ؟

 

اور ابن حبان پر یہاں یہ اعتراض بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ متساہل ہیں کیونکہ انکا تساہل مجہولین میں ہے نہ کہ معروف راویان میں بلکہ معروف راویان پر انکا فیصلہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ وہ معروف راویان پر تشدید سے کام لیتے تھے

 

تو یہاں سنابلی نے چکر بازی کرتے ہوئے امام ابن حبان کی طرف سے توثیق کو گو ل کر لیا ۔۔۔۔

 

اسکے بعد سنابلی نے امام ذھبی کے حوالے سے یہ پیش کیا کہ امام ذھبی نے اس اثر کو بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اسماعیل لین یعنی کمزور ہے

 

اسکو نقل کرنے کے بعد ایک پھکی تیار کرتے ہوئے لکھتا ہے :

” امام ذہبی رحمہ اللہ اس روایت ذکر کرنے کے بعد خود ہی اسماعیل کو لین کہا ہے۔اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔”

 

عرض ہے کہ یا تو سنابلی یزیدی ھندی اصول جرح و تعدیل سے جاہل ہے یا اس روایت کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے امام ذھبی پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے

 

جبکہ امام ذھبی نے اس روایت کی تضعیف کا فیصلہ بالکل نہیں دیا بلکہ انہوں نے اسماعیل کو فقط لین قرار دیا ہے اور لین کا اطلاق امام ذھبی صدوق درجے کے راوی پر کرتے ہیں

کیونکہ صدوق راوی بھی تو حفظ کے اعتبار سے لین ہوتا ہے تبھی تو ثقہ درجے کا نہیں ہوتا ہے

 

امام ذھبی سے مثال دیکر یہ بات ثابت کرتے ہیں :

 

ایک راوی : حجاج بن أرطاة

انکا ذکر میزان الاعتدال میں کرتے ہوئے امام ذھبی فرماتے ہیں :

 

حجاج بن أرطاة الفقيه، أبو أرطاة النخعي، أحد الأعلام على لين في حديثه.

حجاج بن ارطاء جو کہ فقیہ ہیں اعلام میں سے ایک ہیں لیکن حدیث میں لین (کمزور ) ہیں

 

پھر ان پر جرح اور توثیق نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

 

وهو صدوق يدلس.

کہ یہ صدوق ہے اور مدلس ہے

(میزان الاعتدال برقم : ۱۷۲۶)

 

اسی طرح امام ذھبی سیر اعلام میں اس راوی کے بارے کہتے ہیں :

وَكَانَ جَائِزَ الحَدِيْثِ، إِلاَّ أَنَّهُ صَاحِبُ إِرسَالٍ

کہ یہ جائز الحدیث ہے سوائے یہ کہ یہ ارسال کرتے تھے

 

وَكَانَ مِنْ بُحُوْرِ العِلْمِ، تُكُلِّمَ فِيْهِ لِبَأْوٍ فِيْهِ، وَلِتَدْلِيسِه، وَلِنَقصٍ قَلِيْلٍ فِي حِفْظِه، وَلَمْ يُتْرَكْ.

یہ علم کا سمندر تھے ان پر کلام کیا گیا ہے تدلیس کے سبب اور انکے حافظہ میں بہت کم نقص تھا لیکن (احتجاج میں ) ترک کرنے کے لائق نہیں

 

(سیر اعلام النبلاء برقم : ۲۷)

 

تو معلوم ہوا مام ذھبی کے نزدیک اسماعیل لین تو ہے لیکن ضعیف اور لائق ترک نہیں بلکہ اس سے احتجاج کیا جائے گا اور ہ صدوق راوی ہے

 

یہی وجہ ہے کہ امام ذھبی نے اس واقعہ کو بغیر نکیر کے سیر اعلام میں درج کیا ہے جیسا کہ سیر اعلام میں اسکو نقل کرتے ہیں :

قال مصعب بن عبد الله: حدثني إسماعيل بن يعقوب التيمي، قال:

كان ابن المنكدر يجلس مع أصحابه، فكان يصيبه صمات، فكان يقوم كما هو حتى يضع خده على قبر النبي -صلى الله عليه وسلم- ثم يرجع.

فعوتب في ذلك، فقال: إنه يصيبني خطر، فإذا وجدت ذلك، استعنت بقبر النبي -صلى الله عليه وسلم-

(سیر اعلام النبلاء برقم : ۱۶۳)

 

اور حاشیہ میں علامہ شعیب نے اس قصہ کو ضعیف ابو حاتم کی جرح سے قرار دیا ہے جبکہ انہوں نے بھی ابن حبان سے توثیق کا ذکر نہیں کیا ہو سکتا ہے علامہ شعیب کے علم میں ابن حبان کی توثیق نہ ہو ورنہ وہ امام ابن حبان سے توثیق کو نظر انداز نہ کرتے جیسا کہ

 

انکا خود کا موقف امام ابن حبان کے بارے درج ذیل ہے جو انہوں نےصحیح ابن حبان کے مقدمہ میں درج کیا ہے

 

وقد اشار الائمة الی تشدده و نعنته فی الجرح

 

کہ ائمہ نے (ابن حبان ) کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ جرح کرنے مین متشدد و متعنت تھے

(الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان ، ص ۴)

 

تو انکے منہج پر بھی اسماعیل صدوق راوی ثابت ہوتا ہے

 

یہی وجہ ہے کہ سنابلی ہندی کو معلوم تھا کہ اس اثر کی سند میں کوئی ایسا ضعف نہیں جیسا کہ اس روایت کا مطلق رد کیا جا سکے تو آخر میں یہ لکھتا ہے :

 

”رہے کہ یہ کوئی مرفوع حدیث یا صحابی کا اثر نہیں ہے بلکہ محمدبن المنکدر تابعی کی طرف یہ بات منسوب ہے اگر یہ ثابت بھی ہوجائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے”

 

میسنی بلی بن کر وابی لوگوں کا آخری حربہ یہی ہوتا ہے کہ جسی مجتہد ، امام ، تابعی کے درجے کے بندے سے بھی ایسا عمل مل جائے جو وابیوں کے نزدیک شرک ہو تو کہتے ہیں چونکہ صحیح حدیث نہیں یا اثر صحابی نہیں (بقول انکے ) تو اسکی کوئی حیثیت نہین

 

جب ایک مسلے کے رد میں حدیث یا اثر صحابی نہیں تو ایک تابعی کا عمل آگیا تو وہ عمل بدعت ، یا شرک کیسے ہو گیا پھر ؟ پھر اپنے آپ کو سلفی کہلوانے کی بجائے کلفی کہلوایا کریں یہی وابی رفع الیدین ثابت کرنے کے لیے تابعین کو دکھا دکھا کر ایک ٹانگ پر ناچتے ہین

 

جب کسی تابعی سے ایسا عمل ثابت ہو جائے جو انکے نزدیک گمراہی اور بدعت ہے تو کپڑے جھاڑ دیتے ہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں یہ یہود کے پکے چیلے ہیں

 

خیر یہ اثر ثابت ہے اور اسکی سند حسن ہے

 

تحقیق : دعا گو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی