{جھوٹ ، غیبت ، کے مسائل }

کن صورتوں میں جھوٹ بول سکتے ہیں }

مسئلہ : تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی اُس میں گناہ نہیں ایک جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مقابل کو دھوکا دینا جائز ہے ۔ اِسی طرح جب ظالم ظلم کرنا چاہتا ہو اس کے ظلم سے بچنے کے لئے بھی جائز ہے دوسری صورت یہ ہے کہ دومسلمانوں میں اختلاف ہے اوریہ ان دونوں میں صلح کرانا چاہتا ہے مثلاً ایک کے سامنے یہ کہہ دے کہ وہ تمہیں اچھا جانتا ہے تمہاری تعریف کرتاتھا یااس نے تمہیں سلام کہلا بھیجا ہے اوردوسرے کے پاس بھی اس قسم کی باتیں کرے تاکہ دونوں میں عداوت کم ہوجائے اورصلح ہوجائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ بیوی کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات خلافِ واقع کہہ دے ۔ (مثلاً وہ حسین نہ ہو اورکہہ دے کہ تم تو بہت حسین ہو)۔(عالمگیری)

مسئلہ : توریہ کی مثال یہ ہے کہ تم نے کسی کوکھانے کے لئے بُلایا وہ کہتا ہے میں نے کھانا کھالیا اس کے ظاہر معنیٰ یہ ہیں کہ اس وقت کاکھانا کھالیا ہے مگر وہ یہ مُراد لیتاہے کہ کل کھایا ہے یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ : جس قسم کے مبالغہ کا عادتاً رواج ہے لوگ اسے مبالغہ ہی پر محمول کرتے ہیں اس کے حقیقی معنیٰ مُراد نہیںلیتے وہ جھوٹ میں داخل نہیں مثلاً یہ کہا کہ میں تمہارے پاس ہزار مرتبہ آیا یا ہزار مرتبہ میں نے تم سے یہ کہا یہاں ہزار کا عدد مُراد نہیں بلکہ کئی مرتبہ آنا اورکہنا مُراد ہے یہ لفظ ایسے موقع پر نہیں بولا جائے گا کہ ایک ہی مرتبہ آیا ہو یاایک ہی مرتبہ کہا ہو اوراگر ایک مرتبہ آیا اوریہ کہہ دیا کہ ہزار مرتبہ آیا تو جھوٹ ہوگا۔(ردالمختار)

{ہوا کو گالی مت دو}

مسئلہ : سرکارِ اعظم ﷺنے فرمایا کہ ہوا کو گالی مت دو۔(ترمذی)

{اپنی اولاد واموال کو بَددُعا مت دو}

مسئلہ : اپنے مال اوراپنی اولاد کو بَد دُعا مت دو کہ کیا معلوم کہ وہ گھڑی قبولیت کی ہو۔

{زمانے کو بُرا مت کہو}

مسئلہ : سرکارِ اعظم ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے کہ ابنِ آدم مجھے ایذا دیتاہے کہ اندھیرے کوبُرا کہتاہے اندھیرا تومیں ہوں میرے ہاتھ میں سب کام ہیں رات اور دن کو میںبدلتا ہوں یعنی زمانہ کو بُرا کہنا اللہ تعالیٰ کو بُرا کہنا ہے کہ زمانے میںجو کچھ ہوتاہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتاہے ۔(بخاری ومُسلم)

{غیبت کیا ہے }

مسئلہ : غیبت کے یہ معنیٰ ہیں کہ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو (جس کو وہ دوسروں کے سامنے ظاہر ہونا پسند نہ کرتاہو) اس کی بُرائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا اوراگر اس میں وہ بات ہی نہ ہوتویہ غیبت نہیں بلکہ بہتان ہے ۔کسی مسلمان کی غیبت کرنا مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے ۔

{کن صورتوں میں بُرائی غیبت نہیں}

مسئلہ : جو شخص اعلانیہ بُرا کام کرتاہے اوراس کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ لوگ اِسے کیا کہیں گے اس کی بُری حرکت کابیان کرنا غیبت نہیں مگر اس کی دوسری باتیں جو ظاہر نہیں ہیں ان کو ذکر کرنا غیبت میں داخل ہے حدیث میں ہے کہ جس نے حیا کاحجاب اپنے چہرے سے ہٹادیا اس کی غیبت نہیں ۔(ردالمختار)

مسئلہ : جس طرح زندہ آدمی کی غیبت ہوسکتی ہے مرے ہوئے مسلمان کوبُرائی کے ساتھ یاد کرنا غیبت ہے جب کہ وہ صورتیں نہ ہوں جن کابیان کرنا غیبت میں داخل نہیںمسلمان کی غیبت جس طرح حرام ہے کافرذمی کی بھی ناجائز ہے کہ ان کے حقوق بھی مسلمان کی طرح ہیں کافر حربی کی بُرائی کرنا غیبت نہیں ہے ۔(ردالمختار)

{کسی کی تعریف کرنے کی صورتیں}

مسئلہ : کسی کے منہ پر اس کی تعریف کرنا منع ہے اورپیٹھ پیچھے تعریف کی اگر یہ جانتا ہے کہ میرے اس تعریف کرنے کی خبر اس کو پہنچ جائیگی یہ بھی منع ہے تیسری صورت یہ کہ پسِ پُشت تعریف کرتاہے اس کا خیال بھی نہیں کرتا کہ اسے خبر پہنچ جائیگی یانہ پہنچے گی یہ جائز ہے مگر یہ ضرور ہے کہ تعریف میں جو خوبیاں بیان کرے وہ اس میںہوں شُعراء کی طرح اَنہونی باتوں سے تعریف نہ کرے کہ یہ نہایت درجہ قبیح ہے ۔(عالمگیری)