زیر نظر تصویر سویڈش شہر سٹاک ہوم کے ایک چھوٹے ہسپتال کی لیباریٹری میں موجود انتظار گاہ کی ہے جہاں ہینڈ سینی ٹائزر کی بوتل کو ایک سٹینڈ پر تالا لگایا گیا ہے تاکہ کوئی اسے چرا نہ سکے۔ سویڈن یورپ کے امیر ممالک میں گنا جاتا ہے جس میں شہریوں کی ایورج اِنکم اور خریداری کی قوت کافی زیادہ ہے، سوشل پالیسیز ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں ایک بھی شہری غریب نہیں ہے اسکے باوجود پچاس ساٹھ کرونے کی بوتل کو تالا لگایا گیا ہے تو پاکستان جہاں ملکی آبادی کا چوتھا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے وہاں پانی کے گلاس یا ٹوائلٹ کے لوٹے کیساتھ زنجیر لگانا حق بجانب ہے، چور دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے، امیر ممالک میں کچھ لوگ عادتاً چوری کرلیتے ہیں تو غریب ممالک میں لوگ مجبوری کے عالم میں چور بن جاتے ہیں😢۔

طارق محمود