اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۶۲)

ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہوئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں (ف۱۵۱) تو نہ جائیں جب تک اُن سے اجازت نہ لے لیں وہ جو تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۵۲) پھر جب وہ تم سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لیے تو ان میں جسے تم چاہو اجازت دے دو اور اُن کے لیے اللہ سے معافی مانگو (ف۱۵۳) بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف151)

جیسے کہ جہاد اور تدبیرِ جنگ اور جمعہ و عیدین اور مشورہ اور ہر اجتماع جو اللہ کے لئے ہو ۔

(ف152)

ان کا اجازت چاہنا نشانِ فرمانبرداری اور دلیلِ صحتِ ایمان ہے ۔

(ف153)

اس سے معلوم ہوا کہ افضل یہی ہے کہ حاضر رہیں اور اجازت طلب نہ کریں ۔

مسئلہ : اماموں اور دینی پیشواؤں کی مجلس سے بھی بے اجازت نہ جانا چاہیئے ۔ (مدارک)

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ-قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًاۚ-فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳)

رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے (ف۱۵۴) بےشک اللہ جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی چیز کی آڑ لے کر (ف۱۵۵) تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے (ف۱۵۶) یا اُن پر دردناک عذاب پڑے(ف۱۵۷)

(ف154)

کیونکہ جس کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پکاریں اس پر اجابت و تعمیل واجب ہو جاتی ہے اور ادب سے حاضر ہونا لازم ہوتا ہے اور قریب حاضر ہونے کے لئے اجازت طلب کر ے اور اجازت سے ہی واپس ہو اور ایک معنٰی مفسِّرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ندا کرے تو ادب و تکریم اور توقیر و تعظیم کے ساتھ آپ کے معظّم القاب سے نرم آواز کے ساتھ متواضعانہ و منکسرانہ لہجہ میں ” یَانَبِیَّ اﷲِ یَارَسُوْلَ اﷲِ یَاحَبِیْبَ اﷲِ ” کہہ کر ۔

(ف155)

شانِ نُزول : منافقین پر روزِ جمعہ مسجد میں ٹھہر کر نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبے کا سننا گراں ہوتا تھا تو وہ چپکے چپکے آہستہ آہستہ صحابہ کی آڑ لے کر سرکتے سرکتے مسجد سے نکل جاتے تھے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔

(ف156)

دنیا میں تکلیف یا قتل یا زلزلے یا اور ہولناک حوادث یا ظالم بادشاہ کا مسلّط ہونا یا دل کا سخت ہو کر معرفتِ الٰہی سے محروم رہنا ۔

(ف157)

آخرت میں ۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِؕ-وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْاؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠(۶۴)

سن لو بےشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بےشک وہ جانتا ہے جس حال پر تم ہو (ف۱۵۸) اور اس دن کو جس میں اس کی طرف پھیرے جائیں گے (ف۱۵۹) تو وہ اُنہیں بتادے گا جو کچھ اُنہوں نے کیا اور اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۱۶۰)

(ف158)

ایمان پر یا نفاق پر ۔

(ف159)

جزا کے لئے اور وہ دن روزِ قیامت ہے ۔

(ف160)

اس سے کچھ چھپا نہیں ۔