ابو نعیم صوفی کی طرف سے حلیہ الاولیاء میں امام ابو حنیفہ پر لکھے گئے طعن کی حقیقت

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی

ابو نعیم صوفی نے اپنے جس دور میں کتاب الضعفاء لکھ کر امام ابو حنیفہ کو مرجئ اور کثیر الخطاء کہہ کر جرح کی تھی

اسی ہی دور میں اس صوفی نے حلیہ الاولیاء بھی لکھی تھی

اس میں ائمہ دین کے ساتھ بہت سے ایرے غیرے نتھو خیرے کو بھی شامل کیا لیکن

اس کتاب میں خاص احتمام کیا کہ کسی بھی حنفی امام کو اس کتاب میں بطور اولیاء اللہ کے شامل نہ کیا

یہاں تک تو بات سمجھ آتی تھی

لیکن تعصب اور حسد کی آگ میں اتنا جلے کہ اس کتاب میں جتنا ہو سکا امام ابو حنیفہ پر طعن و تشنیع ہو سکے وہ چن چن کر جمع کی ہیں

لیکن چونکہ ابو نعیم صوفی تھا تو صوفی متساہل اور رجال میں حاطب اللیل نہ ہو تو وہ کیسا صوفی ؟

امام حماد بن زید کے ترجمہ میں ایک روایت لاتا ہے :

حدثنا سليمان بن أحمد، ثنا طالب بن مسرة الأدنى، ثنا محمد بن عيسى بن الطباع، حدثني أخي إسحاق بن عيسى قال: كنا عند حماد بن زيد ومعنا وهب بن جرير فذكرنا شيئا من قول أبي حنيفة قال حماد بن زيد: اسكت ولا يزال الرجل منكم داحضا في بوله يذكر أهل البدع في مجلس عشيرته حتى يسقط من أعينهم، ثم أقبل علينا حماد فقال: أتدرون ما كان أبو حنيفة، إنما كان يخاصم في الإرجاء فلما تخوف على مهجته تكلم في الرأي فقاس سنن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعضها ببعض ليبطلها وسنن رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقاس

اسحاق بن عیسیٰ کہا ہے ہم امام حماد بن زید کے پاس تھے ۔ اور ہمارے ساتھ امام وہب بن جریر بھی تھے ہم نے ابو حنیفہ کا کوئی قول ذکر کیا تو حماد بن یزد نے کہا :

خاموش ہو جاو! تم میں سے کسی شخص کا اپنی ہی غلاظت میں پیر پھسلتا ہے تو وہ اپنے ہم نشینوں سے بدعتیوں( ابو حنیفہ ) کی باتیں کرتا ہے یہاں تک کہ ان کی نظروں میں گرجاتا ہے پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا :

تم نہیں جانتے ابو حنیفہ کیا کرتا ہے ؟ وہ ارجاء کی تعریف مٰیں لگا رہا جب دل اس سے مطمئن نہ ہوا تو رائے کی تعریف کرنے لگے اور احادیث کو ایک دوسرے پر قیاس کرنا شروع کر دیا تاکہ انہیں باطل کر دیں حالانکہ رسولﷺ کی احادیث پر قیاس نہیں کیا جاتا ۔

[حلية الأولياء وطبقات الأصفياء جلد ،۶ ص ۲۵۸]

اسکی سند کا حال دیکھا جا ئے تو طالب بن مسرہ الادنی ایک مجہول العین راوی ہے جسکا کتب رجال میں کوئی اتا پتہ نہیں ہے

لیکن ابو نعیم صوفی کی پیٹ میں معلوم نہیں کیا ایسا مروڑ تھا کہ صوفیاء کے باب میں لکھی گئی کتاب میں ابو حنیفہ پر طعن جمع کرنے بیٹھ گیا

تو یہ روایت سند کے اعتبار سے بھی غیر ثابت ہے اور اسکا متن دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسکا متن بالکل گھڑا گیا ہے اور اسکا ذمہ طالب بن مسرہ پر جاتا ہے

جیسا کہ متن میں موجود ہے کہ امام حمادبن زید جو کہ امام ابو حنیفہ کے محب تھے جسکی تفصیل آگے آئے گی لیکن

انکی طرف کذاب راوی نے یہ فضول بات منسوب کی کہ امام ابو حنیفہ ارجاء کی دعوت دیتے تھے

اور وہ حدیث پر اس وجہ سے قیاس کرنا شروع کیا کہ تاکہ حدیث رسولﷺ کو باطل قرار دیا جا سکے ۔۔۔

اور پھر امام حماد بن زید کی طرف یہ بات بھی تھوپ دی گئی کہ احادیث پر قیاس نہیں کیا جاتا یعنی اجتیہاد کر کے احادیث میں کسی کو کسی پر راجح نہیں کیا جا سکتا نہ ہی کسی روایت کو شاز قرار دیا جا سکتا ہے

جبکہ یہ بات عیاں ہے کہ یہ بات تو متفقہ علیہ ہے کہ اجتیہاد میں راجح و مرجوع اور ناسخ و منسوخ تو ہوتا ہی ہے

البتہ اصحاب الحدیث کے نمونووں کی ایک جماعت تھی جو اس اجتیہاد کی منکر تھی جنکے نزید یہ فقہی اصطلاحات حدیث کے انکار کے مترادف تھا

اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کو گھڑنے والا راوی طالب بن مسرہ اصحاب الحدیث کے کرندوں میں سے ایک تھا جس نے اپنی طرف سے کہانی گھڑ کے امام حماد بن زید کی طرف منسوب کر دی

اسی طرح ایک اگلی روایت بھی ابو نعیم صوفی نقل کرتا ہے :

حدثنا سليمان بن أحمد، ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني منصور بن أبي مزاحم، قال: سمعت أبا علي العذري، يقول لحماد بن زيد: مات أبو حنيفة. قال: الحمد لله الذي كنس بطن الأرض به

ابو علی عزری کہتا ہے کہ حماد بن زید کو کسی نے ابو حںیفہ کے انتقال کی خبر دی تو انہوں نے کہا تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے زمین کے پیٹ کو اس (ابو حنیفہ) کی پناہ گاہ بنا دیا

[ایضا]

اسی سند کا بنیادی راوی ابو علی عزری مجہول العین ہے

نیز اسکا سماع کا بھی کوئی اتا پتہ نہیں حماد بن زید سے کیونکہ اس نے یقول کے مجہول صیغہ سے یہ روایت بیان کی ہے اور اس تک یہ روایت کیسے پہنچی وہ بھی معلوم نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام حماد بن زید کاامام ابو حنیفہ کے بارے موقف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام ایوب سختیانی کی امام اعظم سے محبت و احترام کا ثبوت !

امام ابن عبدالبر و امام صیمری و خطیب بغدادی اور امام ابن ابی العوام اپنی اپنی اسناد سے روایت بیان کرتےہیں

أَيُّوب السختيانى

نَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ شُجَاعٍ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ نَا عازم قَالَ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ أَرَدْتُ الْحَجَّ فَأَتَيْتُ أَيُّوبَ أُوَدِّعُهُ فَقَالَ بَلَغَنِي أَنَّ فَقِيه أهل الْكُوفَة أَبَا حنيفَة يريدالحج فَإِذَا لَقِيتَهُ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلامَ

[الانتقاء ابن عبدالبر]

أخبرنَا عبد الله بن مُحَمَّد الْحلْوانِي قَالَ ثَنَا القَاضِي أَبُو بكر مكرم بن أَحْمد قَالَ ثَنَا عبد الْوَهَّاب بن مُحَمَّد قَالَ حَدثنِي مُحَمَّد بن سَعْدَان قَالَ سَمِعت أَبَا سُلَيْمَان الْجوزجَاني قَالَ سَمِعت حَمَّاد بن زيد قَالَ أردْت الْحَج فَأتيت أَيُّوب أودعهُ فَقَالَ بَلغنِي ان الرجل الصَّالح فَقِيه أهل الْكُوفَة أَبُو حنيفَة يحجّ فَإِن لَقيته فأقرئه مني السَّلَام

[اخبار ابی حنیفہ للصیمری]

أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ السمناني، أخبرنا سليمان بن الحسين بن علي البخاريّ الزّاهد، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْر أَحْمَد بْن سَعْدِ بْن نصر، حدّثنا علي ابن موسى القمي، حَدَّثَنِي مُحَمَّد بن سعدان قال: سمعت أبا سليمان الجوزجاني يقول: سمعت حماد بن زيد يقول: أردت الحج، فأتيت أيوب أودعه، فقال: بلغني أن الرجل الصالح فقيه أهل الكوفة- يعني أبا حنيفة- يحج العام، فإذا لقيته فأقرئه مني السلام

[تاریخ بغداد]

: حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني محمد بن سعدان قال: سمعت أبا سليمان الجوزجاني يقول: سمعت حماد بن زيد يقول: أردت الحج فأتيت أيوب السختياني أودعه فقال لي: بلغني أن فقيه الكوفة يريد الحج -يعني أبا حنيفة- فإن لقيته فاقرئه مني السلام.

امام حماد بن زید فرماتے ہیں:

کہ میں نے حج پر جانے کا ارادہ کیا میں امام ایوب سختیانی کے پاس آیا تاکہ ان سے الوداعی ملاقات کروں تو انہوں نے مجھے فرمایا:؎

مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ اہل کوفہ کے فقیہ (مجتہد) امام ابو حنیفہ بھی حج پر جانے والے ہیں جب تمہاری ان سے ملاقات ہو تو انہیں میری طرف سے سلام کہہ دینا

[فضائل أبي حنيفة وأخباره ومناقبه، ابن ابی العوام]

امام ابن عوام کی سند کی تحقیق:

پہلے راوی

امام ابو بشر الدولابی ہیں جو ثقہ ہیں

(تاریخ ابن خلقان و تذکرہ الحفاظ الذھبی)

دوسرے راوی:

محمد بن سعدان

محمد بن سعدان، أبو عبد الله النحوي المقرئ الضرير

امام خطیب نے انکی توثیق کی ہے وکان ثقہ

[تاریخ بغداد برقم : 877]

تیسرے راوی

امام ابو سلیمان الجوزجانی الحنفی

یہ امام ابی یوسف و محمد بن حسن کے شاگرد تھے

اور ابی حاتم ، و بشر بن موسی کے شیخ تھے

  • الجوزجاني موسى بن سليمان الحنفي

    امام ذھبی فرماتے ہیں : وكان صدوقا، محبوبا إلى أهل الحديث.

    [سیر اعلام النبلاء ،42]

چوتھے راوی امام حماد بن زید متقن امام فی حدیث ہیں


امام حماد بن زید کا امام ابو حنیفہ سے محبت کرنا

اسی طرح امام حماد بن زید بیان کرتے ہیں :

حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ

قَالَ وَنا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ الأَسْيُوطِيُّ قَالَ نَا أَبُو بِشْرٍ الدُّولابِيُّ قَالَ نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدَانَ قَالَ نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ أَبَا حَنِيفَةَ لِحُبِّهِ لأَيُّوبَ وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَحَادِيثَ كَثِيرَةً

امام حماد بن زید فرماتے ہیں :

میں امام ابو حنیفہ سے اس لیے محبت کرتا ہوں کیونکہ وہ امام ایوب سختیانی سے محبت کرتے ہیں

امام ابن عبدالبر کہتے ہیں :

کہ امام حما بن زید امام ابی حنیفہ سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتے تھے

[الانتقاء، ابن عبدالبر ]

نوٹ: ( یہ ان غالیوں کے کے لیے پھکی ہے جو کہتے ہیں کہ ابی حنیفہ کو 13 احادیث یاد تھیں یہاں تو فقط امام حماد بن زید کی ابی حنیفہ سے کثیر روایات ہیں تو ابی حنیفہ کے مقدم و اصحاب کی ابی حںیفہ سے روایات کتنی ہونگی)

سند کے رجال کی تحقیق:

پہلا راوی: الحسن بن الخضر الأسيوطي

امام ذھبی تاریخ الاسلام میں فرماتے ہیں کہ یہ محدث اور صاحب الحدیث ہیں

[الحسن بن الخضر بن عبد الله الأسيوطي. [المتوفى: 361 هـ]

حدث عن: أبي عبد الرحمن النسائي، وأبي يعقوب المنجنيقي، وجماعة. وكان صاحب حديث.

وعنه: محمد بن الفضل بن نظيف، ويحيى بن علي ابن الطحان، وأبو القاسم بن بشران، وغيرهم.

حسن بن خصر یہ امام نسائی سے روایت کرتےہیں اور ابی یعقوب سے یہ صاحب حدیث تھے

اور ان سے ابو القاسم بن بشران وغیرہم روایت کرتے ہیں

[تاریخ الاسلام الذھبی]

نیز یہ امام دارقطنی کے بھی شیخ تھے اور امام دارقطنی نے ان سے کثیر روایات اپنی سنن اور دیگر کتب میں نقل کی ہیں اور انکی ضمنی توثیق بھی کر رکھی ہے

  • حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ , ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ , ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ , يَقُولُ: «اقْرَءُوا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ»

    . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيح

    [السنن الدارقطنی،1232 ]

اور امام ابن عبدالواحد المقدسی نے بھی اپنی کتاب المختارہ میں انکی روایات کی تخریج کی ہے

روایت نمبر

[الأحاديث المختارة أو المستخرج من الأحاديث المختارة، امام المقدسی 2093 ، 1757]

تو یہ راوی بھی ثقہ ہے

باقی اگلے راویان وہی ہیں جنکی تحقیق اوپر بیان کر دی گئی ہے

سوائے سلیمان بن حرب کے جو جید ثقہ امام ہیں

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہین :

سليمان بن حرب بن بجيل الواشحي

الإمام، الثقة، الحافظ، شيخ الإسلام، أبو أيوب الواشحي ، الأزدي، البصري، قاضي مكة.

[سیر اعلام النبلاء، برقم: ۸۱]

لیکن چونکہ ہم کو معلوم نہیں کہ ابو نعیم صوفی کے ساتھ ایسا کیا واقعہ پیش آیا کہ بعد میں یہ امام ابو حنیفہ کے فضائل اور مناقب کے قائل ہو گیا اور ابو حنیفہ کی مسند کو مرتب کیا

یہی تعصب وجہ تھی کہ جسکی وجہ سے اس نے اپنی حلیہ الاولیاء میں کسی بھی حنفی کو اولیاء اور صوفیاء میں شامل نہیں کیا

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی