*یورپی ممالک کا حکومت پاکستان سے تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا نیا مطالبہ*

یورپین ممالک میں صلیبی جنگی جنون میں مبتلا صحافی اور سیاست دان وقتا فوقتا توہین رسالت کا ارتکاب کر کے اپنی اندورنی غلاظت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔کچھ عرصہ سے *تحریک شماتت* (گستاخی و گالی کی تحریک) کی قیادت فرانس نے سنبھال لی ہے۔ 2019ء میں اس نے دو عدالتوں سے توہین رسالت کی سزا یافتہ مجرمہ کو رہا کرنے کا دباؤ ڈالا اور ہمارے حکمران طبقے نے اسے راضی رکھنے کے لئے رہا کر دیا۔ جس پر شاتمہ کو نہ صرف اپنے ملک کا راتوں رات ویزا جاری کیا بلکہ کئی اعزازات سے نوازا۔ العیاذ باللہ !
گذشتہ برس تمام حدود پھلانگتے ہوئے اس شماتتی مہم میں فرانسیسی صدر سرکاری طور پر شامل ہوگیا اور توہین آمیز خاکے سرکاری عمارتوں پر آویزاں کروائے۔ اس پر اہل اسلام کا غم و غصہ فطری امر تھا۔ اپنے جرم ضعیفی کی وجہ سے اہل اسلام نے اپنے حکمرانوں سے اس کے ساتھ حکومتی سطح پر بائیکاٹ کرنے اور ان کے نمائندے کو ملک بدر کرنے کا کمزور سا مطالبہ کیا۔ جس پر ہمارے حکمرانوں نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرنے اور پیغام اقبال :
*تیری خاک میں ہے اگر شرر تو خیالِ فقر و غنا نہ کر*
*کہ جہاں میں نانِ شعیر پر ہے مدارِ قوّتِ حیدری*
*نہ ستیزہ گاہِ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ فگن نئے*
*وہی فطرتِ اسَداللّہی، وہی مرحبی، وہی عنتری*
کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنے کے بجائے
فرانس کو بالخصوص اور یورپ کو بالعموم راضی رکھنے کے لئے سفیر نکالنے کا مطالبہ کرنے والے دس کلمہ گو افراد کو موت کی نیند سلادیا اور درجنوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
اور آخر کار جب بامر مجبوری معاملہ پارلیمنٹ میں پیش ہوا تو سابق حکمران جماعت *پیپلز پارٹی* نے یورپی آقاؤں کو خوش رکھنے کے لئے اپنے ممبران کو اجلاس میں شرکت سے ہی روک دیا، نون لیگ اور پی ٹی آئی ارکان نے اسلام پر دھواں دھار تقریریں تو کیں مگر کسی ایک نے بھی اصل مطالبہ: *” فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجا جائے”* پر ایک لفظ تک نہیں بولا۔
طرفہ تماشا یہ ہے کہ *ریاست مدینہ کے داعی* پہلے تو قرداد لانے کے وعدے سے ہی مکر گئے اور جب طوعاً و کرھاً معاملہ پارلیمنٹ میں پیش بھی ہوا تو سفیر کو نکالنے یا نہ نکالنے پر ووٹنگ ہی نہیں ہونے دی۔
مگر دوسری طرف دیکھیں تو یورپ اپنے مقاصد میں کتنا یکسو اور متحد ہے ؟ کہ پاکستان کے اندر بھی توہین رسالت کا لائسنس دلوانے کے لئے یورپین پارلیمنٹ نے 686 ووٹوں میں سے 678 ووٹوں کے ساتھ قراداد منظور کر لی ہے کہ: *”اگر پاکستان ناموس رسالت کے قانون کو ختم نہیں کرتا تو اس کا جی پی ایس پلس اسٹیٹس ختم کر دیا جائے”*۔
ہمارے حکمران طبقے کو نہ جانے کب یہ بات سمجھ آئے گئی کہ : *یہود و نصاری کی خوشنودی کے لئے جتنے چاہے جتن کر لیں وہ تمہارے ارتداد (کافر بننے) سے کم پر کبھی بھی راضی نہیں ہوں گے۔* لہذا اگر کچھ بھی غیرت و حمیت ھو تو ہمارے حکمرانوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئیے اور اُن کی کاسہ لیسی اور غلامی ترک کر دینی چاہیے !
اور یہ کسی عالم، مفتی، مجدد، مجتھد یا امام کی بات نہیں ہمارے خالق و مالک اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
*وَ لَنۡ تَرۡضٰی عَنۡکَ الۡیَہُوۡدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ الَّذِیۡ جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ* القرآن پ 1
اور ہرگز تم سے یہود اور نصاری ٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو تم فرما دو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے اور ( اے سننے والے کسے باشد ) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آ چکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہو گا اور نہ مددگار.
رب تعالی کی اس وارننگ کے باوجود بھی اُنہی کی رضا و خوشنودی میں لگے رہے تو انجام کار وہی ہوگا جو قادیان کے مرزے کا ہوا ہے۔ العیاذ باللہ تعالیٰ

ابو تراب حبیب الحق