🔥جـہـنـم بـھـرو آنـدولـن

مئی 02, 2021

جب سے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو ہلاک کیا,تب سے”جہنم بھرو آندولن”کا آغاز ہوا۔یہ آندولن انتہائی سازشی اسلوب میں آج تک جاری ہے۔

لوگ عورت پانے,دولت کمانے,حکومت بنانے,شان وشوکت جتانے اور کفر وضلالت پھیلانے کے لئے انسانی جانوں کو ہلاک کرتے رہے ہیں۔

اسلام نے صاف ستھرے لفظوں میں تعلیم دی ہے کہ مذہب کے لئے کسی پر جبر نہیں کیا جا سکتا:(لا اکراہ فی الدین)(سورہ بقرہ)

پھر بھی لوگ الزام عائد کرتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے۔اسلام ہرگز دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا۔اسلام تو امن وسلامتی کا درس دیتا ہے,لیکن حسد و عداوت کے سبب اسلام واہل اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے۔

حاسدین ومعاندین کو سمجھانا بیکار ہے,لیکن جو لوگ کسی کے بہکاوے میں آ کر غلط فہمی کے شکار ہو چکے ہیں,ان کی غلط فہمی دور کرنا لازم ہے۔

جب اسلام پر تنقید ہو گی تو اہل اسلام کو اس کا ڈیفنس کرنا ہو گا۔اگر آپ اپنے آپ میں مصروف رہے تو نفرت وعداوت کے طوفان میں آپ کو تباہی و بربادی کا سامنا کرنا ہو گا۔

دینی تعلیمات بھی پھیلائیں اور الزامات کا دندان شکن اور معقول جواب بھی دیں۔

محررین و مقررین اور خادمان دین کو ہر چہار جانب نظر رکھنی چاہئے۔لوگوں کی پسند و ناپسند سے بے نیاز ہو کر حالات حاضرہ کو مد نظر رکھیں اور پیش قدمی کریں۔کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں۔

بھارت کے مسلمان ہمیشہ یہاں کے ضرورت مند غیر مسلموں کی مالی و غیر مالی مدد کرتے رہے ہیں,ان سے اچھے تعلقات بنا کر رہتے ہیں,لیکن جب کبھی موقع ملتا ہے تو وہ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں,پھر جو تباہی آتی ہے,اس کا مشاہدہ ہزاروں بار ملک میں جا بجا ہو چکا ہے۔

مسلمانوں کو اسلام دھرم سے دور کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔ابھی آپ دیکھیں کہ کورونا کے سبب بعض غیرمسلموں کی موت ہوجاتی ہے تو اس کے گھر والے اس کے قریب بھی نہیں جاتے,اور مسلم نوجوانان اس کی آخری رسم انجام دیتے ہیں۔دوسری طرف یہی اسی قوم کے نوجوانان ہماری بہن بیٹیوں کو ورغلا کر ان سے شادی رچا رہے ہیں اور انہیں اسلام سے دور کر رہے ہیں۔

مسلمانوں سے گزارش ہے کہ آپ اپنی قوم کی ضرورتیں پوری کریں۔اپنی بہن بیٹیوں کی حفاظت کریں۔اسلام کی سربلندی کی کوشش کریں۔

غیروں کی موت پر آخری رسم ان کے گھر والوں کو انجام دینا ہے۔مسلمانوں کو اس میں شریک ہونا گناہ ہے۔خدا ناخواستہ آپ بھی کورونا میں مبتلا ہو جائیں تو سارا الزام آپ پر عائد ہو گا کہ یہی لوگ کورونا پھیلا رہے ہیں۔

اللہ و رسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کو خوش کرنے کی کوشش کریں۔اسی میں کامیابی ہے۔اس قدر سیکولر نہ بن جائیں کہ ایمان بھی ہاتھ سے چلا جائے اور آپ پر بھی تباہی آ جائے۔ساتھ میں پوری قوم بدنام ہو۔

جو لوگ اپنے والدین کی آخری رسم انجام نہیں دے رہے ہیں۔ان کے سارے احسانات بھلا بیٹھے۔وہ آپ کے احسان کو بھی پلک جھپکتے بھلا بیٹھیں گے۔

وہ اپنے بھائی اور اولاد کی محبت سے دستبردار ہو گئے۔مصیبت آئی تو ان کے قریب بھی نہیں جاتے تو ایسے لوگ آپ کی محبتوں کو کیسے یاد رکھیں گے۔وہ آپ سے بھی منہ پھیر لیں گے۔آپ اپنی حفاظت کریں۔نہ کسی کو تکلیف دیں۔نہ کسی کے سبب خود کو مصیبت میں مبتلا کریں۔

علامہ طارق انور مصباحی (کیرلا)

جاری کردہ:یکم مئی 2021