پیشہ ور گداگروں اور بھکاریوں کو زکوۃ و خیرات دینے کا حکم

سیدی امام اہل سنت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ پیشہ ور گداگروں کو زکوۃ و خیرات کا مال دینے سے زکوۃ ادا ہوتی ہے یا نہیں اور مذہبی و تمدنی نقطہ نظر سے کہاں تک یہ گر وہ زکوۃ کا مستحق ہے اوپیشہ ورگداگروں کی ہمت افزائی نہ کرنا کہاں تک جائزہے؟

الجواب :گدائی تین قسم ہے:

ایک غنی مالدار جیسے اکثر جوگی اور سادھو بچے، انھیں سوال کرنا حرام اور انھیں دینا حرام، اور ان کے دئے سے زکوۃ ادانہیں ہوسکتی، فرض سرپر باقی رہے گا۔

دوسرے وہ کہ واقع میں قدر نصاب کے مالک نہیں مگر قوی و تندرست کسب پر قادر ہیں اور سوال کسی ایسی ضروریات کے لیے نہیں جوان کے کسب سے باہر ہوکوئی حرفت یا مزدوری نہیں کی جاتی مفت کا کھانا کھانے کے عادی ہیں اور اس کے لیے بھیک مانگتے پھرتے ہیں انھیں سوال کرنا حرام، اور جو کچھ انھیں اس سے ملے وہ ان کے حق میں خبیث کہ حدیث شریف میں:لاتحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سوی۔

صدقہ حلال نہیں کسی غنی کے لیے اورنہ کسی توانا و تندرست کے لیے(ت)

(جامع الترمذی،ابواب الزکوۃ باب ماجاء من لاتحل لہ لصدقۃ ،امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ، ۱ /۸۳)

انھیں بھیک دینا منع ہے کہ معصیت پر اعانت ہے، لوگ اگر نہ دیں تو مجبور ہوں کچھ محنت مزدوری کریں۔قال ﷲتعالی ولا تعاونواعلی الاثم والعدوان۔

ﷲتعالی کا مبارک فرمان ہے: گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو(ت)

(القرآن ۵ /۲)

مگر ان کے دئے سے زکوۃ ادا ہوجائیگی جبکہ اور کوئی مانع شرعی نہ ہو کہ فقیرہیں،قال ﷲتعالی انماالصدقت للفقراء

ﷲتعالی کا فرمان مبارک ہے صدقات فقراء کے لیے ہیں(ت)

( القرآن ۹ /۶۰)

تیسرے وہ عاجز نا تواں کہ نہ مال رکھتے ہیں نہ کسب پر قدرت، یا جتنے کی حاجت ہے اتنا کمانے پر قادر نہیں، انھیں بقدر حاجت سوال حلال، اور اس سے جو کچھ ملے ان کے لیے طیب، اور یہ عمدہ مصارف زکوۃ سے ہیں اور انھیں دینا باعث اجر عظیم، یہی ہیں وہ جنھیں جھڑکنا حرام ہے۔

وﷲتعالی اعلم

(فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 253 بتغییر یسیر)

پیشکش

ابو الحسن محمد شعیب خان

18 مئی 2020