عبادت کے ہوتے دنیا و آخرت کا بڑا خسارہ ؟؟

دوران تلاوت یہ آیت آئی تو کپکی طاری ہو گئی ۔ اور ایسا لگا کہ ہمارے موجودہ حالات کی ابتری کی ایک وجہ یہی ہے !

🌹وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ( سورة الحج 11)

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی عبادت اوپر اوپر سے یا یک طرفہ سی کرتے ہیں ۔ ( اور وہ کچھ ایسے ) کہ اگر اچھائی ملتی رہے تو اس دین پر مطمئن رہتے ہیں اور اگر کوئی فتنہ آن گھیرے تو جدھر منہ اٹھے ادھر ہی ہو جاتے ہیں ۔ دنیا بھی ہاتھ سے چھوٹی اور آخرت بھی ۔ اور یہی تو واضح خسارہ ہے ۔

✒️ دین کی بنیاد پر طرح طرح کی راحتیں ، نعمتیں میسر رہنے پر رب رب کرنے والے بہت ایسے ہیں جو اسی دین کے لیئے کچھ آزمائش آ جانے پر یا بطور امتحان کچھ نقصان ہو جانے یا صرف اندیشہ مضرت پر یہ سب بھول کر ، چھوڑ چھاڑ کر دیگر سہاروں اور اسباب عیش کی راہوں پر چل پڑتے ہیں ۔ غیرت خداوندی کو یہ منافقت کب گوارا ہو سکتی ہے سو ان راہوں کا اختیار کرنا ہی بڑے خسارے کا آغاز ہو جاتا ہے ۔ اور وہ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم کا مجسم نمونہ بن جاتے ہیں ۔

زبان پر اللّٰہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ تبارک وتعالیٰ علیہ و علی آلہ واصحابہ وبارک وسلم کی باتیں ہوں ، تذکرے ریاست مدینہ منورہ کے ہوں ، دعاوی خدام الحرمین الشریفین ہونے کے ہوں اور دلی تمناؤں و محبتوں کا مرکز ہنود و یہود و نصارٰی وغیرہ اعدائے اسلام ہوں ، اقدامات سارے ان دشمنوں کی مرضی کے مطابق ہوں تو اللّٰہ کا غضب اور ذلت و رسوائی و خواری اور طرح طرح کی وبائیں ہی شامل احوال رہیں گی۔ ہر کوشش بجائے نفع بخش ہونے کے موجب خسران ہی ہو گی ۔

فقیر خالد محمود

جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبریٰ

22 رمضان 1442

5 مئی 2021

بدھ