وابیہ کی قرآن فہمی کا نچوڑ!

زندہ سے مدد صالح عمل

اور غائب اور مردہ سے مدد شرک

یعنی انکے بقول

زندہ اور سامنے بیٹھے کی عبادت کرنا صالح عمل

اور غائب اور مردہ کی عبادت کرنا شرک

جبکہ یہ اتنے پاگل لوگ ہیں

غائب اور دور والے اور مردہ سے مدد لینا شرک تو ہے ہی نہیں

کیونکہ اللہ تو ان صفات سے پاک ہے

نہ اللہ غائب ہے

نہ اللہ دور ہے

اور نہ ہی اسکو موت آتی ہے

لہذا جس چیز کو شرک سمجھا جا رہا ہے اس میں اللہ کو بھی شریک کر دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔

جبکہ شرک یہ ہے کہ کسی بت چاہے غائب ہو یا سامنے

اسکو اللہ کا ولی بنا لینا اور اللہ کے مقابل اس میں الوہیت ماننا

یہ ہے اصل شرک ۔۔۔۔۔۔۔

نہ کہ انکا توسل اختیار کرنا کوئی شرک تھا۔۔۔۔

کیونکہ

غیر اللہ کی عبادت شرک ہے اور غیر اللہ میں صفات باری تعالی ویسا ماننا جیسے اللہ کے لیے مانتے ہیں شرک ہے چاہے وہ غیر اللہ سامنے ہو یا غائب ہو

اس لیے مدد لینا ہمارے نزدیک شرک نہیں۔

چاہے زندہ سے ہو یا مردہ سے کیونکہ مدد کرنے کی صفت اللہ میں مستقل ذاتی ہے

اور

غیر اللہ میں عطائی اور غیر مستقل اور فانی ہے

چاہے وہ زندہ ہو یا مردہ

جس طرح کچھ صفات میں ہم اللہ کے ساتھ شریک ہیں

لیکن تین فرق ہیں

اللہ کی صفات ذاتی و ازلی

مستقل غیر فانی

اور

لا محدود

جبکہ مخلوق کی صفات

عطائی و حادث

فانی غیر مستقل

اور محدود ہیں

اب یہی صفات سامنے رکھ لیں

اللہ سمیع و بصیر ہے

ہم بھی سنتے دیکھتے ہیں

اللہ قہار ہے

غصہ ہم کو بھی آتا ہے

اللہ خوش ہوتا ہے

ہم بھی ہوتے ہیں

اللہ حاکم ہے

دنیامین بھی ہم حاکم مانتے ہیں

اللہ قادر مطلق ہے

ہم کو بھی اختیار دیا گیا ہے

یہاں تک وابی بھی مانتے ہین

اب زندہ کے لیے یہ صفات ماننے سے انکے بقول اللہ کے ساتھ شرک نہیں

مردہ میں یہ صفات مان لیں پھر اللہ سے شرک

انکو سمجھ آج تک یہ نہیں آیا کہ شرک وہ امر ہے جو ہر حال میں شرک ہے

اور صالح عمل ہر حال میں صالح ہے

جب تک کرنے والے کا عقیدہ خراب نہیں ہوتا اور شریعت کی خلاف ورزی نہ کرے

جب تک آپ غیر اللہ چاہے مردہ ہو یا زندہ

مدد مانگے گے شرک نہیں ہوگا جب تک آپکا عقیدہ یہ ہے

کہ نہ ہی یہ اللہ کی طرح مستقل مددگار ہے

نہ ہی اسکی صفات ساری اسکی اپنی ذاتی ہیں

اور نہ ہی یہ لا محدود ہیں

بلکہ یہ ہماری التجاء اللہ کے حضور پیش کریگا۔