مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

کہیں تمنا ادھوری نہ رہ جائے

بھارت میں مارچ 2020 سے کورونا وائرس کا حملہ تیز ہوا۔خبر کے مطابق اس سے قبل بھی اکا دکا معاملہ درپیش ہوا تھا۔

اس قلیل مدت میں اس وائرس کے سبب نہ جانے کتنے لوگ ہلاک ہو گئے۔درمیان میں کچھ مدت کے لئے لاک ڈاؤن ختم ہو گیا تھا اور معمول کے مطابق بازار کھل گئے تھے۔اب ماہ اپریل 2021سے پھر کورونا اپنا رنگ دکھلانے لگا ہے۔

جب درمیان میں کورونا کا حملہ کچھ تھم گیا تھا تو ملک میں ماب لنچنگ کی واردات پھر سے شروع ہو گئی تھی۔فرقہ وارانہ قلوب واذہان سے ذرا سے خوف دور ہوتا ہے کہ وہ اپنی شرارت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

ملک میں نفرت وعداوت کو فروغ دینے کے لئے اپنی ظالمانہ حرکتیں شروع کر دیتے ہیں۔

ہمارے ملک میں دہریوں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے۔دہریوں کو چھوڑ دیں تو ہر قوم اور ہر شخص مانتا ہے کہ کوئی ایسی قوت ہے جس کے قبضے میں دنیا کا نظام ہے۔

بھارت کے غیر مسلم بھی کہتے ہیں کہ سب کچھ اوپر والے کے ہاتھ میں ہے,یعنی ہر کوئی مانتا ہے کہ کوئی ہے جس کی قدرت میں سب کچھ ہے۔اس کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ہر دھرم کے لوگ اتنا ضرور مانتے ہیں۔

سب کچھ ماننے اور جاننے کے باوجود اس احکم الحاکمین سے بے خوف ہو کر انسانوں پر ظلم کرنا اور ملک کے امن و سلامتی کو تباہ کرنا بے وقوفی ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ ہندو راشٹر کا خواب دیکھتے دیکھتے دنیا چھوڑنا پڑنے۔جب اس حاکم اصلی کی مشیت نہیں ہو گی تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کورونا ایک سازش ہے یا قہر خداوندی۔اس کی لپیٹ میں امیر وغریب سب لوگ پھنستے جا رہے ہیں۔

عام آدمی بھی موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور حکومت کی گدیوں پر بیٹھے لوگ آکسیجن لیتے ہوئے دنیا چھوڑ رہے ہیں۔

ساری تمنائیں اپنے پیچھے چھوڑتے جا رہے ہیں۔تعجب یہ ہے کہ سب کچھ دیکھ سن کر بھی لوگ انسانیت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ظلم وستم اور سازشوں کی گرم بازاری ہے۔

ساری نعمتیں جوں کی توں موجود ہیں,لیکن آکسیجن فری میں ملتا تھا,اب وہ بھی پیسوں سے مل رہا ہے,بلکہ پیسے ہاتھوں میں لے کر لوگ دوڑ لگا رہے ہیں,لیکن آکسیجن مل نہیں پا رہا ہے۔جن کو مل بھی گیا تو وہ لوگ بھی حقہ پیتے ہوئے کوچ کر رہے ہیں۔

اللہ سے ڈرو۔کہیں ساری تمنائیں ادھوری نہ رہ جائیں۔حکومت و سلطنت کی بجائے مخلوق خداوندی کی خدمت کرو۔ظلم وستم سے توبہ کرو۔کل کیا ہو گا,کسی کو معلوم نہیں۔دیکھتے دیکھتے لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

اب اپنا نعرہ بدلو۔اب یہ نعرہ لگاؤ۔

اب کی بار::انسانیت کی سرکار

اسی پر غور کرو۔اسی کی کوشش کرو۔سیاست وحکومت کی بجائے انسانیت کی خدمت کرو۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:05:مئی 2021