کیا فوت ہونے والے لوگوں پر زندہ لوگوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں ؟؟؟؟ صحابی رسولﷺ حضرت ابو درداء کی گواہی!!!!!

ازقلم : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

امام عبداللہ بن مبارک اپنی تصنیف الزھد میں ایک باب قائم کرتے ہیں :

بَابٌ فِي عَرْضِ عَمَلِ الْأَحْيَاءِ عَلَى الْأَمْوَاتِ

پھر اس میں روایت بیان کرتے ہیں :

أنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي عبد الرحمن بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى مَوْتَاكُمْ، فَيُسَرُّونَ وَيُسَاءُونَ» قَالَ: يَقُولُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَعْمَلَ عَمَلًا يُخْزَى بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ

امام عبد الرحمن بن جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو درداء فرماتے تھے :

چونکہ زندوں کے اعمال مردوں پر پیش کیے جاتے ہیں پھر (راوی فرماتا ہے ) اس لیے ابو الدرداء فرمایا کرتے تھے کہ: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے عمل سے جس سے عبد اللہ بن رواحہ کی نظر میں میری رسوائی ہو

[ الزهد والرقائق لابن المبارك جلد2 ، ص 42]

(نوٹ: نسخہ میں غلطی سے عبد الرحمن جن جبیر کی بجائے عبداللہ بن جبیر لکھا گیا ہے جو کہ خطاء ہے کیونکہ جبیر بن نفیر کے بیٹے کا نام عبد الرحمن بن جبیر تھا عبداللہ انکا کوئی بیٹا تھا ہی نہیں

اس روایت کو امام ابن ابی الدنیا نے بھی اپنی سند سے امام ابن مبارک سے بیان کیا ہے اور اس سند میں صحیح نام لکھا ہوا ہے

دَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثني مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، ۔۔۔۔

[المنامات لابن ابی الدنيا: صفحہ9 ، رقم 4]

سند کے رجال کا مختصر تعارف!!!

۱۔ صفوان بن عمرو بن هرم السكسكي

قال أحمد: ليس به بأس.

وقال أبو حاتم: سألت يحيى بن معين عنه، فأثنى عليه خيرا.

وقال الفلاس: ثبت في الحديث.

وقال ابن سعد: كان ثقة، مأمونا.

[سیر اعلام النبلاء برقم : 160]

۲۔عبد الرحمن بن جبير، بجيم وموحدة، مصغر، ابن نفير، بنون وفاء، مصغر، الحضرمي، الحمصي: ثقة

[تقریب التہذیب برقم :3827]

چونکہ انکی روایت حضرت ابو درداء سے ہے اور محدث فورم پر کسی مجہول نے اس روایت پر درجہ ذیل اعتراض کیا ہوا تھا :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الذہبی کتاب العبر في خبر من غبر میں لکھتے ہیں کہ:

عبد الرحمن بن جبيْر بن نفَير الحضرمِي الحمصي. وهو مُكْثرٌ عن أبيه وغيره. ولا أعلمه روى عن الصحابة. وقد رأى جماعة من الصحابة

ترجمہ: عبد الرحمن بن جبير بن نفير الحضرمی الحمصی اپنے باپ سے بہت سی روایات کی ہیں اور میں نہیں جانتا ان کی صحابہ سے کوئی روایت اور انہوں نے صحابہ کو دیکھا ہے –

(العبر فی خبر من غبر: جلد ١ ، صفحہ ١١٤ ، دار الکتب العلمیہ – بیروت)

ابن ماکولا لکھتے ہیں کہ:

جبير بن نفير من قدماء التابعين، روى عن أبيه وغيره. وابنه عبد الرحمن بن جبير بن نفير

ترجمہ: جبير بن نفير قدیم تابعين میں سے ہیں اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بیٹے عبد الرحمن بن جبير بن نفير ہیں

(الاكمال فی رفع الارتياب عن المؤتلف والمختلف فی الاسماء والكنی والانساب: جلد ٧ ، صفحہ ٢٧٥ ، دار الکتب العلمیہ – بیروت – لبنان)

عبد الرحمن بن جبير بن نفير کا صحابہ سے سماع ثابت نہیں اور ان کے باپ خود تابعی ہیں –

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


الجواب


معلوم نہیں محدث فورم پر کن مجہولیوں کو ہائیر کیا ہوا ہے جو علم رجال سے کھیلتے ہیں یا پھر جان بوجھ کر جہالت بکھیرتے ہیں

متعرض کا مقصد یہ تھا کہ عبد الرحمن کا والد جب تابعی ہے قدیم تو اسکے بیٹے کا کیسے سماع ہو سکتا ہے

اور امام ذھبی کی عبارت العبر سے بطور پھکی لگا کر بد دیانتی کی ہے

اب ہم اسکا جواب پیش کرتے ہیں اللہ کے کرم سے!!!!!

امام ذھبی نے العبر میں فیصلہ نہیں دیا کہ عبد الرحمن بن جبیر کا سماع صحابہ سے ثابت ہی نہیں بلکہ انہوں نے فقط اپنی لا علمی کا اظہار کیا ہے

دوسری بات امام ذھبی اپنے اس موقف سے رجوع کر گئے تھے

جیسا کہ الکاشف میں امام ذھبی فرماتے ہیں :

عبد الرحمن بن جبير بن نفير الحضرمي عن أبيه وأنس وكثير بن مرة وعنه الزبيدي ومعاوية بن صالح ثقة مات 118

عبد الرحمن بن جیر یہ اپنے والد سے بیان کرتا ہے ، حضرت انس بن مالک سے اور کثیر بن مرہ سے ۔۔۔ اور ان سے زبیدی اور معاویہ بن صالح بیان کرتے ہیں

انکی وفات 118ھ میں ہوئی تھی

[الکاشف برقم : 3164]

تو امام ذھبی نے حضرت انس سے انکا سماع تسلیم کیا ہے

اسکے علاوہ عبد الرحمن بن جبیر کی روایت حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے بھی صحیح مسلم میں موجود ہے

اور امام ذھبی نے بھی اسکو سیر اعلام میں نقل کیا ہے

اسکے علاوہ متقدمین کے ناقدین نے بھی عبد الرحمن بن جبیر کو تابعین میں ہی شمار کیا ہے

جیسا کہ امام عجلی انکے بارے فرماتے ہیں :

عبد الرحمن بن جبير: “مصري”، تابعي، ثقة.

[الثقات العجلی ، برقم : 940]

اور امام ابن حبان لکھے ہیں :

عبد الرحمن بن جبير بن نفير بن مالك بن عامر الحضرمي سمع عبد الله بن عمرو روى عن جماعة من الصحابة

بن جبیر یہ عبداللہ بن عمرو سے روایت کرتے ہیں اور صحابہ کی ایک جماعت سے روایت کرتے ہیں

[الثقات ابن حبان ،برقم:3941]

معلوم ہوا انکا سماع صحابہ کی ایک جماعت سے ہے اور کسی نے بھی انکے سماع کی نفی نہیں کی ہے

جو اعتراض کیا گیا کہ انکا سماع نہیں وہ بالکل غلط ہے

اور باقی انکے والد تابعی تھے تو وہ قدیم تابعی تھے وہ نبی اکرمﷺ کی زندگی میں ہی پیدا ہوئے تھے

جیسا کہ امام ذھبی فرماتے ہیں :

جبير بن نفير الحضرمي الحمصي: ولد في حياة النبي صلى الله عليه وسلم

[سیر اعلام النبلاء]

تو محدث فورم کے مجہولیے کا یہ قیاس کرنا کہ والد تابعی ہے تو بیٹا کیسے ہو سکتا ہے یہ فضول ہے کیونکہ والد قدیم تابعی ہے اور بیٹا صغیر تابعی ہے

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اسکی سند متصل ہے اور راویان ثقہ ہیں

اسی طرح البانی صاحب نے بھی اسکو قبول کیا ہے بطور شواہد

جیسا کہ وہ لکھتے ہیں :

وجدت لبعضه شاهدا آخر من طريق عبد الله بن جبير بن نفير أن

أبا الدرداء كان يقول: ” إن أعمالكم تعرض على موتاكم فيسرون، ويساؤون “.

أخرجه نعيم بن حماد في ” زوائد الزهد ” (42 / 165) : أنبأنا صفوان بن عمرو

قال: حدثني عبد الله بن جبير بن نفير أن أبا الدرداء كان يقول: فذكره. قلت:

وهذا إسناد رجاله ثقات،

سند کی کی تصحیح کرتے ہوئے وہ آگے لکھتے ہیں :

فعلى الأول الإسناد متصل،

[ سلسلة الأحاديث الصحيحة برقم :2759]

تو ثابت ہوا کہ صحابہ کرام کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ وفات پانے والے عزیز لوگوں کو ہمارے اعمال پہنچتے ہیں

یہ بھی یاد رہے صحیح الاسناد یہ روایت بھی ثابت ہے کہ نبی اکرمﷺ کو بھی امتیوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں

دعاگو : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی