مسلمانو تمہیں قبلہ اوّل پکار رہا ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میرے محترم مسلمانو : ہم جسے عام طور پر “مسجد اقصی” کہتے ہیں، اسے اور بھی دوسرے ناموں مثلا : “المسجد الأقصی” اور “الحرم القدسي الشریف” وغیرہ سے جانا جاتا ہے ۔ یہ تاریخی مسجد ، فلسطین کے شہر یروشلم (القدس) میں واقع ہے ، جو ان دنوں غاصب صہیونی ریاست اسرائيل کے قبضے میں ہے ۔ یہ مسجد مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے تقریبا سولہ یا سترہ مہینے تک مسجد اقصی کی طرف رخ کرکے نمازیں ادا کی ۔ شرعی طور پر اہمیت وفضیلت کے اعتبار سے مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد ، مسجد اقصی کا مقام ومرتبہ ہے۔ قرآن وحدیث میں مختلف جگہوں پر اس مبارک مسجد کا ذکر آیا ہے ۔ اس مسجد کے ارد گرد کی جگہوں کو برکت والی جگہیں کہا گیا ہے ۔ انہیں وجوہات کے پیش نظر دنیا بھر کے مسلمان مسجد اقصی اور قدس کو بڑی عقیدت ومحبت سے دیکھتے ہیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو معراج کے موقع سے مسجد حرام سے جس جگہ لے جایا گیا ، وہ یہی مسجد اقصی ہے۔ آپؐ نے اس مسجد میں سارے انبیاء علیہم السلام کی امامت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اسی مسجد سے سفر معراج پر روانہ ہوئے ۔ مسجد حرام سے مسجد اقصی کے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اس مبارک سفر کو قرآن نے کریم نے یوں بیان کیا ہے : سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بارَكْنا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آياتِنا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ۔ (سورۃ الاسراء:1) ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی ، جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں ، تاکہ ہم انھیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں ۔ بے شک وہ ہر بات سننے والی اور ہر چیز دیکھنے والی ذات ہے ۔

مسجد اقصی کو مسلمانوں کا “قبلۂ اوّل” ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے، مدینہ منورہ تشریف لائے ؛ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پہلے مسجد اقصی کی جانب ہی رخ کر کے تقریبا سترہ مہینے تک نمازیں ادا کرتے رہے ۔ صحابی رسول حضرت بَرَاء بن عازِب فرماتے ہیں : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَيْتِ المَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ البَيْتِ ۔ (صحیح البخاری: 4486)

ترجمہ: نی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی ؛ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا قبلہ بیت اللہ (کعبہ شریف) کی طرف ہو ۔

مسجد اقصی وہ مسجد ہے جس کی بنیاد روئے زمین پر مسجد حرام کے تقریبا چالیس سال بعد رکھی گئی ۔ اس حوالے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں : سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ ، الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى ، قُلْتُ : كَمْ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ عَامًا ، ثُمَّ الْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ ، فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ ۔ (صحیح مسلم: 520) ترجمہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم روئے زمین پر سب سے پہلے تعمیر کی جانے والی مسجد کے حوالے سے سوال کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جواب دیا : مسجد حرام ۔ میں نے سوال کیا : پھر کون (اس کے بعد کون سی مسجد تعمیر کی گئی) ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جواب دیا : “مسجد اقصی”۔ میں نے سوال کیا : ان دونوں کی تعمیر کے دوران کتنا وقفہ ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جواب دیا : “چالیس سال ، پھر پوری زمین تیرے لیے مسجد ہے ، جہاں بھی تمھیں نماز کا وقت آجائے ، نماز پڑھ لو ۔

اس حدیث شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السّلام نے “مسجد حرام” کی تاسیس کے 40/سال بعد مسجد اقصی کی بنیاد رکھی ۔ محدثین نے مزید وضاحت یہ کی ہے کہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ مشرفہ کی تعمیری تجدید کی ، اسی طرح مسجد اقصی کی تجدید یعقوب علیہ السلام یا داؤد علیہ السلام نے کی اور سلیمان علیہ السلام نے اس کی تکمیل کی ۔

ایک حدیث شریف میں مسجد اقصی سے حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر ، حج یا عمرہ ادا کرنے والے کو اگلے اور پچھلے گناہوں کے معافی کی بشارت دی گئی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زوجہ حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نطی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا : مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ ، أَوْ عُمْرَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَا تَأَخَّرَ – أَوْ – وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ۔ (سنن ابي داؤد: 1741)

ترجمہ : جس نے مسجد اقصی سے مسجد حرام کے لیے حج یا عمرہ کا احرام باندھا ، اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے – یا – جنت اس کے لیے واجب ہوجائے گی ۔

مسجد اقصی ان تین مساجد میں سے ایک ہے جن میں عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کی نیت سے سفر کرنا باعث ثواب ہے ۔ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث کو مختلف ابواب کے ذیل میں ذکر کیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ : المَسْجِدِ الحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى ۔ (صحیح بخاری:1189)

ترجمہ : (عبادت کی نیت سے) صرف تین مسجدوں کے لیے ہی سفر کیا جائے (اور وہ ہیں) : مسجد حرام ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی مسجد (مسجد نبوی) اور مسجد اقصی ۔

ایک حدیث شریف میں مسجد اقصی میں ایک پڑھی جانے والی نماز کا ثواب، پچاس ہزار نمازوں کے ثواب کے برابر بتایا گیا ہے ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ بِصَلَاةٍ ، وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً، وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُجَمَّعُ فِيهِ بِخَمْسِ مِائَةِ صَلَاةٍ ، وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ، وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ ۔ (سنن ابن ماجہ: 1413،چشتی)

ترجمہ : ایک آدمی کی ایک نماز اپنے گھر میں ، (ثواب میں) ایک نماز کے برابر ہے، اس کی نمازمحلے کی مسجد میں ، پچیس نمازوں کے برابر ہے، اس کی نماز جامع مسجد میں ، پانچ سو نمازوں کے برابر ہے ، اس کی نماز مسجد اقصی میں ، پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے ، (اسی طرح) اس کی نماز میری مسجد (مسجد نبوی) میں ، پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور اسی شخص کی ایک نماز مسجد حرام میں ، ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے ۔

مسجد اقصی کی یہ بھی ایک خصوصیت ہے کہ اسی مسجد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سفر معراج ہوا ۔ اسی سفر معراج میں آپ کو نماز کا تحفہ دیا گیا ۔ یہ واقعہ بخاری شریف میں ایک لمبی حدیث میں آیا ہے ۔نماز والے حصے کا حاصل یہ ہے کہ اوّلاً اللہ تعالی نے اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو پچاس نمازوں کا تحفہ دیا ۔ پھر حضرت موسی علیہ السلام کے کہنے پرکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی امت ان پچاس نمازوں کی ادائیگی نہیں کر پائے گی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تعالی سے نماز کی تعداد کی کمی کی درخواست کی ۔ پھر اللہ تعالی نے اس نماز کو کم کرتے کرتے پانچ نمازیں امت محمدیہ کے لیے باقی رکھی ۔ (صحیح بخاری: 349،چشتی)

پہلی صلیبی جنگ کے بعد، جب 15/جولائی 1099ء کوعیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہوا ؛ تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا ۔ پھرصلاح الدین ایوبی رحمة اللہ علیہ نے 538ھ/1187ء میں بیت المقدس کو فتح کیا ؛ تو مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے خرافات سے پاک کیا ۔ 88 سالوں کے علاوہ ، عہد فاروقی رضی اللہ عنہ سے بیت المقدس اور مسجد اقصی مسلمانوں کے قبضے میں رہے ہیں ۔

اے میرے قبلہ اوّل ! تو آج کس حال میں ہے ؟

تجھے اپنوں کی لاپرواہی نے کیسا لاچار بنا دیا ہے؟

تیرے چاہنے والوں کی کمزوری اور تیرے دشمنوں کی مکاری نے تجھے کیسی تکلیف اور غم میں ڈال رکھا ہے ؟

تیرے مبارک در و دیوار جہاں فرشتے بھی اپنے پر آہستہ مارتے تھے مگر اب بدبخت یہودیوں کے اسلحے کی ٹھوکریں تجھے کتنارنج دیتی ہوں گی ؟

تیری وہ سجدہ گاہیں جہاں کبھی مقدس ترین ہستیاں ، نبوت کے پیکر پیغمبرانِ الٰہی سجدہ ریز ہوتے تھے اب وہاں مجرم یہودیوں کے ناپاک بوٹوں کی دھمک سائی دیتی ہے … جہاں کبھی تکبیر وتہلیل اور تسبیح و تحمید کے زمزمے گونجتے تھے مگر اب دھتکاری ہوئی یہودی قوم کے منحوس فوجیوں کے غلیظ اور بدبودار نعرے وہاں تعفن پھیلاتے ہیں تو تجھے ان سے کتنی گِھن آتی ہو گی ؟

ہاں ! ان دلخراش حالات سے مسلمانوں کے سینے زخمی ہیں ، اہلِ دل اس پر تڑپتے ہیں ، تجھ سے محبت رکھنے والے مجھ فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی جیسے لوگ یہ حالت دیکھ کر روتے اور آہیں بھرتے ہیں ، کوئی تجھ پر قربان ہونا چاہتا ہے مگر رکاوٹوں کے اتنے پہاڑ ہیں کہ اس کی ہمت جواب دے جاتی ہے ، کوئی تجھے ستانے والے یہودیوں پر آگ بن کر برسنا چاہتا ہے مگر وہ تجھ سے بہت دور بیٹھ کر تیرے غم میں تیرا شریک ہوکر بے چین رہتا ہے …تو سعادتوں کا مرکز مگر آج تجھے شقاوت کے مارے یہودیوں نے گھیر رکھا ہے ، تو برکتوں کا گھر مگر آج تجھے غضب کی ماری قوم نے اجاڑ رکھا ہے … لیکن یاد رکھنا ! بہت جلد تیرے چاہنے والے ، تیری عزت اور تقدس کو پہچاننے والے تجھے ان ظالموں کے چنگل سے آزاد کروائیں گے، عن قریب پھر وہ دن آئیں گے جب تکبیر کے پاکیزہ نعرے تجھ میں گونجیں گے ، عن قریب سعادت مند لوگ کی جبین نیاز تیری زمین کے بوسے لے گی ۔ بہت جلد ۔ ان شاء اللہ ۔

محترم قارئینِ کرام : مسجد اقصی عام مساجد سے بہت بلند اور اونچی شان رکھتی ہے، اس کے دامن میں بے بہا برکتیں اور سعادتیں رکھ دی گئی ہیں ، اہل ایمان کے دلوں میں اس مسجد کی بڑی وقعت اور محبت رچی بسی ہوئی ہے ، قرآن وسنت میں اس مسجد کی فضیلت پر کئی دلائل اور ارشادات موجود ہیں جنہوں پڑھ کر ایک مخلص مومن کے دل میں اس مسجد کی خاص عقیدت اور محبت دل میں اتر جاتی ہے ۔ آئیے آج کی مجلس میں اسی عظیم البرکت مسجد کے کچھ فضائل پڑھتے ہیں جو قرآن و سنت میں ہمیں بتلائے گئے ہیں ۔

تین اہم مساجد میں سے ایک : اس مسجد کی ایک فضیلت اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ مسجد اُن تین مساجد میں شامل ہے جن کی طرف سفر کرنے کی بطورخاص اجازت دی گئی ہے اور اس کی طرف سفر کرنے کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : لا تشد الرحال الا الیٰ ثلاثۃ مساجد: المسجد الحرام، و مسجدالرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ، و مسجد الاقصیٰ ۔ (صحیح بخاری : ۱۱۸۹)

ترجمہ : تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر نہ کیا جائے (اور وہ تین مساجد یہ ہیں) ، مسجد حرام ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ ۔

اگر کوئی انسان عبادت اور تقرب الی اللہ کی نیت سے کسی مسجد کی طرف سفر کر کے جانا چاہتا ہے تو باقی مساجد ثواب کے اعتبار سے برابر ہیں اس لیے ان مساجد میں کسی کو کسی پر ترجیح حاصل نہیں لیکن یہ تین مساجد اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ، اس لیے ان کی طرف سفر کرنا جائز ہے ۔

یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے

جب تک مسلمانوں کےلیے کعبة اللہ کو قبلہ مقرر نہیں کیا گیا تھا اُس وقت تک مسلمانوں کےلیے قبلہ یہی ’’مسجد اقصیٰ‘‘ تھی ، اس طرح یہ مسلمانوں کا پہلا قبلہ تھی ، اس بنیاد پر اس کی جو فضیلت اور مسلمانوں کے دل میں اس کا جو مقام ہونا چاہیے وہ بالکل واضح ہے ۔

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے تقریباً سولہ یا سترہ مہینوں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں پھر ہمارا قبلہ کعبہ کو مقرر کردیا گیا ۔ (صحیح بخاری : ۳۳۹۲،چشتی)

زمین پر قائم ہونے والی دوسری مسجد : مسجد اقصی کی فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس زمین پر بیت اللہ کے بعد جو مسجد قائم ہوئی وہ یہی مسجد اقصی ہے ۔

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا : مسجد حرام ۔ میں نے پھر پوچھا: اس کے بعد ؟ (یعنی مسجد حرام کے بعدکون سی مسجد بنائی گئی؟) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: مسجد اقصیٰ ۔ (صحیح بخاری : ۳۳۶۶)

مبارک سرزمین سے نسبت : مسجد اقصی کی ایک فضیلت یہ ہے کہ یہ مسجد جس سر زمین پر واقع ہے اللہ تعالی نے اس سر زمین کو مبارک قرار دیا ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے : سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ ۔ (سورہ الاسرا :۱)

ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک سیر کرائی جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے ۔

بعض اہل علم فرماتے ہیں اگر اس مسجد کےلیے اس قرآنی فضیلت کے علاوہ اور کوئی فضیلت نہ ہوتی تب بھی یہی ایک فضیلت اس کی عظمت و بزرگی اور شان کےلیے کافی تھی ۔

جس ملک میں ’’مسجدِ اقصیٰ‘‘ واقع ہے وہاں حق تعالیٰ نے بہت سی ظاہری اور باطنی برکات رکھی ہیں ، مادّی حیثیت سے چشمے ، نہریں ، غلے ، پھل اور میووں کی اِفراط اور رُوحانی اِعتبار سے دیکھا جائے تو کتنے انبیاء و رُسل (علیہم السّلام) کا مسکن و مدفن اوران کے فیوض واَنوار کا سرچشمہ رہا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو وہاں لے جانے میں یہ بھی اِشارہ ہوگا کہ جو کمالات انبیائے بنی اسرائل وغیرہ پر تقسیم ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ذات مقدسہ میں وہ سب جمع کردیئے گئے ، جو نعمتیں بنی اسرائیل پرمبذول ہوئی تھیں ، اُن پراب بنی اِسماعیل کو قبضہ دلایا جانے والا ہے ،’’ کعبہ‘‘ اور ’’بیت المقدس‘‘ دونوں کے انوار وبرکات کی حامل ایک ہی امت ہونے والی ہے ۔ (تفسیر نعیمی ، تفسیر قرطبی ، تفسیر تبیان القرآن،چشتی)

سرزمین محشر : مسجد اقصی کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ جس سرزمین پر واقع ہے وہ سرزمین حشر ونشر کی جگہ ہے ۔

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہمیں بیت المقدس کے بارے میں بتلائیے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : وہ سرزمین حشر ونشر کی جگہ ہے ۔ (سنن ابن ماجہ: ۱۴۰۷،چشتی)

معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ایک منزل : مسجد اقصیٰ کی ایک یہ فضیلت بھی قابل ذکر ہے کہ جس وقت اللہ تعالی نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عظیم اعزاز معراج کی صورت میں عطاء فرمایا ، جو ایک عظیم معجزہ بھی ہے ، تو سفر میں ایک اہم منزل وہ پڑاؤ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مسجد اقصیٰ میں فرمایا ، پھر یہی وہ جگہ ہے جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو آسمان کی بلندیوں کی طرف لیجایا گیا ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فرماتے ہیں : میرے پاس براق لایا گیا ، یہ ایک سفید رنگت کی لمبی سواری تھی ، گدھے سے کچھ بڑی اورخچر سے کچھ چھوٹی ، اس کا ایک قدم انتہائے نظر کی مسافت پر پڑتا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فرماتے ہیں : میں اُس پر سوار ہوا ، یہاں تک کہ میں بیت المقدس پہنچ گیا ، وہاں پہنچ کر اس سواری کو اس حلقے سے باندھ دیا جس حلقے سے دیگر انبیاء کرام علیہم السّلام (اپنی سواریاں) باندھتے ہیں ، پھر میں مسجد میں داخل ہوا ، اس میںد ورکعات اداء کیں ، پھر باہر نکل آیا، حضرت جبرئیل علیہ السّلام دودھ اورشراب کا ایک الگ الگ برتن میرے پاس لائے ، میں نے ان میں سے دودھ والا برتن لے لیا ، اس پر حضرت جبرئیل علیہ السّلام نے فرمایا : آپ نے فطرت ( کے عین مطابق چیز کو) پسند فرمایا ہے ۔ اس کے بعد وہ ہمیں آسمان کی طرف لے کر چل پڑے ۔ (صحیح مسلم :162،چشتی)

اجرِ نماز میں کئی گُنا اضافہ : اس مسجد کی ایک اہم فضیلت یہ بھی ہے کہ اسلام کے اہم ترین رکن نماز کا اجر و ثواب اس مسجد میں کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مسجد کا مقام و مرتبہ دیگر مساجد کے مقابلے میں ایک امتیازی شان رکھتا ہے ۔

حضرت ابوذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس بیٹھے اس موضوع پر گفتگو کر رہے تھے کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی مسجد (یعنی مسجد نبوی) کی فضیلت زیادہ ہے یا بیت المقدس والی مسجد (یعنی مسجد اقصیٰ) کی ؟ یہ باتیں سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : میری مسجد میں پڑھی جانے والی ایک نماز اُس مسجد (مسجد اقصیٰ) کی چار نمازوں سے افضل ہے ۔ اور وہ نماز کی جگہ تو بہت ہی خوب ہے ۔ عن قریب ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کو اگر گھوڑے کی ایک لگام کے برابر بھی کوئی ایسی جگہ مل جائے کہ جس سے وہ مسجد اقصیٰ کی زیارت کرسکیں تو ان کے نزدیک یہ زیارت پوری دنیا سے بہتر ہوگی ۔ (مستدرک حاکم:4/509،چشتی)

یہ حدیثِ مبارکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی نبوت کی نشانیوں میں سے اور علم غیب میں سے ہے ، اس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس بات کی طرف اشارہ فرما دیا کہ ایک وہ وقت آئے گا جب مسلمانوں کے دلوں میں اس مسجد کی قدر و قیمت بہت بڑھ جائے گی اور اس مسجد کے بارے میں دشمنانِ اسلام کی عداوتیں بہت بڑھ جائیں گی ، ان کی عداوتوں کی وجہ سے مسلمان اس مسجد کےلیے ترسیں گہ حتیٰ کہ انسان یہ سوچے گا کہ کاش اگر مجھے گھوڑے کی لگام جتنی کو ئی ایسی جگہ بھی مل جاتی جہاں سے میں مسجد اقصیٰ کی دیکھ لیتا تو وہ اس خوشی کو دنیا بھر کی خوشیوں سے بہتر سمجھے گا ۔

تمام انبیاء کرام علیہم السّلام کی اجتماع گاہ : ایک طویل حدیثِ مبارکہ میں ہے ، جسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے راویت کیا ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اِسی مسجد میں سب انبیاء علیہم السّلام کی ایک نماز میں امامت کرائی ، حدیثِ مبارکہ کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں : فحانت الصلاۃ فاممتہم ۔

نمازکا وقت آیا تومیں نے ان کی امامت کرائی ۔ (صحیح مسلم: حدیث نمبر 172،چشتی)

دجال سے محفوظ جگہ : مسجد اقصیٰ ایک ایسی پاکیزہ سرزمین میں واقع ہے ، جہاں ’’کانا دجال‘‘ بھی داخل نہیں ہوسکے گا ، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فرمایا : وہ دجال ساری زمین گھومے گا م گر حرم اوربیت المقدس میں داخل نہیں ہوسکے گا ۔ (مسنداحمد ۔حدیث نمبر : 19665،چشتی)

ایک طرف اس عظیم مسجد اور اس علاقے کے یہ فضائل اور مراتب ہیں ، جس کا حق یہ تھا کہ اللہ تعالی کی طرف سے آخری اور افضل امت کا اعزاز پانے والی امت اس مسجد کی قدر کرتی ، اس مسجد کو دینی شعائر سے آباد رکھتی اور ہر قسم کے کفر اور کفریہ تسلط سے پاک رکھتی لیکن ۔ آہ ۔ آج اسی ارضِ مقدس کے مسلمان سخت آزمائشوں کا شکار ہیں ، انہیں وہاں قسما قسم کے تکلیف دِہ حالات کا سامنا ہے ، یہودی ظالم انہیں بلڈوزروں سے روند رہے ہیں ، بچوں کو قتل کررہے ہیں ، عورتوں کو جیلوں میں بند کرتے ہیں ، مسلمان عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں ، بوڑھوں کی تذلیل کرتے ہیں ، نوجوانوں کو گولیوں سے اُڑادیتے ہیں ، اُن کے گھروں کو مسمار کردیتے ہیں ، مسجد اقصی کی حرمت پامال کی جاتی ہے ، یہ سب حالات ہم مسلمانوں سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ان کے غم اور ان کے درد کو محسوس کریں ، ہم ان کےلیے دعاء کو اپنے معمولات کا حصہ بنا لیں اور جہاد کا پختہ عزم کریں ، جہادی قافلے میں شامل ہوجائیں ، تاکہ ان کفار کی جارحیت کا منہ موڑا جائے ۔

یااللہ مسجداقصیٰ کو ظالموں ، سرکشوں اور غاصبوں کے ناپاک ہاتھوں سے پاک فرما ، فسلطینی مسلمانوں کے ضعف اور کمزوری کو ختم فرما ، انہیں قوت عطاء فرما ، ان کے دشمنوں کی تدبیروں کو ناکام فرما ، کافروں کی جنگ کو واپس انہی پر پلٹ دے ۔ یااللہ بلاشبہ تو ہی سب سے بہتر انتقام لینے والا اور مجرموں کو سزا دینے والا ہے ۔ افسوس ہے کہ ادھر چند سالوں سے پھر قدس اور مسجد اقصی غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے قبضے میں ہیں ؛ مگر آج بھی مسجد اقصی اس کا انتظام و انصرام اردن کی “وزارت ِاوقاف اور شئونِ مقدّساتِ اسلامیہ” کے تحت ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی قدس اور مسجد اقصی کو ان ظالم وجابر اور غاصب لوگوں کے قبضے سے آزاد کرادےاور فلسطینیوں کی قربانی بار آور ثابت ہو آمین ۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)