یہودی فناء ہوجائیں گے

امام ابو عبداللہ احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی241ھ) روایت کرتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا

لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ، فَيَقْتُلَهُمُ الْمُسْلِمُونَ، حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءَ الْحَجَرِ، وَالشَّجَرَةِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ، أَوِ الشَّجَرَةُ: يَا مُسْلِمُ، يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ “

“قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی حتی کہ مسلمان اور یہود آپس میں جنگ کریں گے یہود کو مسلمان قتل کریں گے حتی کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا تو پتھر اور درخت کہے گا کہ اے مسلم اے اللہ کے بندے یہ یہودی میرے پیچھے ہے آ اسے قتل کر سوا غرقد کے کہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے”

(مسند أحمد بن حنبل ج15ص 235 رقم الحدیث 9398)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی(1971ھ) اسکی شرح میں فرماتے ہیں

اس حدیث سے معلوم ہورہا تھا کہ یہود کی سلطنت قائم ہوگی اور ان سے مسلمان کی بہت بڑی جنگ ہوگی

آخری جنگ میں مسلمانوں کی فتح اور یہود کی شکست ہوگی بلکہ یہود دنیا سے فنا ہوجائیں گے اور مسلمانوں کے ہاتھوں فنا ہوں گے ان شا اﷲ

چنانچہ یہود کی سلطنت فلسطین میں قائم ہوچکی ہے امریکہ و برطانیہ کی بڑی مدد سے ان کا علاقہ پھیل رہا ہے، ۱۹۶۷ء؁ میں عرب اور یہود کی جنگ ہوئی،مسلمانوں کو اس جنگ میں بڑی تکلیفیں پہنچی حتی کہ اس وقت بیت المقدس پر بھی یہود کا قبضہ ہے

اس عارضی فتح سے یہود کے حوصلے بہت بلند ہوگئے۔ان شاءاﷲ یہ اس جنگ کی تمہید ہے جس کی خبر اس حدیث پاک میں دی گئی

(المراۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 7 ص 251 نعیمی کتب خانہ گجرات)

اللہ تعالی فلسطین کے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے

✍🏻وقار رضا القادری